پاکستانی معاشرہ اور کم سنی کی شادیاں

تحریر: اثر امام

پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کی کم سن دلہنوں کی آبادی بہت زیادہ ہے. اس ملک کی اکیس فیصد دلہنیں ابھی مکمل عورت نہیں بنی ہوتیں, ابھی ان کی عمر اٹھارہ برس بھی نہیں ہوئی ہوتی کہ ان کا بیاہ کردیا جاتا ہے. دولہا کبھی انہی کی طرح کا بچہ ہوتا ہے یا پھر بعض اوقات دلہن کے والد یا دادا کی عمر کا بھی.
اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسیف کی ایک رپورٹ کے مطابق کم سنی کی شادیوں کے معاملہ میں پاکستان دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے. افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ ملک کی ایک تہائی آبادی پہلے ہی بچوں (اٹھارہ سال سے کم عمر) پر مشتمل ہے, اب ان بچوں کی شادی کرا کے پھر ان کو اپنے بچے پیدا کرنے کی ذمہ داری سونپ دی جاتی ہے. جن بچوں کی اپنی عمر ابھی کھیل کود میں مگن رہنے کی ہوتی ہے انہیں اپنے خود کے بچے پیدا کر کے انہیں کھیل کود میں مصروف رکھنے کی ذمہ داری دی جاتی ہے. جو بچے ابھی ٹھیک سے خود کو سنبھالنے کے قابل نہیں ہوئے ہوتے انہیں ان کے بچے سنبھالنے پڑ جاتے ہیں.


پاکستان میں کم سنی کی شادی کے معاملہ پر کام کرنے والی مختلف این. جی. اوز اور دیگر اداروں کی اسٹڈی سے ظاہر ہوتا ہے کہ (اعداد و شمار جزوی طور پہ مبالغہ آرائی پر مشتمل بھی ہو سکتے ہیں) ملک میں سالانہ قریب 700 عیسائی اور 300 ہندو بچیوں کو جبری تبدیلیء مذہب اور شادی کے کرب سے گزارا جاتا ہے. ایسے معاملات میں غیر مسلم کم سن بچیوں کو ورغلایا جاتا ہے, انہیں اغوا کر کے غیر قانونی حراست میں رکھا جاتا ہے, جس عمر میں ایک بچی اپنے مذہب (عیسائیت / ہندومت) کا مطالعہ اور ادراک تک حاصل نہیں کر پاتی, کہا جاتا ہے کہ اس نے اپنے مذہب پر عبور پا کر اسے رد کردیا اور پھر اسی عمر میں اسلام کا مطالعہ اور ادراک حاصل کر کے اسے قبول کر لیا. بعد ازاں اسے اس کے خاندان سے الگ کر کے جبراً بیاہ دیا جاتا ہے. گو کہ سندہ میں کم سنی کی شادی پر قانوناً پابندی عائد ہوئی ہوئی ہے تا ہم چونکہ وفاقی حکومت نے لڑکے کیلیے شادی کی کم سے کم عمر اٹھارہ جبکہ لڑکی کیلیے سولہ سال کی شرط عائد کی ہوئی ہے لہٰذا سندھ میں بھی یہ قانون مبہم شکل اختیار کر لیتا ہے. چونکہ ہمارے ملک میں کم سنی کی شادی کو عموماً غلط یا برا نہیں سمجھا جاتا لہٰذا ایسی شادیوں کی رپورٹ میڈیا یا پولیس تک نہیں پہنچ پاتی. اس کے باوجود بھی فقط گذشتہ برس ہی پولیس کو 104 ایسی شکایتیں موصول ہوئیں جن میں دولہا یا دلہن یا دونوں کی عمر اٹھارہ سال سے کم تھی. اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کم سن بچوں کی شادی کے واقعات کی حقیقی اور کل تعداد کیا ہوگی.
ہمارا معاشرہ مردانہ حاکمیت پر قائم ہے اس لئے کم سنی کی شادی کے بندھن میں بندھنے والا لڑکا تو پھر بھی کسی طرح خود کو سنبھال لیتا ہے, بہت ہوا تو وہ دوسری, تیسری اور پھر چوتھی شادی کر لیتا ہے لیکن کم سن دلہن کی زندگی برباد ہو جاتی ہے. اس کے پاس کم سن دولہا کی جتنی راہیں نہیں کھلی ہوتیں. کم سن دلہن کی صحت, تعلیم, معاشی, معاشرتی اور نفسیاتی حیثیت تباہ ہو کے رہ جاتی ہے. ایسی لڑکیاں جب ماں بننے کے مراحل طے کر رہی ہوتی ہیں تب ان کی صحت کے معاملات بہت پیچیدہ ہو جاتے ہیں. جو لڑکی ابھی خود ہی ایک بچی ہوتی ہے, جب اپنے پیٹ میں ایک اور بچہ پالنا شروع کرتی ہے تب بہت زیادہ مشکلات اور پیچیدگیاں جنم لیتی ہیں. کم سنی کی شادی کرنے والے جوڑوں کی اولادیں یا تو ماں کے پیٹ کے اندر یا پیدا ہوتے ہی فوت ہو جاتی ہیں. اگر خوش قسمتی سے بچ بھی جائیں تو بہت ہی کمزور اور نحیف پیدا ہوتے ہیں. اس کے علاوہ پہلی بار ماں بننے کا تجربہ عموماً جان لیوا ہونے کے امکانات اور خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے. اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ایسی بچیاں عموماً دیہی علاقوں میں بیاہی جاتی ہیں جہاں صحت اور بالخصوص زچگی کے کیسز دیکھنے کیلیے لیڈی ڈاکٹر, گائنی اسپیشلسٹ, نرسیں, ہسپتال, علاج معالجہ اور آپریشن وغیرہ کیلیے سہولیات نہ ہونے کے برابر ہوتی ہیں. ان دیہی علاقہ جات کے لوگوں کیلیے شہروں تک رسائی قریب قریب ناممکن ہوتی ہے یا اکثر اوقات شہری ہسپتالوں تک پہنچتے پنہچتے زچہ اور بچہ قضائے الٰہی کو لبیک کہہ چکے ہوتے ہیں.
اعداد و شمار کے مطابق اس وقت بھی پاکستان میں بیس سال کی عمر کی ماؤں کا آٹھ فیصد پہلی مرتبہ اٹھارہ سال سے بھی کم عمر میں مائیں بنی تھیں. زچگی کی پیچیدگیوں کی وجہ سے ہر بیس منٹ میں ایک عورت فوت ہو جاتی ہے.
کم سنی کی شادی کی وجہ سے لڑکیاں بڑی آسانی کے ساتھ اپنے شوہر اور اس کے دیگر رشتہ داروں کے ہاتھوں گھریلو تشدد کا شکار بن جاتی ہیں. وہ شوہر کے ہاتھوں جنسی تشدد (بیوی کی رضامندی کے بغیر جنسی عمل) کا شکار بنتی ہیں. وہ اسکول, کالج جانا چھوڑ دیتی ہیں یا انہیں ایسا کرنے کیلیے مجبور کردیا جاتا ہے. نتیجتاً لڑکیاں یا تو تعلیم حاصل نہیں کر پاتیں یا پھر اس تعلیم کا معیار قابلِ ذکر نہیں ہوتا. غیر معیاری تعلیم یا بالکل ان پڑھ ہونے کی وجہ سے ایسی لڑکیاں کوئی روزگار بھی تلاش نہیں کر پاتیں اور معاشی حوالے سے شوہر اور اس کے رشتہ داروں پر انحصار ان کی زندگی کو نیم غلامانہ طرز کا بنا دیتا ہے.
کم سنی کی شادی کی وجہ سے ملک کا معاشی نقصان بھی ہو رہا ہے. ایک اندازے کے مطابق کم سنی کی شادی کی وجہ سے 2030 تک ملک کو سالانہ 4 کھرب امریکی ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑے گا. یعنی اگر لڑکیاں کم سنی کی شادی سے بچ جاتیں تو وہ اپنی تعلیم مکمل کر سکتی تھیں, ملازمت حاصل کر کے اپنی اور ملک کی معاشی حالت کو بہتر بنانے میں کردار ادا کرتیں. اگر ایسا ہوتا تو 2017 کی ایک اسٹڈی کے مطابق ملک کو سالانہ 13 فیصد کا فائدہ ہونا تھا. لیکن ایسا نہیں ہو پایا کیونکہ ہم کم عمری کی شادیوں کو نہیں روک پا رہے. اگر ہمارا معاشرہ کم سنی کی شادیوں پر قد غن لگا سکے تو لڑکیاں اچھی اور اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکتی ہیں. ملازمت اختیار کر سکتی ہیں اور اپنی اور اپنے سسرال کی معاشی حالت کو قدرے بہتر بنا سکتی ہیں جس کے نتیجے میں سسرال میں لڑکیوں کی قدر و منزلت بھی بڑھے گی اور بہتر ہوگی.
پاکستان میں بچوں کی شادی کردینے کی وجوہات مختلف اور متعدد ہیں بالخصوص تعلیم کی کمی یا عدم موجودگی, املاک کی منتقلی کا مسئلہ, مذہبی و ثقافتی رسوم و رواج اور احکامات, جنسی تعلیم کی عدم موجودگی اور ہوس پرستی وغیرہ اہم اسباب ہیں.
کم سنی کی شادیوں کی روک تھام کیلیے بھرپور سماجی بیداری مہم چلانے کی ضرورت ہے. ساتھ ہی قانون سازی اور اس سلسلے میں پہلے سے موجود قوانین پر عملدرآمد کی ضرورت ہے. فرنگیوں نے 1929 میں ایک قانون بنایا تھا کہ لڑکیوں کیلیے شادی کی کم از کم عمر 14 سال ہوگی. اس قانون کی خلاف ورزی کرنے پر ایک ہزار روپے جرمانہ ادا کرنا پڑتا تھا. اس زمانے میں یقیناً یہ ایک بڑی رقم تھی. تب سے آج تک اس قانون میں فقط ایک ترمیم کر کے لڑکی کیلیے شادی کی کم سے کم عمر چودہ کی بجائے سولہ برس کردی گئی ہے. ان قوانین میں مثبت ترامیم کی فوری ضرورت ہے.
سندھ اسیمبلی نے کم سنی کی شادیوں کو روکنے کیلیے 2013 میں ایک قانون بنایا تھا جس کے تحت 18 سال سے کم عمر لڑکیوں کی شادی قانوناً ناجائز قرار دی گئی تھی. اس طرح کی شادی کرانے والے سب لوگوں کو کم از کم دو سال قید کی سزا تجویز کی گئی تھی. حالانکہ یہ اچھی بات ہے کہ سندھ اکیلا ایسا صوبہ ہے جس نے اس طرح کی قانون سازی کی لیکن مرکزی حکومت کی مداخلت اور لڑکی کیلیے شادی کی کم سے کم عمر سولہ سال برقرار رکھنے کا فیصلہ سندھ کی اس سلسلہ میں قانون سازی کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے.
کم سنی کی شادیوں کی روک تھام کیلیے دنیا کے 116 ممالک میں قانون سازی پر کام ہو رہا ہے. مسلم ممالک میں سے سعودی عرب, ترکی, متحدہ عرب امارات اور عمان میں تو اس طرح کی قانون سازی ہو بھی چکی ہے. ان ممالک میں اٹھارہ سال سے کم عمر لڑکی کی شادی نہیں کرائی جا سکتی. ہمارے ہاں مذہبی پیشوا اور علما اس طرح کی قانون سازی کو غیر شرعی اور غیر اسلامی قرار دے کر رد کرتے رہتے ہیں بالخصوص جمیعت علماء اسلام اور جماعتِ اسلامی اس کی شدید مخالفت کرتی ہیں. مجلسِ شوریٰ اور وفاقی شرعی عدالت بھی اس طرح کی قانون سازی کی مخالف ہیں. حالانکہ ان شوراؤں اور شرعی عدالتوں نے آج تک سُود خوری کی روک تھام کیلیے کوئی کامیابی حاصل نہیں کی لیکن اٹھارہ سال سے کم عمر لڑکیوں کی شادی کو روکنا اور زرعی اصلاحات کرنا انہیں غیر شرعی اور غیر اسلامی لگتا ہے.
بہرحال, پاکستان کو ان ملاؤں کی دلجوئی کرنے کی بجائے متذکرہ بالا اسلامی ممالک کی پیروی کرتے ہوئے اس طرح کی قانون سازی کر کے معاشرہ کو ترقی پسند اور انسان دوست بنانے کی کوشش کرنی چاہئے.
asarimam@gmail.com

اپنا تبصرہ بھیجیں