کورونا اور آلو کا کھیل


فداعلی شاہ غذری

وادی پھنڈر جہاں اپنی بے پناہ خوبصورتی سے دنیا بھر میں اشکار ہے وہاں آلو کی فصل کی وجہ سے بھی اچھا خاصا نام رکھتا ہے۔ یہاں کے مکین قدیم آیام سے اس فصل سے مستفید ہو تے رہے ہیں اور آج بھی آلو یہاں کی بہترین اور مشہورپیداوار ہے۔ گزشتہ ایک عشرے سے آلو کی فصل غیر مقامی بیو پاریوں اور ٹھیکہ داروں کی وجہ سے ملکی منڈیوں میں مقام حاصل کر چکی ہے جس کی پوری کر یڈٹ کے حقدار کےپی کے اور پنجاب کے یہ ٹھیکہ دار ،بیوپاری اور مزدور حضرات ہیں جو پچھلے ڈیڑھ عشرے سے پورا سیزن اس وادی میں موجود رہتے ہیں مگر اس بات میں عین صداقت ہے کہ آلو سے مقامی لوگوں کو اتنا فائدہ نہیں پہنچ سکا جتنا ان کا اپنا فائدہ ہو رہا ہے لیکن ان کی محنت اور کنٹری بیوشن پر داد نہ دینا زیادتی ہوگی۔
آج کل پھنڈر اور یہاں کے مہمان ٹھیکہ داروں، مزدوروں اور مقامی لوگوں کا ذکراخبارات اور سوشل میڈیا پر چھایا ہو اہے اور گلگت بلتستان حکومت ،ضلعی انتظامیہ اور مقامی لوگوں کے درمیان بد اعتمادی کی فضا بتدریج مزید خرابی کی طرف گامزن ہے۔ فروری کے آخری عشرے جب پاکستان میں کرونا کا پہلا کیس سا منے آیا تو بد قسمتی سے گلگت بلتستان بھی میڈیا میں کرونا کے حوالے سے سر فہرست رہا اور پاکستان کا پہلا مسیحا ڈاکٹر اسامہ شہادت کے مر تبے پر فائز ہو ئے اور کیسز کی رفتار تیزی سے آگے بڑھتی رہی۔ مارچ کے دوسرے عشرے حکومت گلگت بلتستان نے دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہو ئے لاک ڈاون کا فیصلہ کی اور جی بی کے تمام اضلاع میں دفعہ 144 لگا کر نقل و حمل پر پابندی عائد کی گئی جو کہ ایک نہایت سنجیدہ اور بروقت فیصلہ تھا ۔ ضلعی انتظامیہ غذر کا کردار قابل تعریف رہا اور مجھ سمیت تمام لکھاری و صحافی ڈی سی چوک پر موجود ڈپٹی کمشنر محمد طارق ، ایس ایس پی راوف اسسٹنٹ کمشنر پونیال حبیب الرحمن اور اے ایس پی فیضان علی کو ان کی بہترین انتظامات اور کار کر دگی پر داد دے رہے تھے جو وہاں چوکس رہ کر عوام کو گھروں میں محدود رکھنے میں اہم رول ادا کر تے رہے اور ان کے لئے فکر مند رہے۔ سب کچھ ایک منظم انداز سے جاری تھا کہ اچانک آلو کا ذکر شروع ہوا۔۔۔۔
سوات کے مصطفی نے سخت ترین لاک ڈاون کے باوجود ۹ ٹرک آلو متحرک انتظامیہ ،چیک پوسٹ پر چوکس پولیس اور کنٹرول روم کے جانبازوں کو سبزی سپلائی کے نام پر چکما دیا اور آلو کے بیچ یکے بعد دیگرےپھنڈر منتقل ہو تی رہی اور ساتھ مقامی لوگ تحصیلدار پھنڈر کا دروازہ کھٹکھا تے رہے مگر موصوف اپنے باس ڈی سی کو اندھیرے میں رکھا یا پھر ڈی سی بھی شاید کھیل کا حصہ تھا ۔ جب پھنڈر کا ایک نمائندہ وفد پی ٹی آئی کےرہنما شاہ حسین، مسلم لیگ ن کے سکرٹری اطلاعات حافظ عبدالرحیم، سماجی کارکن حسین شاہ اور راقم پر مشتمل ایک وفد ڈی سی کو اس حوالے سے آگاہ کیا تو وہ حیران ہو ئے اور اس سیکورٹی کمزوری کا اعتراف کرتے ہوئے تحقیقات کرنے اور ٹھیکہ داروں سمیت مزدورں کو ضلع میں داخلے کی اجازت نہ دینے کا وعدہ کرکے تحصیلدار پھنڈر کو احکامات جاری کیئے کہ وہ کمیو نٹی سے مل کر یہ طے کر یں کہ بیچ واپس بھیجوانا ہے یا کو ئی اور حل نکالنا ہے مگر بد قسمتی سے وہ تمام احکامات وفد کو ٹر خا کر رخصت کر نے کا حر بہ نکلے اور وہ اپنے کسی وعدے پر پابند نہ رہ سکا اور اپنے تینوں وعدے ردی کی ٹوکری میں ڈالنے میں بہتری سمجھے کیو نکہ ملاقات کے بعد مزید ٹرک پھنڈر پہنچ گئے۔

بات تب بگڑ گئی جب پشاور کے ایک غیر معروف رحمان میڈیکل انسٹیٹیوٹ سے غیر تصدیق شدہ سر ٹیفکیٹس اور ایک ایگری کلچر ڈیپارٹمنٹ کے کوارڈینٹر آفتاب ڈارکی سفارش کو این او سی سمجھ کر ان کی آڑ میں 42 مزدوروں کو پھنڈر پہنچا دیا گیا۔ عوام اور عوامی نمائندوں کی جا نب سےتمام تر جائز طریقوں سے انتظامیہ کیساتھ گفتگو کی کوشش کی گئی مگر جھوٹ پر جھوٹ بولا گیا۔ حتٰی کہ حکومتی وزیر اور مشیر سے بھی جھوٹ بول کر عوام کو طیش دلایا گیا۔

گو پس پھنڈر کے اے سی عوامی نما ئندے کی کال اور مسیجز پر ٹس سے مس نہیں ہوئے اور عوامی دعوت کے باوجود پھنڈر آنے سے انکار رہ کر ایک نوجوان اور نا تجربہ کار نائب تحصیلدار کے ناتواں کاندھوں پر یہ بوجھ ڈالا جو ابھی ابھی بھرتی ہو ئے ہیں۔ یوں عوامی غم و غصہ بڑھتا گیا جوبالکل جا ئز تھا کیونکہ وبا کے خوف سے جی بی سمیت پورے ملک میں نظام زندگی متاثر ہے ۔ مقامی تاجر، ٹرانسپورٹرز اور ہو ٹل ما لکان معاشی بحران سے دو چار ہیں اور غذر آنے والی ما ئیں آور بیٹیاں بھی قرنطینہ کے عمل سے گزر ری ہیں تو وہاں آلو والے غیر مقامی افراد کے ساتھ انتظامیہ کی نرمی اور مدد کس وجہ سے ہے؟ ۔ عوام پھنڈر انتہا ئی تحمل سے اس مسلے کا حل چا ہتے ہیں تو انتظا میہ جان بوجھ کر چیزیں خرابی کی طرف لے جا رہی ہے۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ ان لوگوں کی تعداد کم کر ے چار ذمہ دار افراد کو گلگت میں ٹیسٹ کے بعد یہاں رکھے اور انہیں (ٹھیکہ داروں)کسی نقصان سے بچانے کے لئے آلو کے بیچ زمینداروں کے حوالے کریں اور مقامی مزدوروں کے ذریعے کاشت کاری کا کام سر انجام دیا جا ئے۔ اس مطالبے کو آنا کا مسلہ آخر کیو ں بنایا جا رہا ہے اور اپنی ایک اچھی محنت اور کاوش پر انتظامیہ اور حافظ سر کار پا نی ڈالنے پر کیوں تلی ہو ئی ہیں ۔۔۔

غذر کے با سیوں کو زبر دستی کسی غلط ٹریک پر کس لئے دھکیلا جا رہا ہے اور کیوں ایک ستار نواز اور شاعر کے کہنے پر وبا پھیلانے کا رسک لیا جا رہا ہے۔ غذریوں کو وطن کی مٹی اوراس پر بسنے والا ہر شخص سے محبت ہے مگر اس محبت کی قیمت ان کی جان نہیں ہو نی چا ہئے۔۔ اس لئے دانشمندی کا مظا ہرہ کرکے اس سال آلو کاشت کی ذمہ داری زمین دینے والے حضرات کے سپرد کی جا ئے اور چار بندوں کو گلگت سے ٹیسٹ اور قرنطینہ کے مراحل سے گزار کر یہاں لایا جا ئے ورنہ دھوکہ دہی سے شروع ہو نے والا آلو کاکھیل وبا کا باعث بنے گا اور کئی انسانی جانوں پر ختم ہوگا جو نہایت افسوسناک ہوگا۔ خاکم بدہن ہو، جس کا آزالہ نہ سر کاری خزانے پر بوجھ کوئی شاعر اور اس کا موسیقار اورنہ ہی ان کے اشارے پر ناچنے والی سر کار کر سکے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں