کورونا: جی بی میں لاک ڈاون کو موثر بنانےکیلئے تجاویز پراتفاق

مزید نو افراد کرونا سے متاثر. مریضوں کی مجموعی تعداد 80 تک پہنچ گیا. علماء کمیٹی کی تشکیل اورمحلہ رزاکارون کی تربیت پر اتفاق


رپورٹ:عنایت ابدالی


گلگت: گلگت بلتستان میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر ایک اہم اجلاس ایف سی این اے کے ہیڈکوارٹر جوٹیال میں منعقد ہوا جس میں وزیر اعلی حفیظ الرحمن، ان کی کابینہ کے اراکین، ساسی، سماجی و مذہبی رہنماوں، فوجی اور سول انتظامیہ کے نمائندوں نے شرکت کیں.

پیر کے روز مزید نو نئے مریض سامنےآئے ہیں. اس طرح اب تک اس وباء سے متاثرین کی مجموعی تعداد 80 تک پہچ گئی ہے.

اجلاس میں کورونا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ اور وباء سے نمٹنے کے لیے اداروں اور سوسائٹی کی جانب سے مشترکہ اقدامات کرنے پر اتفاق رائے ہوا اور تجاویز کی منظوری دی گئی۔

شرکاء نے متفقہ طور پر اس بات کا فیصلہ کیا کہ وباء سے نمٹنے کے لیے صوبے کو مکمل طور پر لاک ڈاؤن رکھاجائے گا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکیورٹی فورسز کے زریعے اس پر سختی سے عمل درآمد کے لیےعملی اقدامات کیئے جائیں گے۔

حکام نے اس بات پر بھی زور دیا کہ لاک ڈاؤن کے دوران عوام کو اشیائے خوردو نوش کی کمی نہیں ہونے دیا جائے گا- اس سلسلے میں ادویات اور کھانے پینے کے سامان کی فراہمی کے لیئے دکانیں کھلی رکھی جائیں گی۔

منظور شدہ طریقئہ کار کے مطابق دکانوں کے باہر سینیٹائزر، صابن اور پانی رکھنا لازمی قرار دیا جا ئے گا۔

حکام اس دوران بازار میں ضروری اشیاء اور ادویات کی بلیک مارکیٹنگ پر مکمل طور پر نظررکھیں گے تاکہ ان کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔

اجلاس میں اس بات کا فیصلہ بھی کیا گیا کہ علماء پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو گلی, محلوں مساجد اور عبادت گاہوں میں عوام کو ایک دوسرے سے فاصلہ رکھنے اور دیگر اہم احتیاطی تدابیر سے متعلق آگاہی دیں گے تاکہ عوام لاک ڈاؤن پر مکمل عمل درآمد کر یں۔

اجلا س میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ عوام بلاضرورت اسپتالوں میں نہ جائیں۔

لاک ڈاؤن اوردیگر احتیاطی تدابیر پر بہتر طریقے سے عمل پیرا ہونے کے لیے اور عوام میں شعور اجاگر کرنے کے لئے گلی محلہ سطح پر رضاکاروں کو خصوصی تربیت بھی دی جائے گی۔

اجلاس میں اس بات کا فیصلہ بھی کیا گیا کہ ملک کے دیگر علاقوں اورشہروں سے گلگت بلتستان میں داخل ہونیوالے طلباء اور دیگر لوگوں کو دو ہفتوں کے لیے قرنطینہ میں لازما رکھا جائے گا۔

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بات کا بھی فیصلہ کیا گیا کہ پیراملٹری فورسز کے ساتھ فوجی جوانوں کو بھی آگاہی مہم میں شامل کیا جائے گا۔

فوج کی جانب سے کمانڈر ایف سی این اے میجر جنرل احسان محمود خان نے صوبائی حکومت کو اس سلسلے میں بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

انہوں نے بتایا کہ کورونا کے مریضوں کے سیمپلز کی ترسیل کے لیے فوجی ہیلی کاپٹروں کا استعال کیئے جارہے ہیں۔

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے امدادی اشیاء، اور ادویات کی فراہمی کے لیئےفوجی ہیلی کاپٹرز سے سامان گلگت اور سکردو پہنچایا جا رہا ہے۔

اجلا س میں صوبائی وزیر قانون اورنگزیب ایڈوکیٹ، وزیر ایکسائز حیدر خان، وزیر تعلیم ابراہیم ثنائی، اپوزیشن لیڈر محمد شفیع ، پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر امجدحسین ایڈوکیٹ، پی ٹی آئی کے صدر سید جعفر شاہ، قانون ساز اسمبلی کے اراکین جاوید حسین، نواز خان ناجی،علماء چیف سیکریٹری، خرم آٖغاء، سیکریٹری صحت راجہ رشید علی، سیکریٹری اطلاعات فدا حسین، سیکریٹری داخلہ محمد علی رندھاوا اور تینوں ڈویژنوں کے کمشنر ز، اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز نے بھی شرکت کیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں