کورونا وائرس اور ہمارے روئیے

تحریر: صاحب مدد شاہ 

کرونا وائرس کے پھیلاو کے بارے طرح طرح کے تاویلات اور توجہات پیش کی جارہی ہیں۔ بہت سے قدامت پرست مذہبی سوچ رکھنے والوں کا خیال ہے کہ یہ خدا کی طرف سے ایک عزاب ہے۔ جبکہ سائینسی و سیکولر سوچ کے حامل لوگ اسے ماحولیا تی تبدیی کی کا شاخصانہ گردانتے ہیں۔

بحر حال ہم اس کو خدا کا عذاب بھی نہیں کہہ سکتے ہیں ہو سکتا ہے اس میں کسی خیر کا کوئی پہلو پنہاں ہو۔ اسے رب کی طرف سے امتحان اس لئے بھی نہیں کہہ سکتے ہیں کیونکہ خدا اپنے نیک بندوں سے امتحان لینے کے لئے انہیں آزمائش میں ڈالتا ہے. منافع خوروں، سود خوروں اور رشوت خوروں پر اللّٰہ کا امتحان کیسا؟ اس کو کافر پر اللّٰہ کا عزاب بھی نہیں کہہ سکتے ہیں۔ پانج وقت کے نمازی اور تبلیگ کرنے والے بھی کرونا وائرس کے شکار ہو چکے ہیں۔ اسے چین اور امریکہ کا دنیا پر بیالوجیکل وار بھی نہیں کہ سکتے ہیں۔ کیونکہ نہ صرف امریکہ اور چین کی معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے بلہ پوری دینا کے معاشی نظام درہم برہم ہو گیا ہے۔

قبل از وقت اس وبا پر تبصرے کرنا بیکار ہے نہ یہ کسی کافر کی چال ہے نہ کسی طاقتور نے کمزور پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے سازش کی ہے نہ یہ وبا چمکادڈ، مینڈک، سانپ یا سور کا گوشت کھانے سے دنیا میں پھیل چکا ہے۔ اتنا کہہ سکتے ہیں یہ کسی ارتقا کا شاخسانہ ضرور ہے اس پر تحقیق کی ضرورت ہے ۔ وقت آنے پر سب کچھ معلوم ہوجائے گا۔ البتہ اس عالمی وباء کی تباہ کاریوں، انسانی روئیے اور حکومتوں کے ترجیحات اور پالیسوں پر ہم بات کر سکتے ہیں۔

دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں بچا ہے جو کرونا وائرس سے متاثر نہ ہوں۔ اب تک کی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق 183 ممالک اس سے متا ثر ہوے ہیں۔ اب تک 17 لاکھ سے زائد لوگ اس وباء سے متاثر ہوئے ہیں اور ایک لاکھ سے زاید کی موت واقع ہو چکی ہے۔ دنیا کا سپر پاور امریکہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں 11 اپریل تک 22 ہزار لوگ موت کی وادی میں پہنچ چکے ہیں اور کل پانچ لاکھ لوگ اس وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔

پاکستان میں بھی کورونا وائرس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے جو بہت تشویشناک بات ہے۔

گزشتہ دو دنوں سے گلگت بلتستان سے اچھی خبریں آرہی ہے کرونا وائرس سے متاثرہ لوگوں کی تعداد میں کمی آرہی ہے۔ اب تک 96 مریض مکمل صحتیاب ہو کر گھر چلے گئے ہیں اور مریضوں کی تعداد میں کمی آکر 80 رہ گئی ہے دعا ہے کہ مزید مریضوں کی کرونا رپورٹ نیگیٹو آکر سارے صحتیاب ہو کر گھر چلے جائیں۔ مگر بدقسمتی یہ ہے کہ نہ چاہتے ہوئے بھی حکومت کو کوسنا پڑتا ہے اس وقت گلگت بلتستان میں صرف ایک کرونا ٹیسٹنگ لیبارٹری موجود ہونے کی وجہ سے رپورٹ حاصل کرنے میں ہفتے لگتے ہیں۔ جس کی وجہ سے مریضوں کی بروقت علاج ممکن نہیں ہوتی ہے ۔

جہاں مریض پریشان ہیں وہاں ڈاکٹرز بھی اپنے جان ہتھیلی پر رکھ کرخدمات انجام دے رہے ہیں۔ پوری دینا میں کئی سو ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل ہیلتھ ورکروں کی موت واقع ہو چکی ہے۔ گلگت بلستان میں بھی ایک ڈاکٹر اور ایک ٹیکنیشن شہید ہو چکے ہیں۔ ڈاکٹر اسامہ ریاض نے گزشتہ مہنے کی 22 تاریخ کو زندگی کی بازی ہار گئے۔ انہیں جگلوٹ کے قریب بیرون ملک سے انے والے زائرین کی سکریننگ کی ڈیوٹی پہ لگا دیا تھا۔ مگر حفاظتی کٹ فراہم نہیں کرنے کی وجہ سے وہ اس موزی وائرس سے متاثر ہوئے اور تین دن کے اندر زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

محکمئہ صحت کے سینئر ٹیکنیشن مالک اشدر نگر میں کورونا کے مریضوں کا علاج کرتے ہوئے خود اس کے شکار ہوئے اور ایک ہفتہ کے اندر اپنی رپورٹ کے رزلٹ آنے سے پہلے  شہید ہوئے۔

سوشل میڈیا پر ایک خاتون نرس کا پوسٹ پڑھ کر رونگھٹے کھڑے ہوگئے۔ اس سے دو تلخ حقیقتیں ننگا ہو کر سامنے آتاہے۔ وہ یہ کہ ہمارا صحت کا نظام کتنا فرسودہ ہے اور دوسرا یہ کہ سرمایہ داری اور منافع خوری نے انسان کو کتنا بے حس اور خود غرض بنیا دیا ہے۔ یقئین نہیں آتا کہ اتنے ظالم لوگ اور فرسودہ نظام ہوسکتا ہے؟ مذکورہ نرس کی ڈیوٹی ایک اسپتال کی آئی سی یو میں کرونا کے مریضوں کے ساتھ لگا دیا گیا تھا۔ وہ تین دن سے گھر نہیں گئی تھی۔ وہ چاہتے ہوئے بھی گھر نہیں جاسکتی۔ ان کی اپنی دردناک تحریر کے مطابق: "مجھے مکمل یقین ہے جو حفاظتی کٹ مجھے مل چکی ہے یہ میری حفاظت کے لیے ناکافی ہے۔ مجھے شک نہیں بلکل مکمل یقین ہے کہ میں کرونا وائرس کا شکار ہو چکی ہوں۔ ہسپتال میں ٹیسٹ کروانے کا کوئی سہولت موجود نہیں ہے، مجھے گھر جانے کے بجائے کسی قرنطینہ سنٹر میں پناہ لینا چاہیئے۔ اس حالت میں اگر گھر چلی گئی تو میرا تین سالہ بچہ، میاں اور گھر والے سب کرونا وائرس کا شکار ہو سکتے ہیں۔”

اس جیسے کتنے ڈاکٹرز، نرسیں اور پیرامیڈیکل اسٹاف ہوں گے جو اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر مریضوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔

یہ المیہ پولیس اور دوسرے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے ساتھ بھی ہے ان کو بھی قدرت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ شائد یہی وجہ ہے کہ پولیس  کے اہلکار اس فرسودہ نظام کی بجائے شہریوں اپنا غصہ اتارتے دکھائی دیتی ہیں۔ ایسی معتدد فوٹیجز شوشل میڈیا پر دیکھنے کو ملی ہے جہاں پولیس کے اہلکار شہریوں پر بہمانہ تشدد کرتے ہیں اور معمولی خلاف ورزیوں پر اور بعض اوقات بلا وجہ مرغا بنا کر شہریوں کی تذلیل کرتے ہیں۔ ریاستی اداروں کا غیر پیشہ ورانہ طرزِ عمل دیکھ کر دکھ ہوتا ہے آخر کیوں ہمارے معاملات بہتر نہیں ہوتے ہیں؟

صحت عامہ کا نظام مفلوج، تعلیم کا بیڑھ غرق ہے، دیگر ادارے اقرباء پروری اور کرپشن کی وجہ سے کنگال ہیں اس نظام کو درست کرنے شاید فرشتے آسمان سے اتریہں ۔

کرونا وائرس سے پوری دنیا پریشان ہیں۔ ہم کسی نہ کسی طریقے سے خود کو فائدہ پہنچانے کے چکر میں ہیں، حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں ہمیں تلقین کرتے ہیں کہ سماجی میل ملاپ اور غیر ضروری سفر سے گریز کرے مگر ہم بلاجہ روڈ پر جا کر پولیس کے ہاتھوں مرغا بن جاتے ہیں۔ دوسرے ملکوں میں لوگ غیبوں کی مدد کرتے ہیں مگر اپنی تشہیر نہیں کرتے ہیں مگر ہم پانچ کلو کا آٹا تھما کر بھی ڈھنڈورا پیٹتے ہیں۔ یہاں بیوپاریوں پر تو خدا ہی رحم کرے اس مشکل وقت میں بھی ان کے پانچویں انگلیاں گھی میں ہیں۔


صاحب مدد کا تعلق گلگت بلتستان کے تحصیل اشکومن، ضلع غذر سے ہے۔ وہ تدریس کے پیشے سے وابستہ ہے اور گزشتہ چند سالوں سے مختلیف مقامی اخبارات میں کالم لکھتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں