کون ہے یہ بھگت سنگھ؟

تحریر و ترتیب: فاروق طارق

آج 23 مارچ 2019 کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں بھگت سنگھ اور کے ساتھیوں کو لاھور میں پھانسی دئے جانے کے 88 ویں سال کے موقع پر ان کی برطانوی سامراج کے خلاف شاندار خراج تحسین پیش کیا جاۓ گا۔ شادمان چوک (بھگت سنگھ چوک) لاھور اور بھگت سنگھ کے اپنے گاؤں میں تقریبات ہوں گی اور آزادی کے تینوں ھیروز کو شاندار خراج تحسین پیش کیا جائے گا۔


بھگت سنگھ کون تھا؟ اس کے نظریات اور جدوجہد کی تاریخ پر اس تحریر میں جائزہ لیا جائے گا۔

‎بھگت سنگھ 28 ستمبر 1907 کو جڑانوالہ کے نواحی ‎گاؤں 105 گ۔ ب بنگیانوالہ میں پیدا ہوا۔ اُس کے والد کا نام کشن سنگھ جب کہ والدہ کا نام ودیا وتی تھا.

‎بھگت سنگھ کو انقلابی اور ترقی پسند نظریات گویا ورثے میں ملے تھے کیونکہ اُس کا والد کشن سنگھ اور چاچا تحریک آزادی کے سرگرم کارکن تھے اور دادا ارجن سنگھ بھی بھارت کی سیاست میں سرگرمی سے حصہ لیتے تھے جو ہندو آریا سماج پارٹی کے رہنما کے طور پر جانے جاتےتھے.

بھگت سنگھ نے ایسے خاندان نے جنم لیا جو کہ پہلے سے ہی انگریز سامراج کے ساتھ آزادی کی جنگ میں شریک تھا ، بھگت سنگھ کی عمر بارہ سال تھی جب 1912میں جلیانوالہ باغ امرتسر میں جنرل ڈائر کے حکم پر لوگوں پر گولیاں برسائی گئیں ،اس واقعہ سے پورے پنجاب میں انگریزوں کےخلاف نفرت میں اضافہ ہوا اور اس کے اثرات بھگت سنگھ پر بھی مرتب ہوئے۔

‎بھگت سنگھ کے گھرانے میں انقلابی آوازیں تو ہر وقت سنائی دیتی تھیں۔ دادا ارجن سنگھ کے تین بیٹے تھے۔ چاچا اجیت سنگھ، لالہ لاجپت رائے کے ساتھ ایک بار کالا پانی کاٹ چکے تھے اور ہندوستان کے علاوہ بھی انگریز سامراج کے خلاف تحریکوں کا حصہ رہے تھے۔ بابا کشن سنگھ بھی کئی بار جیل جا چکے تھے اور رہے۔

‎چاچا سورن سنگھ، تو ان کا بھگت سے ایک اور ہی تعلق ‎تھا۔ کہتے ہیں جس وقت انگریز سرکار کے بدترین تشدد کی وجہ سے سورن سنگھ کا انتقال ہوا، اسی وقت بھگت سنگھ نے لائلپور کے اس گمنام سے گاؤں میں آنکھ کھولی تھی۔

اسے بھی سنیے: https://www.youtube.com/watch?v=RwkwFQdeQKg

سکول سے کالج تک کا سفر طے کرتے کرتے اس نے بہت کچھ سیکھ لیا تھا۔ نیشنل کالج کی لائبریری میں جتنی سرخ کتابیں موجود تھیں، بھگت نے سب پڑھ ڈالی تھیں۔ یہ انقلاب کا زمانہ تھا۔ دنیا نے جنگ تازہ تازہ دیکھی تھی اور سارے ہندوستان میں قوم قوم ہو رہی تھی۔

بھگت سنگھ نے بہت کم عمری میں ہی کئی ترقی پسند تنظیموں اور آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والی سیاسی جماعتوں کی رکنیت حاصل کر لی، جن میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا، ریپبلکن ایسوسی ایشن، کرتی کرشن پارٹی، نوجوان بھارت سبھا، برٹش سماج مخالف وغیرہ شامل ہیں. بھگت سنگھ اور ان کے ساتھی بھارت سبھا کا حصہ بن گئے ،گریجویشن کے زمانہ میں ہندوستان سوشلسٹ ریپبلکن پارٹی میں شامل ہو گیا جوسامراج مخالف انقلابی پارٹی تھی جس پر بنگال کے انقلابیوں کا اثر تھا اس پارٹی کا بعد میں نام ہندوستان ریپبلکن پارٹی رکھ دیا گیا.

بھگت سنگھ نے اس دوران پنجابی میں شائع ہونے والے اخبارات کیرتی اور ہندی اخبار ارجن میں اپنے خیالات اور نظریات کا اظہار کرنا شروع کر دیا ،اس کی سامراج دشمن تحریریں انگریز سرکار کو نہیں بھاتی تھیں اسی دوران بم دھماکے میں گرفتار ہوا اور پانچ ماہ کی جیل کاٹنے کے بعد ساٹھ روپے کے ضمانتی بانٹھ کے عوض ضمانت ہوئی۔

ان کے ساتھیوں کی انقلابی جدوجہد میں اہم موڑ اس وقت آیا جب 1928 ٰ‎میں سائیمن کمیشن ہندوستان آیا تو لاہور اسٹیشن پر ‎احتجاج کرنے والوں میں لالہ لاجپت رائے بھی شامل تھے۔ لالہ لاجپت رائے کو لاھور میں ٹریڈ یونین تحریک کا بانی مانا جاتا ہے۔ انکی والدہ کے نام پر آج بھی لاھور کے مشہور گلاب دیوی ہسپتال ہے جہاں سینکڑوں لوگ کو روزانہ علاج کی سہولیات فراھم کی جاتی ہے. ‎پولیس نے پہلے تو ہجوم کو پرامن طریقے سے منتشر کرنے کی کوشش کی مگر پھر سپرنٹنڈنٹ سکاٹ کے کہنے پہ لاٹھی چارج شروع کر دیا۔

‎ایک لاٹھی لالہ لاجپت رائے کے سر پر بھی لگی جس کے ‎زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ چند دنوں بعد انتقال کر گئے۔ لالہ لاجپت رائے کے قتل کے ضمن میں سپرنٹنڈنٹ سکاٹ کا نام لیا جانے لگا۔

‎دسمبر کی سترہ تاریخ کو پولیس ہیڈ کوارٹر کے سامنے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ سانڈرس کو گولی مار دیا گیا۔ ‎اسی رات لاہور کے درودیوار پہ ایک پوسٹر چسپاں ہوا جس میں ہندوستان سوشلسٹ ریپبلکن آرمی نے اس قتل کو لالہ لاجپت رائے کے قتل کا بدل قرار دیا۔
‎اس قتل کا منصوبہ بھگت سنگھ، راج گرو اور چندر شیکھر آزاد نے مل کر بنایا تھا اور گولی کا اصل نشانہ سپرنٹنڈنٹ سکاٹ تھا، مگر عین وقت پہ سکاٹ کی جگہ سانڈرس ہیڈ کوارٹر سے نکل آیا اور اسے گولی مار دی گئی۔ بھگت سنگھ اور اس کے ساتھی لاہور سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔

‎آٹھ اپریل کو دہلی کے اسمبلی چیمبر میں بدیسی لباس میں ملبوس دو نوجوان داخل ہوئے۔ جب اسمبلی کی کاروائی اپنے عروج پہ تھی، انہوں نے خالی بنچوں کی طرف دو بم پھینکے۔ ان بموں سے ہال میں دھماکہ تو ہوا مگر کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ دھماکہ کے بعد بم پھینکنے والے نوجوان نعرے لگاتے نیچے آ گئے، انقلاب زندہ باد، انگریز راج مردہ باد۔ جلد ہی پولیس موقع پہ آ گئی۔ بھگت سنگھ اور بٹوکیشور دت نے خود کو گرفتاری کے لئے پیش کر دیا۔

‎سات مئی کو مقدمے کی ابتدا ہوئی۔ ادھر یہ مقدمہ چلنا شروع ہوا اور ادھر بھگت سنگھ نےآزادی کا پیغام عام کرنے کے لئے عدالت کے کٹہرے کو منتخب کیا۔ تھوڑے ہی دن میں عدالت میں ادا ہونے والا ایک ایک لفظ شام سے پہلے ہندوستان کے کونے کونے تک پہنچ جاتا۔

‎مزید بدنامی سے بچنے کے لئے جلد ہی ان دونوں کو چودہ سال کی قید سنا دی گئی۔ اسی دوران چند اور شواہد ملے اور گرفتاریاں ہوئیں جن کے بعد بھگت سنگھ کا تعلق سانڈرس کے قتل کیس سے جوڑنا ممکن ہو گیا، لہٰذا چودہ سال کی سزا کالعدم ہوئی اور قتل کا مقدمہ شروع ہو گیا۔

‎مقدمے کی سماعت کے دوران بھگت سنگھ کو میانوالی جیل منتقل کر دیا گیا جہاں اس نے ہندوستانی اور انگریز قیدیوں کے درمیان امتیازی سلوک دیکھا۔ اس کا موقف تھا کہ سیاسی قیدی خواہ وہ ہندوستانی ہو یا انگریز ایک جیسے برتاؤ کا حقدار ہے اور اس کے ساتھ اخلاقی مجرموں والا برتاؤ نہ کیا جائے۔

‎جب جیل حکام نے بھگت سنگھ کی بات نہ مانی تو اس نے بھوک ہڑتال کر دی۔ انگریزوں نے بہت کوشش کی مگر اس کا ارادہ نہ ٹوٹ سکا۔ ہر گزرتے ہوئے دن کے ساتھ بھگت سنگھ، ہندوستان بھر میں مشہور ہوتا جا رہا تھا۔ ‎جب معاملہ شدت اختیار کر گیا تو اس مقدمے کو وقت سے پہلے شروع کیا گیا اور اب سانڈرس کے قتل کے علاوہ سکاٹ کے قتل کی منصوبہ بندی اور شاہ برطانیہ کے خلاف اعلان جنگ بھی بھگت سنگھ کے ذمے تھا۔ اس کی بھوک ہڑتال جاری تھی اور اسی حالت میں اسے لاہور کی بورسٹل جیل میں لایا گیا۔

‎پانچ اکتوبر 1929 کو بھگت سنگھ نے کانگریس کی قرارداد اور اپنے باپ کے حکم پہ 114 دن کی بھوک ہڑتال ختمم کر دی۔
‎عام عدالتی کاروائی کی طوالت سے بچنے کیلئے ایک خصوصی ٹریبونل بنایا گیا، جس نے قانون کے تمام تقاضے بالائے طاق رکھتے ہوئے 7 اکتوبر 1930 کو تین سو صفحات پہ مشتمل فیصلے میں بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھدیو کو ‎برطانوی اہلکار کے قتل کیس میں پھانسی کی سزا سنائی گئی اور اس پر عملدرآمد کرتے ہوئے 23 مارچ 1931 کے دن صرف 23 سال کی عمر میں بھگت سنگھ کو اس کے ساتھیوں کے ہمراہ لاہور میں شادمان چوک کے مقام پر پھانسی دے دی گئی۔

‎بھگت سنگھ کو اور ان کر ساتھیو ں کو انگریز سامراج سے آزادی کی جدوجہد کے دوران کئی بار گرفتار کیا گیا لیکن وہ کسی بھی قیمت پر اپنے نظریات کو بدلنے سے انکاری تھا۔ ‎انگریز حکومت نے بھگت سنگھ کو تحریک آزادی ختم کرنے کے عوض راجباہ پاؤلیانی جڑانوالہ کے تمام چکوں کی زمین دینے کی پیشکش کی تھی مگر اس نے یہ کہہ کر ٹھکرا دیا ‎کہ "زمین ہماری ہے تم کون ہو جو ہمیں دیتے ہو۔ ‎تم برصغیر کو چھوڑ دو۔ میری جدوجہد لوگوں کے حقوق اور دھرتی کی آزادی کے لیے ہے اپنے مفاد کے لیے نہیں۔

‎بھگت سنگھ کا کہنا تھا کہ "انقلاب سے ہماری مراد ایک ایسے سماجی نظام کا قیام ہے جس میں عام لوگوں کو اقتدار ملے اور ایک عالمگیر فیڈریشن کے ذریعے نسلِ انسانی سرمایہ داری، مصائب اور سامراجی جنگوں کی غلامی سے آزادی حاصیل کریں.

‎ ہندوستان کی تقسیم اور آزادی کے بارے بھگت سنگھ ‎کا کہنا تھا کہ "ہمیں اییسی آزادی نہیں چاہیے جہاں انگریز حکمرانوں کی جگہ مقامی اشرافیہ لے لیں۔ ہمیں ایسی آزادی نہیں چاہیے جس میں غلامی اور استحصال پر مبنی بوسیدہ نظام قائم رہے۔ ہماری لڑائی ایسی آزادی کے لیے ہے جو اس ظالمانہ نظام کو ایک سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے بدل کر رکھ دے.

بھارت میں حسینی والا کے جس مقام پر ان تینوں کی آخری رسومات ادا کیا گیا اب وہاں شہیدی میلہ لگتا ہے۔ ہندوستان میں بھگت سنگھ کی آبائی تحصیل کا نام بدل کر شہید بھگت سنگھ نگر رکھ دیا گیا ہے، راج گرو کے گاؤں کا نام بھی راج گرو نگر ہے اور سکھ دیو کے نام سے بھی ایک ٹرسٹ لدھیانہ میں کام کرتا ہے۔

لاہور میں جس جگہ اب شادمان کا فوارہ چوک ہے، قریب قریب یہیں بھگت سنگھ کو پھانسی دی گئی تھیی۔ ہم نے ماضی میں یہ مہم چلائی تھی کہ اس چوک کا نام بھگت سنگھ چوک رکھ دیں۔ پہلے تو حکومت نے ٹال مٹول سے کام لیا پھر جب اس مطالبہ نے زور پکڑا تو لاھور کارپوریشن نے اس کا نام بھگت سنگھ چوک رکھنے کی منظوری دے دی،لیکن مذھبی جنونی قوتوں کا اصرار تھا کہ اس کا نام چوھدری رحمت علی چوک رکھ دیں۔ چوھدری رحمت علی کا اس چوک سے کوئی رشتہ ناطہ بھی نہیں ہے۔ یہ مذہبی قوتیں لاھور ھائی کورٹ چلی گئیں کہ یہ تو غلط ہوا ہے جس پر سٹے آرڈر دے دیا گیا جو آج بھی چل رھا ہے۔

ہم ایک دفعہ پھر یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ آزادی کے اس ھیرو کے نام پر اس چوک کا نام بھگت سنگھ چوک رکھا جائے۔ بھگت سنگھ کی جدوجہد کو تعلیمی نصاب میں شامل کیا جائے. پاکستان کی نصابی کتابوں میں بھگت سنگھ سمیت آزادی کے بیشتر غیر مسلم ہیروز کا تذکرہ کم ہی ملتا ہے.

بھگت سنگھ کو ٰٰی مذھبی نوجوان نہیں تھا۔ وہ ایک انقلابی تھا۔ مذھبی بنیادوں پر اس کی انگریز سامراج کے خلاف برصغیر کی آزادی کی جدوجہد کی مخالفت کرنا درست نہیں ہے۔

جب بھگت سنگھ کو پھانسی کے گھاٹ کی طرف لے جایا جا رھا تھا۔ تو وہ انقلابی نعرے لگا رھا تھا۔ وہ بہادری کی ایک درخشان مثال تھا۔ بھگت سنگھ آزادی کا ہیرو ہے، اور اسے ہمیں سرکاری طور پر تسلیم کرنا چاھئیے۔

بھگت سنگھ نے کم عمری میں کٰئی کتابیں لکھیں ہیں جن میں درج ذیل قابل زکر ہیں:

1- جیل کی نوٹ بک اور دیگر تحریریں. (The Jail Notebook and Other Writings)
2 – بھگت سنگح کی مینتخب تحریریں. (The Selected Works of Bhaghat Singh)
3–میں لا مذہب کیوں ہوں؟ (Why I am Atheist)
4–بھگت سنگھ کی منتخب تقاریر اور تحریریں (haghat Singh; Select Speeches and Writings)
5– آزادی کی خوشبو: بھگت سنگھ کی تحریریں. (The Fragrance of Freedom; Writings of Bhaghat Singh)
6– آزادی اور ایک قوم کا تصور. (Words of Freedom: Ideas of a Nation: Bhaghat Singh)
7–جنگل مین پولیس مقابلہ: ایک چشم دید واقعہ کی روداد. ( Wild Encounters: An Eye-Witness Account)
8–نوجوان سیاسی کارکنوں کے لیے. ( To Young Political Workers)
9- آزادی کی راہ پر. (On Path of Liberation)

فاروق ظارق عوامی ورکرز پارٹی کے ترجمان اور شہد بھگت سنگھ ٹرسٹ کے رکن ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں