ووٹ کس کو دینا چاہئے؟

اخون بائے

گلگت-بلتستان اسمبلی کے انتخابات میں کئی امیدوار میدان میں ہیں۔ کچھ لوگوں کو پارٹی ٹکٹ ملی ہے. وہ خوش ہیں کچھ لوگ ٹکٹ نہ ملنے پہ ناراض ونالاں بھی ہے اور ناراضگی کی شدت بعض جگہوں پر اتنی ہے کہ پارٹیوں کے اندر کئی دھڑے بن گئے ہیں اور ہر دھڑا نے اپنے امیدوار میدان میں اتارے ہیں اور ناراضگی وتکرار کا سلسلہ پولنگ کے دنوں تک چل سکتا ہے۔ان میں سے کئی امیدوار دستبردار ہوں گے کئی باقاعدہ الیکشن میں حصہ لیں گے۔
اب تک کی اطلاعات کے مطابق ہنزہ کی اکلوتی نشست جی بی ایل اے 6 پر ایک درجن سے زائد امیدوار میدان میں ہیں۔ ان میں سےآدھا درجن آزاد امیدوار ہیں.

لیکن عوام (ووٹر) کے لیے ایک مشکل سوال یہ ہے کہ کس کا انتخاب کریں؟ اور یہ سوال مشکل بھی ہے اور بسا اوقات وہ اپنی سمجھ بوجھ ، خوش کن نعروں، وعدوں اور ترغیبات کے زیر اثر آگر کسی کو منتخب کر لیتے ہیں تو ان کا انتخاب اور امیدوار کے بارے میں تصور غلط ثابت ہوتا ہے ۔ اور وہ نمائندہ ان کی امیدوں پر پوری طرح نہیں اترتا یا معاشرے کے تقاضے کے مطابق اس کی کارکردگی مایوس کن ہوتا ہے ۔ یہ اس لیے ہوتا ہے کہ نصاب، میڈیا اور پروپیگنڈے کے ذریعے ایسا ماحول بنایا جاتا ہے کہ لوگوں کے پرکھنے کی صلاحیت ختم ہوتی اور وہ ابہام کے شکار ہوجاتے ہیں اور پھر معیار کی بجائے رشتہ داری، تعصب، لالچی دباؤ اور دھوکے کے زیر اثر اپنا ووٹ دیتے ہیں۔

جیساکہ کسی انقلابی رہنما نے کہا ہے کہ”سیاست میں ہمیشہ لوگوں کو بیوقوف بنائے جاتے ہیں اور وہ تب تک بیوقوف بنتے ہیں جب تک اس کے پیچھے طبقاتی مقاصد کو نہ سمجھے”۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک ووٹرز طبقاتی مقصد اور امیدوران کے معیار کو سمجھیں اور یہ کام آسان نہیں اس کے ایک پیمانہ اپنی ذہنوں میں بنانا چاہیے اور اسی پہ امیدواروں کو پرکھنے کی ضرورت ہے جو میری سمجھ کے مطابق کم از کم درج ذیل ہونا چاہیئے۔

1- پہلی چیز امیدوار کی خوبیوں، خاصیتوں اور خامیوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے جو سب سے مشکل ہے کیونکہ کہا جاتا ہے کہ ایک لیڈر میں جو خوبیاں ہونی چاہئے وہ پچاس سے زیادہ ہے ۔لیکن ظاہر ہے کہ تمام کے تمام خوبیاں تو کسی فرشتے میں ہو سکتے ہیں انسان میں نہیں۔ لہذا چند موٹی موٹی چیزوں کو دیکھنا ضروری ہے جن میں سے بعض کا ذکر تو ہوتے ہیں لیکن پائے نہیں جاتے، جیسے صادق اور امین۔ یہ خاصیت جس میں نہیں وہ لیڈر نہیں ہو سکتا ۔اس کے علاؤہ جن خاصیتوں کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے وہ یہ کہ عوام سے مخلص ہوں ان سے جڑے ہوئے ہوں ان کے مسائل اور ان کے حل کا ادراک ہو، وسائل اور ان کے بہتر استعمال کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ عوام کو نقصان پہنچانے والے عوامل کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں اور ان سے برسر پیکار ہوں، اور استقامت اور مستقل مزاجی سے مصائب و آلام برداشت کر کے اپنے منشور پہ چعمل پیرا ہوں، انہیں عوام کے حقوق کا ادراک ہوں اور ہمیشہ عوام کو اپنے حقوق کے لیے اٹھ کھڑے ہونے کے لیے شعور اور ہمت دیتا ہو اور عملہ جدوجہد کے لئے منظم اور تیار کرتا رہتا ہو۔

2- امیدوار کو پر خلوص ہونا چاہئے اور اس کے لئے الیکشن میں آنے کے مقاصد کو سمجھنا ضروری ہے وہ کسی مالی فائدے، شہرت یا کسی ایسے مقصد سے تو نہیں آئے جس سے صرف امیدوار کو ذاتی فائدہ ہو مثلاً ہمارے یہاں امیدوار اکثر جیت کر کرپشن کے ذریعے مال کمانے، دولت اورشہرت کمانےیا اپنے کسی غیر قانونی کاروبار یا جرائم کے کو تحفظ دینے کے لئے آتے ہیں جسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔

3-پارٹی کا انتخاب امیدوار کی خاصیتوں اور خوبیوں کو پرکھنے کے ساتھ ساتھ پارٹی کو بھی پرکھنا ضروری ہے جس میں لگ بھگ انہی چیزوں کا خیال رکھنا ہوتا ہے جو ایک امیدوار میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ یعنی یہ کہ پارٹی عوام سے مخلص ہو جس کے نناوے فیصد ارکان محنت کش ہوں ؛ پارٹی کی منشور میں اسی طبقے کی خوشحالی کے پروگرام ہو۔پارٹی کا چھوٹا بڑا ہونا، اقتدار یا حزب اختلاف میں ہونا خوبی یا خامی نہیں ۔ چونکہ دنیا کی تاریخ میں ہزاروں پارٹیاں بنی، اقتدار میں آئے اور پھر مٹ بھی گئے ہیں۔

گلگت بلتستان کے تناظر میں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کسی پارٹی کے پاس یہاں کے انسانی اور قدرتی وسائل مثلاً ، معدنیات، جنگلی حیات، پانی، سیاحت اور تجارت اور تجارتی راستوں کو بہتر طریقے سے بروئے کار لاکر خوشحالی للانے اور عوام کو تعلیم صحت اور روزگار فراہم کرنے کی صلاحیت ہے ۔

اس کے علاؤہ اس پارٹی کے منشور میں گلگت-بلتستان کے متنازعہ حیثیت کا ادراک کے ساتھ مستقبل کے لیے بہترین آپشن موجود ہو جس میں انسان اور معاشرے کو معاشرتی انسانی، معاشی آزادی حاصل ہو۔

اس کے ساتھ پارٹی کے سربراہان ان کے منشور اور ماضی کی کارکردگیوں کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ ملک میں کئی پارٹیاں کئی بار حکومت میں آنے اور بلند و بانگ دعوے کے باوجود ملک کو معاشی، معاشرتی اورسیاسی لحاظ سے ابتری کا شکار بنا دیا ہے۔ اس کی وجہ ان پارٹیوں کے سربراہان کی عوام دشمن رویہ، اور سرگرمیاں ہے۔ چونکہ ان کا تعلق اشرافیہ طبقہ سے ہوتا ہے اس لیے عام آدمی کے دکھ درد اور مسائل سے ناواقف ہوتے ہیں۔ ان کا کوئی اخلاقی اور سماجی اقدار اور اصول نہیں ہوتے ہیں۔وہ اپنے طبقاتی مفادات کے لئے ہمیشہ پارٹیاں اور وفاداریاں بدلتے رہتے ہیں۔ مکاری، فریب، بدعنوانی اور منافقت ان کا شیوہ ہے ،جس کی وجہ سیاست ،جھوٹ اور فریب کا دوسرا نام بن گیا ہے عوام کو اب سچی اور حقیقی عوامی پارٹی کو مظبوط بنا کر اس تاثر کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

آزاد امیدوار کی صورت میں اچھے سماجی شخصیات سامنے آسکتے لیکن ان کا کو ئی مستقل پروگرام نہیں ہوتا نہ ہی ان کے ساتھ ٹیم ہوتی ہیں۔ دوسری بات اب تک آزاد امیدواروں کے جیتنے کے بعد خریدوفروخت کے شرمناک عمل اکثر مشاہدے میں آئے ہیں اس لیے ان کے انتخاب کے زائد وقت ان کے مقاصد کو سمجھنا ضروری ہے۔

لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرے کی خوشحالی اور بہتر اور متبادل نظام کے لئے "مجھے سیاست پسند نہیں” کے نمائشی اور نقصان دہ بیانیہ سے باہر نکل کر سیاست میں بطور ووٹر، سیاسی کارکن اور سیاسی لیڈر بھر پور حصہ لینا ہے۔ چونکہ ہمارا قانون ،ہماری ترقی، ہمارا نظام سب اسی نا پسندیدہ چیز سے جڑے ہوئے ہیں۔

آخون بائے بایاں بازو کی جماعت عوامی ورکرز پارٹی ہنزہ کے جنرل سکریٹری ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں