کسان رہنما محمد علی بھارا بھی چلے گئے

وہ آخری سانس تک سوشلسٹ نظریہ کے ساتھ وابستہ رہے اور کسانوں اور مزدوروں کو منظم کرنے اور ان کے حقوق کے لئے جدوجہد کرتے رہے

تحریر: پرویز فتح

جمعرات 17 دسمبر کو پاکستان میں مظلوم، محکوم اور پسے ہوئے طبقات کےحقوق کی جدوجہد کرنے والا ایک اور روشن ستارہ، پاکستان کسان کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ملک محمد علی بھارا اپنی 69 سالہ سیاسی جدوجہد اور انقلابی تحریک کے ساتھ وابستگی نبھانے کے بعد انتقال کرگئے۔

وطن عزیز کا سیاسی منظر نامہ تو قیام پاکستان سے ہی دھندلا تھا نہ منزل کا تعین، نہ سفر کا آغاز، نہ کوئی منصوبہ بندی، اور نہ ہی ملک کے عوام کی اس میں شمولیت۔ وطن عزیز کی آزادی اور اس کے بعد ابھرنے والے منظر نامے پر غور کریں تو ہندوستان کی کیمونسٹ پارٹی ہی تھی جس نے عوام کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرتے ہوئے قیام پاکستان کی کھل کر حمایت کی تھی، جبکہ جماعت اسلامی سمیت تمام مذہبی جماعتوں نے قیام پاکستان کی بھرپور مخالفت کی تھی۔ مذہبی راہنما تو قا ئد اعظم کو کافرِ اعظم قرار دیتے تھے۔ ادر مسلم لیگ، جس کے بارے میں محمد علی جناح کہتے تھے کہ میرے جیب میں کچہ کھوٹے سکے ہیں، وہ بالکل درست تھا، کیونکہ جب پاکستان بننے جا رہا تھا تو سب جاگیردار، نواب، وڈیرے اور قبائلی سردار مسلم لیگ میں شامل ہو گئے تھے اور اپنی سماجی قوت کی بدولت مسلم لیگ پر اپنی گرفت مضبوط کر چکے تھے۔ یہ وہی جاگیردار، قبائلی سردار، وڈیرے اور نواب تھے، جنہوں نے برطانوی سامراج کی خدمت، برصغیر کے عوام کی استحصال میں معاونت، اور اپنے وطن سے غداری کے عوض جاگیریں حاصل کی تھی۔

یہ وہ دور تھا جب برطانوی سامراج دوسری عالمی جنگ کی تباہ کاریوں کی وجہ سے بہت کمزور پڑ چکا تھا اور دوسرے ملکوں پر قبضہ جاری رکھنا اس کے لیے ممکن نہ رہا تھا ۔ اس وقت تک امریکہ عالمی منظر نامے پر نئی سامراجی قوت کے طور پر ا بھر کر آ چکا تھا ۔قیام پاکستان کے بعد مسلم لیگ کے علاوہ کمونسٹ پارٹی ہی تھی جو بڑی تیزی سے سیاسی منظر نامے پر ابھر کر سامنے آ رہی تھی۔ اس سے وابستہ تنظیمیں جن میں پاکستان کسان کمیٹی، پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن، انجمن ترقی پسند مصنفین، انجمن جمہوریت پسند خواتین اور ڈیمو کریٹک اسٹوڈینٹس فیڈریشن شامل تھں یں، ملک کے مظلوم، محکوم اور پسے ہوئے طبقات، کسانوں، اور مزدوروں کو متحرک کرنے، انہیں سیاسی شعور دینے اور انہیں ان عوامی تنظیموں کے ذریعے منظم کر کے کیمونسٹ پارٹی کو ملک کے سیاسی منظر نامے پر نمودار کر رہی تھیں۔ ملک میں صنعت نہ ہونے کہ برابر تھی، ماسوائے ریلوے اور محکمئہ ڈاک کے جہاں پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن کے رہنماؤں مرزا محمد ابراہیم اور فیض احمد فیض کا طوطی بولتا تھا اس وقت ملک کی 74 فیصد سے زائدعوام دیہاتوں میں رہتی تھی، جس کی وجہ سے کسانوں کو سیاسی شعور دینے اور سیاسی دہارے میں لانے اور سماجی تبدیلی کے لیے تیار کرنے میں پاکستان کسان کمیٹی کی اہمیت تھیں ۔ اس کی بنیادی وجہ یہ بھی تھی کہ ملک پر جاگیر داروں اور قبائلی سرداروں کی گرفت بہت مضبوط تھی۔ دیہاتی آبادی کا بہت بڑا حصہ زرعی زمین کی ملکیت سے محروم تھا اور بطور مزارع یا کھیت مزدور جاگیر داروں اور سرداروں کے براہِ راست جبر اور استحصال کا شکار تھا ۔اس طرح دیہاتی عوام مجموعی طور پر ان جاگیرداروں، وڈیروں اور سرداروں کی معاشی، سیاسی اور سماجی غلامی کا شکار تھی۔

پاکستان کے نامور سوشلسٹ رہنما اور پاکستان میں کسان تحریک کے بانی کامریڈ چودھری فتح محمد نے 2016 میں شائع ہونے والی اپنی خود نوشت سوانح عمری ”جو ہم پہ گذری“ میں لکھا ہے کہ 1950″ میں ان کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے تو پارٹی نے فیصلہ کیا کہ انہیں گرفتاری نہیں دینی ہے بلکہ دوسرے ضلعوں میں جا کر پارٹی کا کام، بالخصوص کسانوں کو منظم کرنا ہے۔ 1951 میں انہوں نے وہاڑی کے مختلف دیہاتوں میں کسانوں کے جلسے کرنے کے بعد آخری بڑا جلسہ وہاڑی شہر میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا تو جلسے کے انتظامات میں معاونت کے لیے اوکاڑہ سے کامریڈ عبدالسلام تشریف لے آئے۔ ہم نے شہر میں مختلف شخصیات سے ملاقاتیں کیں تو وہیں ہماری ملاقات غلہ منڈی کے ایک نوجوان آڑھتی سے ہوئی، جس نے کسان تحریک سے متاثر ہو کر غلہ منڈی میں ان کی دوکان کے سامنے جلسہ منعقد کرنے کی تجویز دے دی۔ اس زمانے میں تشہیر کا نظام بہت محدود تھا، اس لیے ہم نے شہر میں ٹین بجا کر منادی کی۔ جلسہ بہت کامیاب ہوا اور اس نوجوان آڑہتی نے جس کا نام محمد علی تھا، ہماری تحریک میں شمولیت کا اعلان کر دیا۔ بعد ازاں وہی محمد علی اس قدر متحرک انقلابی بن کر ابھرا کہ وہ میرا سب سے قریبی ساتھی بن گیا اور اب وہ پاکستان کسان کمیٹی کا مرکزی جنرل سیکرٹری ہے اور سیاسی حلقوں میں ملک محمد علی بھارا یا کامریڈ محمد علی بھارا کے نام سے جانا جاتا ہے۔”

اسی دوران 1949 میں چین کے عوام نے اپنے ملک میں سوشلسٹ انقلاب برپا کر دیا تو امریکہ کے لیے نئے آزاد ہونے والے پاکستان کی جغرافیائی اہمیت بڑھ گئی۔ 1951 تک پاکستان پر امریکہ کی گرفت بڑی حد تک مضبوط ہو چکی تھیاور وہ پاکستان کو قرضوں اور اسلحہ کی فروخت کے جال میں پوری طرح سے پھنس چکا تھا پاکستان میں امریکی آشیرباد سے ابھرتی ہوئی انقلابی تحریک کو کچلنے کے منصوبے بنائے جانے لگے۔ ایک طرف ملک میں جاگیرداری نظام کو مضبوط کرنا اور اس کا بیوروکریسی کے ساتھ گٹھ جوڑ کروانا امریکہ کے مفادات میں تھا تو دوسری طرف سماجی برابری اور انصاف پہ مبنی معاشرے کے قیام کی تحریکوں کو کچلنا بھی ان کے سامراجی مفادات کے لیے ضروری ہو گیا تھا اس کام کو احسن طریقے سے سرانجام دینے کے لیے مذہبی جماعتوں کا بیوروکریسی سے گٹھ جوڑ کروا کر مذہبی کارڈ کھیلا گیا اور سوشلزم کے خلاف وسیع پیمانے پرتشہری مہم کا آغاز کر دیا گیا۔

مذہبی جماعتیں براہ راست امریکی سفارت خانے کے ساتھ کام کرنے لگیں اور سماجی برابری اور انصاف پہ مبنی نظم ”سوشلزم“ کی عوام میں ابھرتی ہوئی مقبولیت کو لادینیت ثابت کرنے لگیں۔ ادھر سول و ملٹری بیوروکریسی، اور جاگیر داروں کے ساتھ مذہبی جماعتوں کی ایک ایسی تکون بنا دی گئی جو ملک میں جمود کو برقرار رکھنے کے لیے خطرناک ہتھیار بن گیا، جو اب تک برقرار ہے۔ پھر آہستہ آہستہ بیوروکریسی نے مذہب کو سیاسی تحریکوں کو کچلنے اور لنگڑی لوُلی جمہوری حکومتوں کو بلیک میل کرنے کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا، جو اپنی پوری شدومد کے ساتھ اب تک جاری ہے۔ 1953 میں ملک میں کیمونسٹ پارٹی اور اس کے ساتھ وابستہ عوامی تنظیموں جن میں پاکستان کسان کمیٹی بھی شامل تھی، پر پابندی لگا دی گئی اور اس کے تمام اہم رہنماؤں کو راولپنڈی سازش کیس بنا کر گرفتار کر لیا گیا۔ ملک میں ترقی پسند سوچ اور تحریکیں جو کسی بھی سماج میں رواداری، مساوات اور بھائی چارے کی علامت ہوتی ہیں، کو کچلنے کےلیے ہر جائز و ناجائز طریقہ استعمال کیا گیا۔

ترقی پسند سیاسی کارکنوں و رہنماؤں نے اس مشکل وقت میں آزاد پاکستان پارٹی اور دیگر چھوٹی جماعتوں میں شمولیت اختیار کر کے اپنی سیاست کو زندہ رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ چونکہ یہ عمل انہوں نے ذاتی حیثیتوں میں کیا، اس لیے نظریاتی کارکنوں میں سیاسی ہم آہنگی کا فقدان ایک قدرتی عمل تھا ۔ مرکزی تنظیمی ڈھانچہ کی عدم موجودگی کی وجہ سے ترقی پسندوں کی تنظیمیں شہروں اور علاقوں کی حد تک محدود ہو کر رہ گئیں جس کی وجہ سے آج تک ایک متحدہ، وسیع تر اور منظم تنظیمی ڈھانچہ نہ بن پایا۔ زیر زمین کیمونسٹ پارٹی منظم تو کی گئی لیکن پنجاب اور صوبہ سرحد کی تنظیم علیحدہ اور کراچی والی علیحدہ رہی، جو آج تک یکجا نہ ہو سکی۔ 1957 میں ڈھاکہ میں نیشنل عوامی پارٹی کی بنیاد رکھی گئی تو سارے ترقی پسند اس میں شامل ہو گئے، جن میں ملک محمد علی بھارا بھی شامل تھے۔ لیکن بدقسمتی سے یہ ایک دہائی میں ہی دو دھڑوں، ولی خان گروپ اور بھاشانی گروپ میں تقسیم ہو گئی۔ کراچی والی زیر زمین کیمونسٹ پارٹی پنجاب اور سرحد والی کیمونسٹ پارٹی کے ساتھ کھڑے ہونے کی بجائے قوم پرستوں کے ساتھ ولی گروپ کے ساتھ چلی گئی۔

ادھر پنجاب اور سرحد والی زیر زمین کیمونسٹ پارٹی کو 1960 میں ہی سی آر اسلم، سردار شوکت علی، مرزا ابرہیم، عابد حسن منٹو، میجر اسحاق محمد، سید مطلبی فریدآبادی اور چوہدری فتح محمد کی قیادت میں ممنوع قرار دی گئی ۔ پاکستان کسان کمیٹی اور پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن کو نئے سرے سے بنایا گیا اور ان کی تنظم سازی کر کے ملک میں کسان اور مزدور کانفرنسوں کا ایک لا متناہی سلسلہ شروع کر دیا۔ یہی وہ زمانہ ہے جب ملک محمد علی بہارا وہاڑی سے نکل کر پنجاب بھر میں سرگرم ہو گئے اور چوہدری فتح محمد کے ساتھ مل کر ملک بھر میں کسانوں کو منظم کرنے لگے۔ وہ دونوں ساتھ کل وقتی کارکن کے طور پر مختلف علاقوں میں کسان کانفرنسیں کرنے کے لیے میدان میں آگئے۔ خانیوال، ٹانڈہ، لودھراں، حسن ابدال، چنی گوٹھہ اور دیگر کسان کانفرنسوں کے بعد ملک بھر میں کسان کارکنوں کےجتھے بنا کر پھیل گئے اور 23 مارچ 1970 کو ٹوبہ ٹیک سنگہ میں برصغیر کی سب سے بڑی کسان کانفرنس منعقد کیں ، جو بھاشانی کسان کانفرنس کے نام سے مشہور ہوئی۔

پاکستانی حکمراں اشرافیہ اور مقتدر قوتوں کی بے حسی کو دیکھتے ہوئے مولانا بھاشانی اور مشرقی پاکستان کی نیشنل عوامی پارٹی نے مغربی پاکستان کو خدا حافظ کہہ دیا تو نیشنل عوامی پارٹی بھاشانی کے مغربی پاکستان کے ساتھیوں نے 23 مارچ 1971 کو خانیوال میں پارٹی ورکرز کنونشن اور ایک بڑاکسان کانفرنس کر کے پاکستان سوشلسٹ پارٹی کی بنیاد رکھی۔ ملک محمد علی بھارا اس کے انتظامات میں پیش پیش رہے۔ پارٹی کارکنوں نے کانفرنس میں اپنی ماضی کی سیاست اور ملک کےبدلتے ہوئے حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے جو نتائج اخذ کئیےان میں ایک اہم یہ تھا کہ ایک ہی وقت میں زیر زمین پارٹی اور ایک آشکار پارٹی چلانا آج کے دور میں ممکن نہیں ہے۔ اس لیے نئی پارٹی جمہوری بنیادوں پر ایک کھلا اور وسیع انقلابی پارٹی ہو گی تا کہ اس کے اندر نظریاتی یکجہتی ہو اور وہ عملی سیاست میں فعال کردار ادا کر سکے۔

بنگلہ دیش اور نئی پارٹی کے قیام کو ابھی چند برس ہی ہوئے تھے کہ ہمسایہ ممالک ایران اور افغانستان میں بڑی تبدیلیاں رونما ہونے لگیں اور 5 جولائی 1977ء کوپاکستان کی مسلح افواج نے اپنے ماضی کو دہراتے ہوئے ایک بار پھر اپنے ہی ملک کو فتح کر لیا اور ملک میں مارشل لا ء نافذکر دیا۔ ملک میں سیاسی سرگرمیاں محدود ہو گئیں اور مارشل لا ءکے سائے میں ایک عدالتی کاروائی کے بعد ملک کے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔ ہمسایہ ممالک ایران اور افغانستان میں تبدیلی کی لہر بے قابو ہونے لگی تو امریکی سامراج نے جلاوطن مذہبی رہنما آیت اللہ خمینی کو ہیرو بنا کر فرانس سے لا کر ایران میں متعارف کر وا دیا اور سماجی تبدیلی کا رخ بڑے منظم طریقے سے مذہبی تبدیلی کی طرف موڑ دیا۔ مغربی دنیا نے اسے ایک انقلاب کے طور پر پیش کیا اور اتنا جھوٹ بولا کہ وہی سب کو سچ نظر آنے لگا ۔

البتہ افغانستان میں عوام نے خلق پارٹی کی قیادت میں 1978ء میں داؤد کے اقتدار کو ملیا میٹ کر دیا۔ نور محمد ترہ کئی اور حفیظ اللہ امین کی قیادت میں اقتدار سنبھال لیا اور اس قبائلی سماج میں وسیع تر اصلاحات کا اعلان کر دیا۔ خطے میں تیزی سے بدلتے ہوئے حالات سے امریکی سامراج کے مفادات کو بہت دہچکا لگا اور اسے تیل کی دولت سے مالا مال خلیجی ممالک میں ان تبدیلیوں کے اثرات کا خطرہ محسوس ہونے لگا۔ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے اپنی تاریخ کا سب سے بڑا اپریشن شروع کیا جس کے لیے ہمسایہ ممالک کے خلاف پاکستانی سرزمین فوجی ڈکٹیٹر جنرل ضیا ٕ نے سی آئی اے کے حوالے کر دی۔ دنیا بھر سے مذہبی ابتہا پسند جہادیوں کی بھرتی شروع ہو گئی جس کے لیے امریکہ، مغربی ممالک اور سعودی عرب نے ڈالروں کی بوریاں کھول دیں۔ اس طرح ہمارے مارشلائی حکمرانوں نے نہ صرف افغانستان کو تباہ کروا دیا، بلکہ پاکستان کی سیاسی و سماجی بنیادوں کو بھی کھوکھلا کر دیا۔ جہاد کے اس جنون نے وطن عزیز کی تیں نسلیں برباد کر دیں اور 90 ہزار سے زیادہ بے گناہ شہری اس سامراجی جہادی پراجیکٹ کے نتیجے شہید کر دئے گئے۔

سال 1983ء میں تحریک بحالیٍ جمہوریت (ایم آر ڈی) قائم ہو گئی، جس نے مارشل لا ءکا خاتمہ، آئین کی بحالی اور جمہوریت کے تسلسل کے لیے تحریک کا اعلان کر دیا۔ اس اتحاد کے رہنماؤں نے پاکستان سوشلسٹ پارٹی کو اس میں یہ کہہ کر شامل نہیں کیا کہ اس سے تحریک میں سوشلسٹوں کا پلڑا بھاری ہو جائے گا۔ پارٹی نے ملک میں آئنیاور جمہوری حقوق کی بحالی اور سیاسی آزادیوں کے لیے اپنے طور پر حصہ ڈالنے کے پروگرام مرتب کئے۔ پارٹی نے ایک طرف ملک بھر میں کسان اور مزدورکانفرنسوں کا پروگرام ترتیب دیا تو دوسری طرف پارٹی کےجنرل سیکرٹری عابد حسن منٹو کی زیر قیادت وکلا ءکو منظم کیا گیا ۔ جنس کے نتیجے میں لاہور میں وکلا ءکا کل پاکستان کنونشن منعقد کر کے وکلا ءکی ملک گیر تحریک کا آغاز کیا گیا جس نے ملک میں مارشل لاء کاخاتمہ، آئنی اور جمہوری اداروں کی بحالی اور جماعتی بنیادوں پر الیکشن کا مطالبہ کر دیا۔ طلبا کے محاذ پر سوشلسٹ سٹوڈینٹس آرگنائزیشن نے دوسری ترقی پسند تنظیموں کے ساتھ مل کر پاکستان پروگریسوا سٹوڈینٹس الائنس کی بنیاد رکھی، جس کا راقم بھی حصہ تھا۔

پھر اچانک ملک میں طیارہ اغواہ کا ڈرامہ رچایا گیا اور سیاسی رہنماؤں کی گرفتاریاں شروع ہو گئیں۔ ملک بھر میں پیپلز پارٹی کے بعد دوسرے نمبر پر پاکستان سوشلسٹ پارٹی کے رہنماوں اور کارکنوں کو گرفتا رکر کے نظر بند کر دیا گیا۔ پارٹی کا اخبار ”عوامی جمہوریت“ بند اور مرکزی و علاقائی دفاتر سیل کر دیے گئے۔ ملک محمد علی بھارا، پارٹی کے مرکزی نائب صدر انیس ہاشمی اور سندہ پارٹی کے جنرل سیکرٹری حسن عسکری پولیس چھاپے کے وقت گھر پر موجود نہ ہونے کی وجہ سے گرفتاری سے بچ گئے۔ جو پہلے چند ہفتے علامہ اقبال ٹاؤن لاہور میں ہمارے مکان میں رہے، بعد ازاں متبادل بندوبست کر لیا گیا۔ انیس ہاشمی نے پارٹی اخبار کی ذمہ داری سنبھال لی جس کی اشاعت اور ترسیل کے لیے میں معاونت کرتا تھا ۔راقم ان دنوں انجنئیرنگ یونیورسٹی لاہور میں زیر تعلیم تھا اور سوشلسٹ اسٹوڈینٹس آرگنائزیشن کے پلیٹ فارم سے سرگرم تھا ۔

ملک محمد علی بھارا نے ملک بھر میں پارٹی اکائیوں سے رابطوں کی ذمہ داری سنبھال لی اور پہلی مرتبہ پارٹی کے تنظیمی معاملات میں اپنی لگن، محنت، بے لوث وابستگی سے تنظیمی صلاحیتوں کو منوایا۔ چھ ماہ بعد سیاسی رہنماؤں کی رہائی ہوئی تو کسان کمیٹی کے صدر چوہدری فتح محمد، جنرل سیکرٹری ملک محمد علی بھارانے پنجاب کسان کمیٹی کے صدر مختار چودھری ایڈووکیٹ، صوبائی جنرل سیکرٹری محمد علی سپھول اور پارٹی صدر سی آر اسلم کے ساتھ مل کر پنجاب میں، اور اسحاق منگریو اور حسن عسکری کے ساتھ مل کر سندھ میں کسان کانفرنسوں کا پروگرام ترتیب دیا، جن سے ضیاءکی دہشت کے دور میں انقلابی کارکنوں کا حوصلہ بلند ہوا۔ بایاں بازو کے اس تحریک نے ملک بھر کے ترقی پسند کارکنوں میں 1953ء کے بعد کی بکھری ہوئی ترقی پسند تحریک میں یکجا ہونے کا جذبہ بیدار کر دیا اور ساری ترقی پسند جماعتوں کے کارکن کسان کانفرنسوں میں آنے لگے، اور اپنی پارٹیوں کی لیڈر شپ سے ترقی پسند قوتوں کو یکجا کر کے ایک منظم، متحرک، با عمل اور متحدہ سیاسی جماعت کے قیام کا مطالبہ کرنے لگے۔ اس سارے عمل کا مثبت نتیجہ نکلنا شروع ہو گیا اور بایاں بازو کی سیاسی جماعتوں نے باہمی ادغام کر کے متحدہ سیاسی جماعت بنانے کی راہ ہموار کی۔ 1996ء کو کیمونسٹ لیگ اور سوشلسٹ پارٹی کےادغام سے پاکستان ورکرز پارٹی اور بعد میں پی این پی کے ایک دھڑے کے ساتھ مل کر نیشنل ورکرز پارٹی بنائی. اس کے بعد یہ سلسلہ جاری رہا اور نومبر 2012 میں ورکرز پارٹی، لیبر پارٹی اور عوامی پارٹی کےادغام سے بایاں بازو کی سب سے بڑی جماعت ‘عوامی ورکرز پارٹی’ وجود میں آگئی۔ ملک محمد علی بھارااس سارے عمل میں فعال کردار ادا کرتے رہے۔

کسان رہنما ملک محمد علی بھارا نے 1951ء سے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا۔ وہ پاکستان کیمونسٹ پارٹی کے سفر سے لے کر عوامی ورکرز پارٹی تک ایک اہم اور سرگرم رکن رہے۔ ان کی ساری زندگی کسانوں اور مزدوروں کو منظم اور ان کی حکمرانی قائم کرنے کے لیے جدوجہدمیں گزری۔ ملک محمد علی بہارا نے اپنی جوانی میں سماجی تبدیلی اور استحصال سے پاک معاشرے کا جو خواب دیکھا، اس کی تعبیر کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دیا۔ ایسے مخلص اور بے لوث نظریاتی انسان اپنی آنے والی نسلوں کے لیے مثالی کردار ہوتے ہیں اور سماجی تبدیلی اور انصاف پہ مبنی سماج کے قیام کے لیےجدوجہد انہیں ہمیشہ زندہ رکھتی ہے۔

پرویز فتح لیڈز میں مقیم اور عوامی ورکرز پارٹی برطانیہ کے متحریک رکن ہیں، وہ پیشے کے لحاظ سے ایرو سپیس انجنئر ہیں او ر ساوتھ ایشین پیپلز فورم کے کوآرڈینیٹر بھی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں