کورونا کے خلاف پہلی صف میں لڑنے والے نرس کو بندوق کے زور پر ہراساں کیا گیا


عنایت بیگ


چترال: سوشل میڈیا پر چترال میں کورونا وائرس کے خلاف پہلی صف میں لڑنے والے نرس تنویر کی ویڈیو منظر عام پر آئی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ چترال پائین کےاسسٹنٹ کمشنر نے تمام صحت کے عملے کے سامنے انہیں بندوق کے زور پر ہراساں کیا اور ان کی تضحیک کی۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں ایک وین میں کورونا کے مشکوک متاثرین کے گروپ کے ساتھ بٹھا کرمنتقل کیا گیا اور گزشتہ 6 روز سے کورونا وائیرس کے مریضوں کے ساتھ قرنطینہ میں رکھا گیا تھا۔ جس پر انہوں نے احتجاج کیا کہ انہیں اس گروپ کے ساتھ شفٹ نہ کیا جائے، کیونکہ اس کی وجہ سے وائرس کے پھیلنے کا خدشہ ہے.- جس پر انہیں اسسٹنٹ کمشنر نے گالیاں دیں اور بندوق کے زور پر زبردستی ایمبولینس میں ڈالنے کی کوشش کیں۔

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=103384084688689&id=100357921657972?sfnsn=scwspmo&extid=VEjStz2qs3kRxeaW&d=n&vh=e

تنویر خان آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کراچی سے نرسنگ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد دسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال دیر بالا میں 16 گریڈ کے نرسنگ آفیسر بھرتی ہوئے ہیں۔

ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد تنویر نے ہائی ایشیا ہیرالڈ کے نمائندے سے خصوصی گفگتو میں کہا کہ 16 اپریل کو چھٹی ہونے کے بعد باقاعدہ منظوری کے بعد دیر بالا سے چترال کی طرف سفر کر رہے تھے۔ تمام چیک پوسٹوں سے لاک ڈاوں کے ضوابط کی پاسداری کرتے ہوئے اپنے گھر کی طرف جا رہے تھے کہ مقامی ایس ایچ او نے انہیں بتایا کہ ” ہمیں پولیس کنٹرول سینٹر سے آپ کے خلاف شکایت موصول ہوئی ہے. اسلئیے براہ مہربانی آپ ہمارے ساتھ تعاون کر کے واپس چلے جائیں”۔

جس پر میں نے کہا کہ ٹھیک ہے میں چلا جاتا ہوں، میں نے پولیس کنٹرول سینٹر پر موجود افراد سے فون پر بات بھی کی اور انہیں آگاہ کیا کہ میرے پاس اجازت نامہ ہے اور میں خود ایک سٹاف نرس ہوں اور حالات کی نزاکت سے آگاہ ہوں۔

انہوں نے مجھ سے تعاون کی اپیل کی اور کہا کہ آپ ہمارے پاس آجائیں۔ میں قانون کے احترام میں ان کے پاس گیا اور وہاں پر میری ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر سے بات ہوئی، اسسٹنٹ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کے نوٹس میں بھی یہ بات لائی گئی اور مجھے رضاکارانہ طور پر از خود قرنطینہ کرنے کی ہدایت کی گئی. جس کی میں نے پاسداری کی اور ان کے کہنے پر اپنا نمونہ ٹیسٹ کرانے کے لئے بھی رضامندی ظاہر کی.گو کہ میرا یہاں کے مقامی ہیلتھ سیٹ اپ کے حوالے سے کچھ تحفظات بھی تھیں اور مزید صحت کے مسائل کا شکار ہونے کے امکانات زیادہ ہیں. مگر میں نے تمام تر تحفظات کے باوجود اس تمام عمل پر رضاکارانہ طور پر اپنے آپ کو پیش کیا۔

ٹیسٹ کے لئے نمونہ دینے کے دو دن بعد جیسا کہ میرا خیال تھا ایسا ہی ہوا، اور میرا رزلٹ نہ تو مثبت آیا نہ منفی (اسے میڈیکل کے زبان میں انکنکلو سیو غیر حتمی کہا جاتا ہے)۔ حیران کن بات تو یہ تھی کہ ایک طرف مجھے غیر حتمی رپورٹ دیا گیا اور دوسری طرف ڈسٹرکٹ انتظامیہ کی نا اہلی کے سبب یہ خبر مقامی میڈیا پر پھیلائی گئی کہ نرس کو کورونا وائرس کا ٹیسٹ پوزیٹیو آیا ہے حالانکہ میرا ٹیسٹ غیر حتمی آیا تھا اور اگلے دن میں نے دوسرا نمونہ ٹیسٹ کے لئےدیا۔ اس کے علاوہ جھوٹی خبریں پھیلانے کے بعد میرے خاندان والوں کو بھی فون کئے گئے اور انہیں بھی خوفزدہ کیا گیا۔

"اس سارے عمل کو میں غیر انسانی اور شعبہ صحت کی نااہلی کہہ سکتا ہوں، اور یہ تقریبا تمام ترقی پزیر ممالک میں لگ بھگ ایک جیسا ہی ہے مگر کل جو ناخوشگوار واقعہ میرے سا تھ پیش آیا ہے اس نے مجھے انتہائی دکھی کر دیا ہے اور آپ کے توسط سے میں یہ واقعہ لوگوں اور حلقہ اربابِ اختیار تک پہنچانا چاہتا ہوں۔ کل مجھے دوبارہ سیمپل دینے کے لئے ضلعی ہسپتال لے جایا گیا تھا، جب نمونہ دینے کے بعد مجھے 6 گھنٹے تکتپتی دھوپ میں آسمان تلے باقی تمام لوگوں کے ساتھ کھڑا رکھا گیا جس میں کوئی طے شدہ سماجی طبعی فاصلہ کا خیال بھی نہیں رکھا گیا. ہم میں سے جن کو اس کی اہمیت کا اندازہ تھا ہم نے خود ہی اس کا خیال رکھا. میں نے باقی لوگوں کو بھی فاصلہ برقرار رکھنے کی ہدایت کی۔

اس کے بعد اسسٹنٹ کمشنر شہزاد خان وہاں آئے، انہوں نے مجھے کورونا کے مشتبہ مریضوں (جن کو پچھلے 6 دنوں سے تصدیق شدہ مریضوں کے ساتھ رکھا گیا تھا) کے ساتھ زبردستی ایمبولینس میں دھکیلنے کی کوشش کی- منع کرنے پر مجھے بندوق کے زور پر دھکہ دے کر ایمبولینس میں بٹھانے کی کوشش کی۔ اسسٹنٹ کمشنر نے میرا موبائل فون، اور ڈیپارٹمنٹ کا این او سی چھین لیا اور پولیس نے مجھے بندوق کے زور پر 6 منٹ تک راستےمیں لوگوں کے سامنے پیدل لے جایا گیا۔ عین اسی وقت ڈی ایچ او چترالوہاں آگئے، انہوں نے جب اس غیر قانونی عمل کو دیکھا تو مداخلت کر کے مجھے پولیس کے چنگل سے چھڑا کر میرے لئے الگ کمرے کا اہتمام کر کے مجھے ابھی قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔

تنویر کا کہنا تھا کہ جس طرح ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر چترال نے اس معاملے کو سمجھتے ہوئے مجھے الگ کمرے میں منتقل کیا، اسی طرح عام لوگوں کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔

بحثیت ایک ہیلتھ کارکن کے میں سمجھتا ہوں کہ اپنی زندگی کا تحفظ میرا بنیادی حق ہے اور چونکہ ایک اسسٹنٹ کمشنر میرے اس بنیادی حق کو اپنے بندوق کی زور پر کچل دینا چاہتا تھا تو میں نے اس موقع پر بھی احتجاج کیا اور آواز بلند کی اور آپ کے توسط سے عوام اور حلقہ ارباب اقتدار و اختیار تک پہنچانا چاہتا ہوں کہ ایسے غیر سنجیدہ اور طاقت کے نشے میں دھت ناسمجھ افراد اس عالمگیر وباء کے خطرات سے مکمل نا آشنا ہیں عناصر اس وبا کے پھیلائو کی وجہ بن سکتے ہیں۔

تنویر کا یہ بچترال کے قرنطینہ سینٹرز کسی سائنسی اصول کے تحت نہیں بنائے گئے ہیں، میڈیکل ماہرین کی رائے کا نہ تو احترام ہے نہ یہ ان سے رائے لی جاتی ہے، تمام ڈسٹرکٹ میں عوام اور مریضوں کو پولیس، اے سی اور ڈی سی کے رحم و کرم پر چھوڑا گیا ہے اور ڈی سی کی نا اہلی کا ہی ثبوت ہے کہ آج چترال میں 5 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔ ان نا انصافیوں کا ازالہ ہونا چاہیئے۔

میں سمجھتا یوں کہ یہاں کورونا پھیلانے میں اسسٹنٹ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کا پڑا کردار ہے۔ میں یہاں صرف اپنی کیس کو ہی نہیں بلکہ تمام چترال کے عوام کی طرف سے آپ سے گزارش کرتا ہوں کہ اس کیس کو قومی میڈیا اور تما مجاز اداروں تک پہنچائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں