کرونا کے بارے میں ڈاکٹروں کا حکومت اورعلماء کے رویئے پر تشویش

کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد لاکھوں میں ہیں؛ وائرس سے نمٹنے کا عمل سست روی کا شکار؛ لاک ڈاؤن پالیسی پر سختی سے عمل کروائے، ڈاکٹرون اور حقوق انسانی کمیشن کی حکومت سے اپیل

بام جہاں رپورٹ

داکٹروں کی نمائیندہ تنظیموں اور حقوق انسانی کمیشن نے حکومت کی کورونا وباء کے متاثرین کی تعداد میں تیزی سے اضافے اور اس وباء سے نمٹنے کے لئے حکومت کی مایوس کن اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ اور اپیل کی ہے کہ اس وباء کی روک تھام کے لئے سخت اقدامات کریں۔

گزشتہ دنوں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) کے مرکزی عہدے داروں اور نوجوں ڈاکٹروں کی انجمن نے کراچی اور لاہور میں کورونا وائرس کے باعث حالات مزید خراب ہونے کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو تجربے دنیا بھر میں ہوچکے ہیں وہ دوبارہ نہ کریں ورنہ ہمیں بھی اٹلی اور اسپین جیسے حالات کے لیے ذہنی طور پر تیار رہنا ہوگا۔

پاکستان میڈیکل ایسو سی ایشن کے صدر ڈاکٹر اشرف نظامی لاہور پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کر رہے ہیں

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن، پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن اور ینگ ڈاکٹرز ایسو سی ایشن کی کراچی پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس

سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لاک ڈاؤن میں نرمی تباہ کُن ثابت ہوئی ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق جب سے لاک ڈاؤن میں نرمی کی گئی ہے وائرس سے متاثرین کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے ۔

صرف گزشتہ چار دنوں میں لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعدپاکستان میں وائرس کے پھیلاؤ میں چالیس فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ان چار دنوں میں مریضوں کی تعداد 6772 سے بڑھ کر 9464 ہوچکی ہے-

ان کا کہنا تھا کہ 46 دنوں میں پانچ ہزار مریضوں کی تصدیق ہو چکی ہے مگر لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد صرف دس دنوں میں یہ تعداد دگنی ہوگئی ہے۔جس کے باعث اسپتالوں میں بستر کم پڑرہے ہیں، اگر یہی صورت حال رہی تو سڑکوں پر علاج ہوگا اور اس وقت شاید یہ وقت بھی آجائے کہ عمر رسیدہ کو مرتا چھوڑ کر ایک نوجوان کی جان بچانا پڑجائے۔

ڈاکٹرز نے علماء سے درخواست کی کہ وہ رمضان میں مساجد میں عبادات کے فیصلے پر نظرثانی کریں، اس سے کورونا وائرس پھیل جائے گا، انہوں نے کہا کہ بھلے سے کورونا وائرس کسی اور وجہ سے بھی پھیلے مگر وبا کے پھوٹ پڑنے کے بعد مساجد الزامات کا آسان ٹارگٹ ہوں گے۔

ڈاکٹروں نے کہا کہ اس وقت وہ صف اول پر لڑرہے ہیں، کیا ہونا چاہئیے اور کیا نہیں، اس میں ڈاکٹروں کی مشاورت ضروری ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اب تک کوئی بھوک سے نہیں مرا مگر کرونا وائرس کی وجہ سے کم از کم 200 سے زائد ہلاکتیں ضرور ہوچکی ہیں، ڈاکٹروں نے تاجروں کو کہا کہ اگر آپ کی زندگی رہی تو کاروبار بھی کرلیں گے، خدارا ابھی زندگی بچانے کی کوشش کریں۔

Police arrest doctors demanding facilities and prevention kits to attend coronavirus patients in Quetta, Pakistan, Monday, April 6, 2020. Photo: AP

مکمل لاک ڈاؤن کریں

ڈاکٹرز کے مطابق کرونا وائرس کوئی مذاق نہیں ہے، پاکستان میں ہیلتھ انفرااسٹرکچر ایسا نہیں کہ سنگین صورت حال میں معاملات سنبھالے جاسکیں، انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ خدارا لاک ڈاؤن میں پوری دنیا کی طرح مزید سختی کی جائے۔

دریں اثنا لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران پی ایم اے کے مرکزی صدر ڈاکٹر اشرف نظامی کی قیادت میں سینئرڈاکٹروں نے کورونا وائرس کے حوالے سے کہا کہ ‘اس وقت دنیا میں جو حالات ہیں اور پاکستان میں حکومت جو فیصلے کررہی ہے اس سے ان کے اپنے کابینہ کے اراکین اور مشیروں کے اندر ایک دوسرے سے مطابقت نہیں رکھتے ہیں.

ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ ‘ہماری تنظیموں نے بالخصوص 6 فروری کو واضح طور پر کہا تھا کہ خدارا وہ تجربہ نہ کریں جو دنیا میں ہو چکے ہیں اور پاکستان کو نئی تجربہ گاہ نہ بنائیں.

انہوں نے کہا کہ "ہم نے واضح کیا تھا کہ ‘ایسا نہ ہو کہ اگر یہ حالت اس نہج پر پہنچیں کہ ہمیں علاج معالجہ سڑکوں پر کرنا پڑے۔ ہمارے وسائل اتنے نہیں ہیں، نہ ہمارے پاس نرسز، پیرامیڈیکل اسٹاف، ڈاکٹر اور ہسپتال ہیں”۔

حکومتی وزرا کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مرکزی وزارت صحت کے نمائندے نے خود تسلیم کیا ہے کہ آئندہ 4 سے 5 ہفتے اہم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "پاکستان میں حالات بدتر ہوسکتے ہیں جو کہ اٹلی، برطانیہ، پورے یورپ اور امریکا کے اندر ہوا، ہمارے ہمسایہ ملک میں اس وقت جو ہورہا ہے اس کے ساتھ ہم شانہ بشانہ چل رہے ہیں’۔

ڈاکٹروں نے کہا کہ ہم 22 کروڑ ہیں اتنے دن گزرنے کے باوجود ابھی 20 ہزار تسخیص تک نہیں پہنچ سکے ہیں۔

حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "خدارا ملک کو اس امتحان میں نہ ڈالیں جس کے لیے صف بندی نہ کرسکیں، کوئی بھی ناعاقبت اندیشانہ عمل ہمیں اپنے ملک کی گلیوں کے اندر دیکھنے کے لیے ذہنی طور پر تیار رہنا چاہیے’۔

فیصلوں کو درست سمت میں جاری رکھنے پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے بطور تنظیم ہمیشہ حکومت کی رٹ پر زور دیا ہے جس طرح سعودی عرب، دبئی، ترک، ملائیشیا، انڈونیشیا نے بطور مسلمان ملک فیصلے کیے ہیں اسی طرح حکومت کو اپنی رٹ قائم کرنا ہوگا۔

ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں علما کے ساتھ دیگر مذاہب کا احترام ہے، لیکن ایسا کوئی فعل نہیں کریں جو ہمارے اذیت میں اضافے کا باعث بنے ۔

چیف جسٹس گلزار احمد اور مقتدر اداروں سے بھی کورونا وائرس کے خلاف اقدامات کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ڈاکٹروں نے کہا کہ ‘ہمارے یہاں 10 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں لیکن ہمارے پاس تشخیص کی صلاحیت نہیں ہے۔

کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہم لوگوں کو خوف زدہ نہیں کرنا چاہتے لیکن انہیں آگاہ کرنا چاہتا ہیں کہ یہ ہزاروں میں نہیں ہے بلکہ لاکھوں میں ہے۔

پی ایم اے کے اراکین نے کہا کہ ‘اس لاک ڈاؤن پالیسی پر مؤثر طریقے سے عمل کرنا چاہیے اورمذہبی رسومات پر بھی اس لاک ڈاؤن کے اندر پابندی ہونی چاہیے’۔

عوام سے مخاطب ہو کر انہوں نے کہا کہ ‘آج تک ہم یہ کہتے رہے کہ احتیاط علاج سے بہتر ہے لیکن آج اس کورونا وائرس سے محتاط رہنا ہزار درجہ بہتر ہے’۔

ڈاکٹروں نے کہا کہ ‘یاد رہے اس کا کوئی علاج نہیں ہے، ٹرمپ یا کوئی اور یہ کہتا رہہے کہ علاج دریافت ہوا ہے تو یہ صرف باتیں ہیں کیونکہ سائنسی طور پر کوئی علاج دریافت نہیں ہوا’۔

یاد رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کا پہلا کیس 26 فروری کو سامنے آیا تھا لیکن مارچ کے اختتام تک اس کے پھیلاؤ میں اتنی تیزی نہیں دیکھی گئی تھی تاہم اپریل میں روزانہ رپورٹ ہونے والے سیکڑوں نئے متاثرین کی تعداد 10927 جبکہ 230 اموات ہو چکی ہیں۔

چین سے شروع ہونے والا یہ وائرس جہاں دنیا کے 200 سے زائد ممالک کو متاثر کرکے اب تک ایک لاکھ 83 ہزار سے زائد افراد کی جان لے چکا ہے وہیں پاکستان میں اس کے پھیلاؤ میں تیزی دیکھنے میں آرہی ہے۔پاکستان میں گزشتہ 22 دنوں میں تقریباً ساڑھے 8 ہزار کیسز اور 194 اموات رپورٹ ہوئیں جبکہ اس کے مقابلے میں فروری و مارچ کے 35 روز میں 2000 متاثرین اور 26 اموات رپورٹ ہوئی تھیں۔

ڈاکٹر اسامہ ریاض جو گلگت بلتستان میں کورونا سے لڑتے ہوئے جان کی بازی ہار گئے

کورونا سے متاثر ڈاکٹروں اور نرسوں کی تعداد میں اضافہ

پاکستان میں کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے طبی اور نیم طبی عملے کی تعداد میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔

وفاقی حکومت کے حکام کے مطابق پورے پاکستان میں اس وقت 100  سے زیادہ ڈاکٹر،اور 80 سے زیادہ پیرامیڈکس اور دیگر عملہ کرونا وائرس سے متاثر ہو ئے ہیں

پاکستان میں گذشتہ دو مہینوں میں دو ڈاکٹر وں اور ایک نرس کرونا وائرس کی وجہ سے جاں بحق ہوچکے ہیں۔

گزشتہ ہفتے تک سندھ میں 48، پنجاب میں 50، خیبر پختونخواہ میں 42، اسلام آباد میں 15، بلوچستان میں 21، آزاد کشمیر میں چار اور گلگت بلتستان میں دو طبی اور نیم طبی عملے کے افراد وائرس کا شکار ہوئے تھے

متاثرہ طبی عملے کی اکثریت یا تو اسپتالوں میں زیر علاج ہے یا گھروں پر ان کو تنہا رکھے گئے ہیں۔

گرینڈ الائینس کا دھرنا

لاہورمیں کورونا سے برسرپیکار ڈاکٹروں اور ہیلتھ ورکروں کی گرینڈ ہیلتھ الائنس نے حفاظتی کٹس کی عدم فراہمی کے خلاف دھرنا دیا ہوا ہے۔

ان کے دئگر مطالبات میں پی آئی سی واقعے میں برطرف 4 ڈ اکٹروں کی بحالی، کورونا وائرس کی صورتحال کے پیش نظر عارضی بھرتی ہونے والے ساڑھے 4 ہزار ڈاکٹرز اور نرسز کو مستقل کرنے سمیت تمام ڈاکٹروں کو ڈبل تنخواہیں دیناشامل ہے۔

گزشتہ دنوں محکمہ صحت کے دفترمیں داخل ہونے کی کوشش پرپولیس نے ڈاکٹرز کو روکا تو ان کی پولیس کے درمیان ہاتھا پائی ہوگئی-

محکمہ صحت نے دعویٰ کیا ہے کہ حفاظتی کِٹس ہزاروں کی تعداد میں موجود ہیں لیکن اس کی آڑ میں انہوں نے دوسرے مطالبات ہمارے سامنے رکھ دیے ہیں، جس کا ابھی کوئی جواز نہیں بنتا۔

دوسری جانب گرینڈ ہیلتھ الائنس کا کہنا ہے کہ ان کا بڑا مطالبہ حفاظتی کِٹس فراہم کرنے کا ہے۔

یاد رہے کہ ملک بھر میں کورونا کیخلاف برسرپیکار ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو حفاظتی کٹس کی کمی کا سامنا ہے یہ کمی اس کے باوجود ہے کہ این ڈی ایم اے کے سربراہ لیفٹینینٹ جنرل افضل ایک ماہ قبل وزیراعظم کی موجودگی میں یہ اعلان کرچکے ہیں کہ 5 اپریل تک ملک بھر کے طبی عملے کو حفاظتی کٹس فراہم کردی جائے گی  تاہم پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ وہ بتدریج اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کررہی ہے۔200 سے زائد مزید طبی ونیم طبی عملے کے ٹیسٹ کرائے گئے ہیں اور رزلٹ کا انتظار ہے-

حقوق انسانی کمیشن کی تشویش

کورونا کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ پر حقوق انسانی کمیشن پاکستان (ایچ آر سی پی) نے صحت عامہ کے اس عوامی بحران سے جس طرح وفاقی حکومت نمٹ رہا ہے اس پر پریشانی کا اظہار کیا ہے-

وفاقی حکومت کے اقدامات میں وضاحت کی عدم موجودگی ہے۔ جس کے بغیر وہ وبائی مرض کو روکنے اور ملک کے پہلے سے ہی کمزور صحت کی دیکھ بھال کے نظام کے لئے گنجائش پیدا کرنے کی امید نہیں کرسکتا ہے۔

اسلام آباد میں حکومت نے لاک ڈاؤن کے بارے میں ملے جلے پیغامات جاری کرکے اور سندھ میں اس کے حامیوں کو صوبائی حکومت کے اقدامات کو ناکام بنانے کے لئے اکسایا ہے۔

اس وبائی مرض کے ہاتھوں بہت زیادہ مصائب اٹھانے والے مزید ترقی یافتہ ممالک کے تجربات سے سبق سیکھنے کے بجائے، وفاقی حکومت عدم استحکام کا شکار ہے۔  کمیشن کے چیر مین پروفیسرمہدی حسن نے ایک بیان میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کی واضح انتباہ کے باوجود حکومت نے چند علماء کے دباوی میں اکر رمضان میں مساجد میں اجتماعی عبادات اور تراویح کی اجازت دی ہے- حالانکہ دیگر مسلم ممالک میں اس قسم کے اجتماعات کی سختی سے ممانعت ہے ۔

آج جبکہ پاکستان بھر کی آبادی کا ایک بڑا حصہ خطرے میں ہے تو ، یہ دیکھ کر شدید مایوسی ہوئی ہے کہ وفاقی حکومت بڑے کاروباری طبقہ اور مذہبی گروہوں کو اکسا کر صوبائی حکومت کے خلاف سیاسی پوائنٹس اسکور کرنے میں ملوث ہے۔

پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) نے پنجاب کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے وہ ہڑتال پر بیٹھے نوجوان ڈاکٹروں کے جائز مطالبات پر توجہ دے۔ صحت عامہ کے بحران میں ملک کو طبی عملے کی ضرورت ہے۔ ان حالات میں اُن کے پیشہ ورانہ صحت اور سلامتی کا حق ختم نہیں ہو جاتا نہ ہی اس سے پولیس اہلکاروں کے جبر کو جواز مل سکتا ہے جنہوں نے ہڑتال کو طاقت کے ذریعے ختم کرنے کی کوشش کی۔

پرہفیسر مہدی حسن کا کہنا ہے کہ گرینڈ ہیلتھ الائنس کے نمائندوں کی پیش کردہ کئی شکایات تشویش کا باعث ہیں۔ اُن کا دعویٰ ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں طبی عملے کے لیے کورونا وائرس کے معائنے کی سہولیات شدید ناکافی ہیں، اور یہ کہ وزارت صحت ذاتی حفاظتی سازوسامان صرف اُن ڈاکٹروں اور نرسوں کو مہیا کرتی ہے جو کورونا وائرس تنہائی وراڈز میں کام کرتے ہیں۔ البتہ، تمام طبی عملہ جو ہسپتال کے کسی بھی دوسرے حصے میں کام کرتا ہے  وہ غیرمحفوظ ہے۔

ہڑتالی ڈاکٹروں نے یہ شکایت بھی کی ہے کہ اُن کے وباء سے متاثرہ ساتھیوں کو خستہ حال وارڈز میں رکھا جا رہا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مریضوں کے وراڈز کی حالت اس سے بھی بری ہو گی۔ ڈاکٹروں کا یہ خوف بھی بڑا پریشان کن ہے کہ اگر وہ اپنے خدشات اجاگر کرنے کے لیے ذرائع ابلاغ سے رجوع کرتے ہیں تو مبینہ طور پر وزارت صحت کے کہنے پر اُنہیں ملازمت سے نکالا جا سکتا ہے۔

حقوق انسانی کی معتبر کمیشن نے کہا کہ اگر اس وباء کے خلاف لمبی لڑائی جیتنی ہے تو پھر ان تمام خدشات کا فوری و منصفانہ ازالہ کرنا ہو گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں