کریمہ بلوچ قتل کے خلاف احتجاجی مظاہرے

بام جہان رپورٹ

بلوچ اسٹوڈینٹس آرگنائزیشن (بی ایس او) کی چیئرپرسن کریمہ مہراب بلوچ کے قتل کے خلاف جمعرات 24 دسمبر کوبلوچ یکجہتی کمیٹی کے تحت لاہور اور کراچی میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔

کراچی میںمظاہرین نے آرٹس کونسل تا کراچی پریس کلب احتجاجی ریلی نکالی گئی جس میں بڑی تعداد میں سیاسی، سماجی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے کارکنوں نے شرکت کی۔

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں نے کہا ہم کریمہ بلوچ کے حوالے سے اس دعوے کو مسترد کرتے ہیں کہ ان کی موت حادثاتی تھی یا انہوں نے خودکشی کی ہے۔
انہوں نے کہا بلوچ سیاسی پناہ گزین اپنے حقوق کے لیے جلاوطن ہیں وہ باہر اس لیے نہیں گئے ہیں کہ وہاں جاکر خودکشی کریں۔کینیڈین پولیس کے ابتدائی رپورٹ سے یہ تحفظات پیدا ہوتے ہیں کہ وہ پاکستانی ریاست کی مدد کررہی ہے۔

رہنماؤں کا کہنا تھا بانک کریمہ کا قتل ایک بین الاقوامی سازش ہے جس کی بین الاقوامی سطح پر تحقیقات ہونی چاہئے۔
بلوچ یک جہتی کمیٹی کے رہنماؤں نے کہا کہ جب تک بانک کریمہ کے قتل کی عالمی سطح پر شفاف تحقیقات نہیں ہوتی ہمارے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری رہے گا۔

مظاہرین کا کہنا تھا بلوچ اپنی جدوجہد میں عالمی سطح پر تنہا ہیں انہیں ایک مشترکہ بلوچ محاذ تشکیل دے کر پشتون اور سندھی قوم کے ساتھ متحدہ جدوجہد شروع کرنی چاہئے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی انسانی حقوق کی حال ہی میں قائم ہونے والی عوامی تنظیم ہے جو بلوچوں کے انسانی اور سماجی حقوق کے حوالے سے متحرک ہے۔
بانک کریمہ کے قتل پر بی وائی سی نے ملک گیر سطح پر تحریک کا اعلان کر رکھا ہے جس کی کئی سیاسی اور سماجی تنظیم حمایت کررہی ہیں۔
کراچی کی احتجاجی ریلی میں بلوچستان نیشنل پارٹی، بی ایس او ، عوامی ورکرز پارٹی ، پشتون اسٹوڈنٹس فیڈریشن، وائس فار مسنگ پرسنز اور دیگر سیاسی اور سماجی تنظیموں کے رہنماء ماماقدیر بلوچ ، یوسف مستی خان، عبدالوہاب،جہانزیب بلوچ ،خرم علی ،مہلب بلوچ ،اشرف بلوچ ،نغمہ، کلثوم اور دیگر نے خطاب کیا۔ *

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر نے کریمہ کے ساتھ اپنی وابستگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہمیں ان کے مشن کو آگے بڑھانا ہوگا۔
انہوں نے کہا بانک کریمہ نے لاپتہ افراد کی بازیابی کی تحریک میں ہمیشہ ان کی مدد کی اور ان کی خبرگیری کرتے رہے۔
عوامی ورکرز پارٹی کے وفاقی صدر یوسف مستی خان نے کہا بلوچستان پر زبردستی قبضہ کیا گیا ہے اور بلوچستان کو شمالی جنوبی حصوں کے نام پر تقسیم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جسے ہم ہرگز قبول نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا بلوچستان پاکستان بننے کے بعد بھی ایک آزاد ریاست تھا کراچی ایمبیسی میں میرے چچا عبدالستار مستی خان بلوچستان کے سفیر تھے۔بلوچستان پر 1948کو قبضے کے بعد بلوچستان پر مظالم کے پہاڑ توڑے گئے۔ اس کے باوجود بلوچ سیاسی رہنماؤں نے پرامن راستہ اختیار کیا اور جمہوری جدوجہد میں پیش پیش رہے لیکن بلوچستان پر مظالم میں کوئی کمی نہیں آئی۔مجید لانگو کو شہید کرکے ان کی ماں کو ہتھکڑیاں لگا کر گھسیٹا گیا، سفر خان کو شہید کیا گیا۔ ایوب خان کے زمانے میں نواب نوروز کے ساتھیوں کو شہید کیا گیا۔

انہوں نے کہا اب پانی سر سے گزر چکا ہے پاکستانی ریاست نے ہماری بچی کو قتل کیا۔
انہوں نے ریاست پاکستان کے حکمرانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ساجد کو سویڈن ، عارف بارکزئی کو ناروے اور کریمہ کو کینیڈا میں قتل کیا گیا ، کیا اس کے بعد ہم ہاتھ باندھ کر بیٹھیں گے ؟

انہوں نے بلوچ عوام کو اپیل کرتے ہوئے کہا میں بلوچوں سے درخواست کرتا ہوں ‌کہ وہ متحد ہوکر ایک بلوچ محاذ تشکیل دیں اور کراچی کے بلوچ بلوچستان کے بلوچوں کا ہمرکاب ہوکر بلوچ تحریک کو پہاڑوں سے نکال کر شہروں میں لے آئیں۔

انہوں نے کہا جب تک بلوچ ، سندھی اور پشتون مظلوم مل کر اپنے حقوق کی جنگ نہیں لڑیں گے تو یہ لڑائی مشکل ہوگی۔بلوچستان کا مسئلہ یہ ہے کہ بلوچستان کی زمین زرخیز ہے اور بلوچستان کا کوئی دوست نہیں۔ بلوچوں کو اپنی جنگ خود لڑنی ہوگی جس طرح ماضی میں انگریز سامراج کے خلاف گل بی بی لڑی تھی۔
یوسف مستی خان کا کہنا تھا مظلوم طبقے کے ساتھ ظلم ہورہا ہے۔اسٹیل مل کے مزدوروں کو نکالا جارہا ہے جن میں اکثریت بلوچوں کی ہے۔
انہوں نے تفصیل سے بتایا کہ پاکستان میں جمہوری سیاسی جدوجہد کو تسلیم نہیں کیا جاتا اور جو لوگ پرامن سیاست کرتے ہیں ان کے خلاف سخت اقدام اٹھائے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا پشتون حقوق کے لیے بات کرنے والے علی وزیر کو گرفتار کیا گیا ہے اسی طرح ماضی میں مجھے بھی گرفتار کیا گیا اور ہربار مجھ پر ملک دشمنی کے الزامات لگائے گئے۔ جب میں 1977کو لیاری کی نشست پر الیکشن لڑ رہا تھا تو تمام تھانوں کو ہدایت دی گئی کہ مجھے جیتنے نہ دیں ، انہیں بتایا گیا کہ میں پاکستان دشمن ہوں اور میرے ساتھ ایسا اس لیے کیا گیا کیوں کہ میں بلوچ ہوں۔

انہوں نے کہا صرف پریس کلب اور احتجاجی مظاہروں سے کچھ حاصل نہیں ہوگا ہمیں متحد ہوکر ہر محلے میں تنظیمی شکل اختیار کرنی ہوگی۔ ہمیں اپنے حقوق کے لیے سیاسی جماعتوں سے بالاتر کر متحدہ بلوچ محاذ تشکیل دے کر جدوجہد کرنا ہوگا ہم جتنا تقسیم ہوں گے ہمیں اتنا نقصان ہوگا۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے سینئر رہنماء عبدالوہاب بلوچ نے کہا بانک کریمہ کا قتل ریاستی دہشت گردی کا عمل ہے جو بلوچستان میں جاری ہے اب اسے بین الاقوامی طور پر اپنایا گیا ہے۔

https://youtu.be/2WWrnWmjGt0

انہوں نے کینیڈین پولیس کے ابتدائی رپورٹ کو سختی کے ساتھ مسترد کرتے ہوئے کہا پولیس نے بغیر پوسٹ مارٹم رپورٹ کے یہ فیصلہ کیا کہ بانک کریمہ کا قتل کوئی مجرمانی عمل نہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ ایک بین الاقوامی سازش ہے جس میں بیرونی ممالک کی ایجنسیاں بھی شامل ہیں۔ کینیڈین اداروں کو اس قتل کی شفاف تحقیق کرنی ہوگی اور انہیں جوابدہ ہونا پڑے گا۔

انہوں نے کہا ہمارا احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک بین الاقوامی سطح پر اس قتل کی تحقیقات نہیں ہوتی ۔
انہوں نے پاکستانی حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہمارے رہنماؤں کو قتل کرنے سے بلوچ قومی تحریک کمزور نہیں ہوئی ۔ شہید اکبر خان بگٹی ، بالاچ شہید ، غلام محمد بلوچ اور ہزاروں سرمچاروں کو شہید کیا گیا لیکن ہر شہید کی شہادت نے ہماری تحریک کو ایندھن فراہم کیا۔ شہید کی موت قوم کی حیات ہے اسی طرح کریمہ کی موت ہماری تحریک کے لیے زندگی اور قابض کے لیے موت ہے۔

انہوں نے کہا بلوچستان میں بھی قابض کا وہی حشر ہوگا جو بنگلہ دیش میں ہوا تھا۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء جہانزیب بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا آج ایک بار پھر بلوچ قوم کی ایک بیٹی کو ہم سے جدا کیا گیا اور جدوجہد کی آواز کو دبانے کی کوشش کی گئی ۔ شہید کریمہ بلوچ کی المناک شہادت کے موقع پر بلوچستان نیشنل پارٹی ، لواحقین اور بلوچ قوم کے ساتھ کھڑی ہے۔

انہوں نے کہا اس ریاست کے وجود سے لے کر آج دن تک جاری جبر ، فوجی آپریشن کے خلاف ، بلوچ وطن کے وسائل کی لوٹ مار کے خلاف ، بلوچ قوم کے سیاسی اور قومی وسائل کے استحصال کے خلاف جب بھی آواز اٹھائی گئی تو ہمیں لاشوں کے تحفے دیئے گئے۔

اب تک جاری پانچواں آپریشن دسمبر 2005 کو بھگوڑا آمر پرویز مشرف نے شروع کیا تھا جو آج تک جاری ہے اور روازنہ ہماری لاشیں گرائی جارہی ہیں ، آج ہمیں ہماری بہادر بہن کی لاش کا تحفہ دیا گیا۔ ہزاروں بلوچ نوجوان جبری گمشدہ کیے گئے ، آج بھی ان کی مائیں اور بہنیں ان کے لیے آنسو بہا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا یہ آپریشن فوجی آمر کے دور میں شروع کیا گیا، پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں جاری رہا ، نواز شریف کے دور میں بھی بلوچستان میں مظالم ڈھائے گئے اور اب نام نہاد تحریک انصاف کے دور میں بھی بلوچستان کے ساتھ نا انصافی ہورہی ہے اور بلوچوں کا خون بہایا جارہا ہے۔

انہوں نے کینڈین حکام پر بھی تنقید کی ، اس پر ان کا کہنا تھا اس ریاست کا جبراور اس کی تاریخی ناانصافیاں اپنی جگہ پر ہیں لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ کینیڈا اور سویڈین جیسے انصاف پسند سوسائٹی نے بھی اس ریاست اور اس کی ایجنسیوں کو اپنی سرزمین پر خون بہانے کی اجازت دی ہے۔نام نہاد ترقی یافتہ جمہوری ممالک کے نزدیک بھی بلوچوں کے انسانی حقوق دوسرے انسانوں سے مختلف ہیں۔بانک کریمہ نے بھی اپنی ایک تقریر میں کینیڈین حکومت سے اپنے ممکنہ قاتلوں کے بارے میں شکوہ کی تھی کہ آپ نے ہمیں پناہ دے رکھا ہے اور ہمارے قاتلوں کو ہمارے بغل میں جگہ دے رہے ہیں۔

بانک کریمہ کے قریبی دوست اور عوامی ورکر زپارٹی کے رہنماء خرم نے احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کریمہ جرات اور ناممکن کو ممکن بنانے کا نام تھی۔ کریمہ نے اس وقت تحریک میں جان پیدا کی جب تحریک رک گئی تھی۔ انہوں نے ایسے وقت میں آواز اٹھایا جب آواز اٹھانے کے لیے کوئی نہیں تھا۔ آج بہت سارے لوگ جمع ہیں اور بول رہے ہیں لیکن اس وقت کریمہ تن تنہا للکار رہی تھی ۔ جب زاہد کو گمشدہ کیا گیا تھا تب بھی وہ اکیلی نکلی تھی۔
انہوں نے کہا ریاست نے ظلم کی انتہاء کردی ہے اور اب صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے اب ریاست کی باری ہے کہ وہ انتظار کرئے۔
انہوں نے کہا بانک سے میرا ایک دوست اور ایک بھائی کا رشتہ تھا ان کو قتل کرکے ریاست نے مجھ سے میری دوست اور میری بہن چھین لی لیکن بلوچوں سے ان کی ماں چھین لی ہے اس کا بدلہ ریاست کو دینا پڑے گا۔ ریاست کو ایک بات سمجھنی ہے کہ بانک کو چھیں لی گی لیکن اس سے وہ اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوگی۔ بلوچستان کا فیصلہ بلوچ کرے گا اور کوئی دوسر اشخص نہیں کرسکتا۔

انہوں نے کہا بانک کریمہ کے قتل سے ایک گہری لکیر کھنچ گئی ہے کہ بانک کا راستہ اپنانا ہے یا مصلحت پسندی کا۔مصلحت پسندی کے سارے راستے بند ہوچکے ہیں ۔ ماضی میں بی ایس او پر الزام لگتا تھا کہ بی ایس او کے کارکنان مہم جو ہیں تیز آواز میں بات کرتے ہیں اور بی ایس او نے لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا ہے۔ لیکن بی ایس او نے نہیں بلکہ انہوں نے لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا ہے جو خاموش رہے جس سے ان کو خاموش رہنے والوں کے حصے کی جنگ بھی لڑنی پڑی۔طالب علم آج بھی ہر اول دستے کا کردار ادا کررہے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام اقوام کے سیاسی اکابرین آواز بلند کریں جب وہ بات نہیں کریں گے تو ہمارے بچوں کی زندگیاں غیر محفوظ ہوں گے ، خاموشی موت ہے۔

انہون نے کہا جب ہم کھڑے نہیں ہوں گے تحریک ہمارے جرم کو معاف نہیں کرئے گی ۔ ہمارے پاس وقت نہیں ہے۔ ریاستی عناصر درندے ہیں ، بچے ، بوڑھے ، وہ کسی کو چھوڑنے کو آمادہ نہیں۔جب ہم سب مل کر فیصلہ نہیں کرتے ان کے خلاف لڑنا ممکن نہیں ہوگا۔ یہ بزدل ہیں یہ تب تک لڑیں گے جب سامنے سے وار نہیں ہوگا جب بنگلہ دیش میں ان پر سامنے سے وار کیا گیا تو یہ وہاں سے بھاگے تھے ، یہاں سے بھی ایسے ہی بھاگیں گے۔ بانک کو سب سے زیادہ امید ، سب سے زیادہ پیار نوجوانوں سے تھا۔وہ چاہتی تھیں کہ نوجوان کتابیں پڑھیں ، دوسروں کو پڑھائیں کیوں کہ جدوجہد کا راستہ ایک دوسرے سے جڑنے میں ہے۔ان کی جدوجہد کو آگے بڑھانا نوجوانوں پر بہت بڑا فرض ہے۔

بلوچ نیشنل موومنٹ کے لاپتہ مرکزی رہنماء ڈاکٹر دین محمد کی بیٹی مہلب بلوچ نے کہا شاید انہوں نے سوچا ہوگا کہ وہ کریمہ کو قتل کرکے لاپتہ زاہد بلوچ کے اغواء کے چشم دید کو گواہ کو مٹا دیں گے۔

انہوں نے کہا میں کریمہ کے گود میں پلی ہوں وہ میری لمہ ( ماں ) تھی اور مجھ سے بے حد محبت کرتی تھی ۔
ان کا کہنا تھا بلوچستان میں پاکستانی فوج کی غارت گری کا سلسلہ جاری ہے گذشتہ دنون پنجگور میں آپریشن کرکے ایک ماں کو چھ بچوں کے ساتھ شہید کیا کیا گیا۔ یہ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ دوسرے ممالک بھی ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔ ریاست کی طاقت بلوچستان سے ہے جہاں ہمیں اغواء کرکے ہماری مسخ لاشیں پھینکی جارہی ہیں۔

انہوں نے کہا کریمہ بلوچ سنجیدہ ، خوبصورت اور شیرزال تھی ۔ان کے قاتلوں نے ان کو قتل کرکے دنیا میں ایک خبصورت عورت کو قتل کیا لیکن پھر بھی دنیا خاموش ہے۔
انہوں نے کہا بلوچ قوم کو اپنی طاقت خود بن کر اپنی جنگ لڑنی ہے۔ وہ ممالک جہاں جانورں کے بھی حقوق ہے وہاں ہمیں بیدردی سے قتل کیا گیا ۔ ہمیں لمہ کے بیٹے اور بیٹیوں کو لمہ کریمہ کو زندہ رکھنا ہے، شیرزال عورت کو زندہ رکھنا ہے۔ریاست نے ہم سے کئی اہم شخصیات چھینی ہیں اس کے ساتھ لمبا حساب ہے اسے راشد حیسن ، ساجد حسین اور بانک کریمہ کا بھی حساب دینا ہوگا۔

بی ایس او کے مرکزی رہنماء اشرف بلوچ نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا بلوچ دنیا کے کسی بھی کونے میں جائے اس کی زندگی خطرے سے خالی نہیں۔ ہزاروں میل دور بیٹھے ہوئے بلوچوں کو نشانہ بنا کر قتل کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا آج ہم کمزو اور بٹے ہوئے ہیں لیکن ہم بلوچستان کے معاملے پر متحد ہیں۔ ہر بلوچ بلوچستان کی بات کرتا ہے۔ ریاست بلوچ کو مار کر بلوچستان پر قبضہ نہیں کرسکتی شکست اس کے نصیب میں ہوگی۔

ان کا کہنا تھا بانک کریمہ ایک سوچ تھی بلوچستان کے حقوق اور حالات پر پہلے بلوچستان سے آواز اٹھتی تھی آج پوری دنیا سے آواز اٹھ رہی۔ ریاست اور اس کے ہمنواؤں کی طرف سے جس طرح ڈرامے کیے جارہے ہیں ہم ان کو مسترد کرتے ہیں۔کینیڈین پولیس کا رپورٹ غیر تسلی بخش ہے۔ بانک کریمہ ایک حوصلہ مند خاتون تھیں جو وہاں بلوچستان کے حقوق کے لیے گئی تھیں شہید ہونے کے لیے نہیں۔ہم اپنی آواز دنیا تک پہنچانے کے لیے جدوجہد کرتے رہئیں گے۔

احتجاجی ریلی سے پشتون اسٹوڈنٹس فیڈریشن سندھ کے صدر نے خطاب کرتے ہوئے بندوبست پاکستان میں حقوق کے لیے محکوم اقوام کی مشترکہ جدوجہد پر زور دیا انہوں نے کہا ہم کینیڈین پولیس کا رپورٹ کو مسترد کرتے ہیں ۔ہم بلوچ اور پشتون مل کر ان جبر کے اس نظام کو اکھاڑنا ہوگا۔ ہمیں بلوچ اور پشتون قومی تحریک کے ذریعے یہ کرنا ہوگا۔

سماجی رہنماء کلثوم بلوچ نے کہا بلوچستان کے لوگ سیاست کا انتخاب نہیں کرتے بلکہ سیاست انہیں چنتی ہے بلوچستان کے مسائل کی وجہ سے ہم سیاست پڑھنے اور سیاست کرنے کے لیے مجبور ہیں۔

انہوں نے کہا ایسا لگتا ہے کہ پاکستان اپنے بین الاقوامی رشتے بلوچوں کو خون سے مستحکم کررہا ہے ۔ ستر سال سے بلوچوں کے ساتھ ایک تسلسل کے ساتھ ظلم کیا جارہا ہے اور یہ سب ایک نا ختم ہونے والے چکر کی طرح ہے جو بہت خطرناک ہے کیوں کہ سرکل کی کوئی کٹنگ پوائنٹ اور وہاں سے نکلنے کا راستہ نہیں ہوتا۔ لوگ ریاست سے سوال کررہے ہیں اور ریاست کو ان سے یہی خوف ہے۔

ان کا کہنا تھا صرف پاکستانی ریاست ان مظالم کا ذمہ دار نہیں بلکہ اس عرصے میں آنے والی حکومتیں بھی ان مظالم کا ذمہ دار ہیں۔
سماجی رہنماء نغمہ نے اپنے مختصر خطاب میں کہا کریمہ کا راستہ ہمارا راستہ ہے ہمیں اس دکھ اور غم کو ختم نہیں ہونے دینا جب تک کہ ہم اپنے حقوق حاصل نہیں کرتے۔

ریلی کے اختتام پر بلوچ یک جہتی کمیٹی کے رہنماء نے کہا پریس کلب میں کریمہ بھی آئی تھی آج ہم آئے ہیں۔ یہاں پریس کلب میں دوسرے لوگ پانی ، روزگاراور بجلی کی لوڈ شیڈنگ جیسے شہری حقوق کے لیے آتے ہیں ایک ہم بدقسمت بلوچ ہیں جو اپنے زندہ رہنے کے حق کے لیے آتے ہیں۔
انہوں نے کہا کریمہ محض ایک نام نہیں تھیں۔وہ ایک رہنماء اور ہماری لمہ تھیں۔ہماری سیاسی ماں اور استاد تھی ان کی جگہ کوئی پر نہیں کرسکتی۔
ان کا کہنا تھا ہمیں بتایا جاتا ہے کہ کینیڈا امن کا گہوراہ ہے لیکن ہمیں وہاں بھی تحفظ حاصل نہیں۔

انہوں نے کہا دشمن کو ان مظالم کا حساب دینا ہوگا وہ کریمہ کو ہم سے جدا نہیں کرسکتا کریمہ ہمارے دلوں میں زندہ ہے آج کا اجتماع کریمہ کے دیئے گئے شعور کا دین ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں