کرونا وائرس اور اقوام عالم


تحریر: آصفہ اقبال


دنیا کی سات ارب آبادی میں شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جو کرونا واٸرس کے نام سے ناواقف یا لا علم رہا ہو۔کرونا واٸرس ایک ایسی وبا جس تک انسانی بینائی رسائی حاصل نہیں کر سکتی ،جس کا مشاہدہ کرنے اور شکل و صورت جاننے کے لیے الیکٹرانک مائی کروسکوپ کے استعمال کی ضرورت پڑتی ہے۔
کرونا واٸرس جس نے دنیا بھر کے تمام ممالک کو ویران اور بے سنسان کر دیا ہے، دنیا کے ایسے طاقتور اور ترقی یافتہ ممالک جو سپر پاور ہونے کا دعویٰ کرتے تھے انہیں بھی اپنی بے بسی اور لاچارگی کا اظہار کرنا پڑ رہا ہے۔
عالم دنیا کی معیشت،سیاست،مذہب، تعلیم غرض زندگی کے تمام شعبہ ہاۓ کو ناکارہ کرکے رکھ دیا ہے۔
کرونا واٸرس ایک ایسی مہلک بیماری جس کے نہ علامات کا علم ہو رہا اور نہ ہی وجوہات کا مگر تمام انسانیت کو اپنی لپیٹ میں لے کر خوف و ہراس اور ذہنی دباٶ میں مبتلا کر دیا ہے۔جس سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے عام آدمی سے لے کر ماہرین طب اور تمام سیاسی قوتیں اکھٹی ہو چکی ہیں مگر اس کا علاج دریافت کرنے میں اب تک ناکام نظر آرہی ہیں۔

سارس (SARs) ایک ایسا واٸرس ہے جو انسانی سانس کی تکلیف کا باعث بنتا ہے۔ اس کا انکشاف بھی 2003 میں چین میں ہی ہوا تھا جس میں8100 افراد متاثر ہوۓ تھےاور 774 اموات واقع ہوئی تھی۔

کرونا واٸرس سارس کی ہی ایک قسم ہےمگر اتنا مہلک اور جان لیوا نہیں جتنا سارس تھا۔ ایک اندازہ کے مطابق سارس کے پھیلنے کی وجہ سے 30 ارب ڈالر کا نقصان ہوا تھا جبکہ کرونا واٸرس کی وجہ سے عالمی معیشت پر اس سے کئی گنا ذیادہ خطرناک اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ماہرین طب کے مطابق کرونا واٸرس ان افراد کو جلد یا بدیر متاثر کر سکتا ہے جن میں قوت مدافعت کی کمی ہوتی ہے۔ ان میں ایسے افراد شامل ہیں جن کو دمہ، نمونیہ،پھپھڑوں یا ذیابیطس کی بیماری لاحق ہو۔ اِن کے علاوہ اب تک دنیا بھر میں کرونا واٸرس کی لپیٹ میں آنے والوں میں ایسے افراد شامل ہیں جو  زیادہ کثرت سے تمباکو نوشی کرتے رہے ہیں۔

چین دنیا کا دوسرا طاقتور ملک ہے،جو اس وبا کی لپیٹ میںسب سے پہلے آیا۔ اس میں متاثر ہونے والے افراد میں زیادہ تعداد مردوں کی تھی،وہ بھی ایسے افراد جو تمباکو نوشی کے عادی تھے۔ کیونکہ سگریٹ استعمال کرنے والوں کو دمہ،نمونیہ اور پھیپھڑوں کی مرض کی وجہ سے خطرہ عام لوگوں کی نسبت ذیادہ ہوتا ہے۔
سوچنے کا مقام ہے کہ ایک ایسا واٸرس جس کو کاٸنات کی اعلی ترین مخلوق یعنی انسان اپنی بینائی کے ذریعے دیکھ نہیں سکتا اور نہ ہی اس کا علاج دریافت کر پایا ہےکہیں یہ کسی خاص قوم کی سوجھی سمجھی سازش تو نہیں؟
کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ اب تک ایسی وبا کبھی نہیں آئی جس نے تمام ممالک کو یکساں وقت اپنی لپیٹ میں لیا ہو، اور وہ ممالک جو سپر پاور ہیں اور اس کی دوا دریافت کرنے میں کسی طرح ناکام رہے ہوں۔
یا پھر یہ سیاسی طاقتوں اور ملکوں کو کمزور کرکے دنیا پر قابض ہونے کی کوئی سازش تو نہیں؟
کیونکہ اس سے پہلے HIV, SARs, anthroxe, Ebola virus کا بھر پور کامیاب تجربہ کیا جا چکا ہے۔
یہ ایسے سوالات ہیں جو میرے ذہن میں کچھ conspiracy theorist کو پڑھنے کے بعد پیدا ہوۓ۔کیونکہ میرے نزدیک بھی یہ کوئی قدرتی وبا نہیں ہے بلکہ کسی خاص تنظیم کی ایسی تدبیر ہے جو عالمی طاقتوں کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ضروری نہیں کہ ہر کوئی اس بات سے متفق ہو مگر میں ذاتی طور پر ان conspiracy theorist سے اتفاق کرتی ہوں جو اسے قدرتی وبا نہیں بلکہ bioterrorism کا نام دیتے ہیں۔
یہ چند ایسی باتیں ہیں جو حقیقی بھی ہو سکتیں ہیں اور غیر حقیقی بھی، یا پھر ایک سوچ جو میرے ذہن و گمان میں گھر کر بیٹھی ہو۔

ان سب سے ہٹ کر اگر ہم نظر اس صورتحال پہ ڈالیں جس سے ہم گزر رہے ہیں تو ہم میں سے ہر ایک کو بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہےکیونکہ انسانی صحت اور زندگی ایک نعمت ہےاور اس کی قدر ہم پر لازم ہے۔خاص طور پر ایسے وقت میں جب انسان ایک حیاتیاتی جنگ لڑ رہا ہو اور اس وقت پوری دنیا میں ایک باٸیولوجیکل جنگ چھڑ چکی ہے جس میں ہم سب نے اپنا کردار اپنے جانوں کی خودحفاظت کرتے ہوۓ ادا کرنا ہے۔

اس مشکل وقت میں آپ کے پاس اپنے آپ کو اور اپنے پیاروں کو محفوظ رکھنے کا واحد ذریعہ آپ کا گھر ہےکیونکہ واٸرس تب تک آپ سے دور ہے جب تک آپ اپنے گھر کے حدود میں ہیں۔جس وقت آپ اپنے گھر کے حدودسے باہر نکلیں گے یہ کبھی بھی اپ کے گھر کا مہمان بن سکتا ہے۔اس لیے خودکی حفاظت کریں،خاص کر بچوں اور بزرگوں کی جن میں قوت مدافعت کم ہوتی ہےاور ایسے افراد جو تمباکو نوشی سے لگاٶ رکھتے ہیں خود کو اس سے دور رکھنے کی کوشش کریں کیونکہ اپ کی جانیں آپ سے ہی نہیں بلکہ اپ کے پیاروں سے بھی جڑی ہوئی ہیں۔

2 تبصرے “کرونا وائرس اور اقوام عالم

  1. بلکل آپ نے درست تحریر کیا ہے اس سازش میں سپرپاور ملک شامل ہیں جن کی اکونیمی مظبوط ہے وہ اپنے پاور کو برقرار رکھنے کے لیے یہ کررونا وئرس کا تجربہ کیا گیا ہے آپ کو پتہ ہوگا 2011میں ایک فلم بھی بنائی گئی تھی وہ کیوں بنائی گئی تھی کوئی سوال نہیں کرتاہے اور یہ فلم امریکہ نے بنایا ہے۔اس وائرس سے امریکہ خود بھی متاثر ہو ا ہے مگر اس کو فرق نہں پڑے گا جو اس وقت میڈیا پے دیکھا رہا ہے وہ سارا جھوٹ ہے دنیا میں خوف پیدا کر دیا ہے اور میں غریب ممالک مزید کمزور ہو گئے ہیں کچھ ٹائم کے بعد امریکہ خود اعلان کر دے جب اس کا مقصد پورا ہو گا تو آپ کو پتہ ہے کل ورلڈ ادرہ صحت نے امریکہ کے ایمہ پر سب ملکوں کو آڈر جاری کیا ہے کہ مزید کچھ دن لاگ ڈؤن میں رہو اس کے پیچھے کچھ ملکوں کے مقاصد ہیں جو پورے ہورہے ہیں ۔اس سازش میں اسرائیل امریکہ کے ساتھ پیش پیش ہے جو خود بیانات بھی جاری کرتا رہتا ہے یہ میرا پرسنل opinion تھا جو میں نے شیر کیا باقی آنے والا وقت خود بتایے گا ۔۔۔

  2. اب تک 400 لو گ Covid 19 بیما ر ی سے لڑ کر صحت یا ب ہو چکے ہین د عا یہی ہے کہ آ گے بھی اسی طر ح ہما ر ی قو م کے لوگ صحت یا ب ہو تے رہین اور اس سے مکلمل نجا ت حا صل کر ین (آ مین)

اپنا تبصرہ بھیجیں