کامیاب جوان سٹارٹ اپ پاکستان کا تجرباتی آغاز

کامیاب جوان سٹارٹ اپ پاکستان کا تجرباتی آغاز
حکومت پاکستان کی جانب سے سٹارٹ اپ پاکستان کامیاب جوان پروگرام کا ایک فلیگ شپ منصوبہ ہے ، جس میں قومی اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم تیار کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے جو 2023 تک 10 لاکھ نوجوانوں کو کاروبار کی تربیت فراہم کرے گا اور دس ہزار اسٹارٹ اپ لانچ کرے گا۔
تجرباتی بنیادوں پہ سٹارٹ اپ پاکستان کے 8 شہروں کی یونیورسٹیوں اور بیر وینچرز (آئیڈیا جیسٹ) کے درمیان باہمی اشتراک سے منعقد کیا جارہا ہے
مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی جامشورو اور Bir Ventures (IdeaGist) کے زیر اہتمام سٹارٹ اپ پاکستان پروگرام کا آغاز کردیا گیا۔
ابتدائی مرحلے میں سٹارٹ اپ پاکستان کا آغاز 8 یونیورسٹیوں سے ہورہا ہے۔ اس تجرباتی آغاز کی پہلی افتتاحی تقریب قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد، دوسری گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی فیصل آباد، تیسری دی ویمن یونیورسٹی ملتان ، چوتھی تقریب گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ جب کہ پانچویں تقریب آئی بی اے سکھر میں منعقد ہوئی ۔ اس سلسلے کی چھٹی تقریب آج مہران یو ای ٹی جامشورو، حیدرآباد میں منعقد ہوئی۔
حکومت پاکستان کی جانب سے سٹارٹ اپ پاکستان کامیاب جوان پروگرام کا ایک فلیگ شپ منصوبہ ہے ، جس میں قومی سٹارٹ اپ ایکو سسٹم تیار کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے جس کے تحت 2023 تک 10 لاکھ نوجوانوں کو کاروبار کی تربیت فراہم کرنے اور دس ہزار سٹارٹ اپ لانچ کرے کا ہدف رکھا گیا ہے اوراس کے ساتھ ساتھ ملازمتوں اور معاشی سرگرمیوں میں وسعت کا باعث بھی ہو گا۔ توسیع پذیر اور پائیدار سٹارٹ اپ پاکستان کا مقصد واحد ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے پورے ایکو سسٹم کو جوڑنا، انفرادی کے بجائے اجتماعی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی، علوم کا تبادلہ کرنا اور ایک ہی ذریعے سے مالی اعانت / سرمایہ کاری تک رسائی فراہم کرنا ہے۔
دس لاکھ نوجوانوں کو ’کامیاب‘ کروانے کا حکومتی منصوبہ
تقریب کے مہمان خصوصی گورنر سندھ عمران اسماعیل نے سٹارٹ پاکستان کے پائلٹ پروگرام کا افتتاح کیا۔ اپنے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کی موجودگی کی وجہ سے معاشی نمو کے بہت زیادہ امکانات ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سٹارٹ اپ چھوٹا ہوسکتا ہے، لیکن وہ لوگوں کے طرز زندگی کو تبدیل کرنے کے لیے معیشت میں اہم تبدیلیاں لاسکتا ہے۔
وائس چانسلر مہران یو ای ٹی حیدرآباد، پروفیسر ڈاکٹر محمد اسلم عقیلی نے اپنے استقبالیہ خطاب میں انٹرپرینیورشپ اور سٹارٹ اپس کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ جیسا کہ ٹیکنالوجیز میں ترقی سے نئی جہات اور مواقع پیدا ہورہے ہیں ، ایک اچھا سٹارٹ اپ ان مواقع سے فائدہ اٹھاتا ہے ، اور بہترین کاروباری اداروں کے مقابلے میں بڑے پیمانے پر قدر پیدا کرتا ہے۔
سٹارٹ اپ پاکستان کے فوکل پرسن شہزاد گل نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ سٹارٹ اپ پاکستان کیریئر کے انتخاب کے طور پر جدت اور فروغ کے ذریعہ کاروباری ثقافت کی تبدیلی پر توجہ مرکوز کررہا ہے ، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو اگلی نسل کی رہنمائی کرنے کی ترغیب دلائی جارہی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم تربیت کی فراہمی کے ذریعے کارکردگی کو بہتر بنانے اور نوجوانوں کی صلاحیتوں میں اضافے کی طرف قدم بڑھا رہے ہیں۔
تقریب کے شریک میزبان حسن سید ، چیئر پرسن Bir Ventures اور آئیڈیا جیسٹ کے بانی نے نوجوان نسل کو جدت کی دعوت دی کہ علم کی معیشت میں آگے بڑھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ Bir Ventures اپنے دنیا کے سب سے بڑے ڈیجیٹل انکیوبیشن پلیٹ فارم آئیڈیا جسٹ کے ذریعے سٹارٹ اپ پاکستان کی مدد کررہا ہے۔ حسن سید نے وضاحت کی کہ تجرباتی بنیادوں پہ سٹارٹ اپ پاکستان کے 8 شہروں کی یونیورسٹیوں اور بیر وینچرز (آئیڈیا جیسٹ) کے درمیان باہمی اشتراک سے منعقد کیا جارہا ہے۔
بشکریہ: اردو انڈیپنڈنٹ

اپنا تبصرہ بھیجیں