کوہساروں سے میدانوں تک طلباء کے انقلابی نعروں کی گونج

دو درجن سے زائد ترقی پسند اور سیکولر طلبا تنظیموں کا 50 سے زائد شہروں میں طلباء یونین کی بحالی کے لیے اعلانِ جنگ؛ مطالبات مانے جانے تک جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان؛ ہراسمنٹ، طبقاتی نظام تعلیم، قومی، صنفی و مذہبی تعصب کے خاتمے، ہاسٹل، ٹرانسپورٹ کی فراہمی کے لئے 50 شہروں میں مظاہرے

علی احمد جان، عنائت بیگ، حیدر علی،

گلگت ، اسلام آباد، لاہور، کراچی: آج گلگت بلتستان اور کشمیر کے کوہساروں سے لے کر پاکستان کے 50 سے زائد شہروں تک طلباء یکجہتی مارچ کا انعقاد کیا گیا جس میں ہزاروں طلباء و طالبات، اساتذہ، وکلاء، ڈاکٹروں سیاسی پارٹیوں اور سول سوسائٹی کے کارکنوں نے شرکت کیںاور تعلیم، روزگار و دیگر بنیادی حقوق کے حوالے سے مطالبات پیش کئیے اور پرجوش انداز میں انقلابی نعرے، گیت اور تھیٹر پیش کئے.

اس مارچ کا اہتمام دو درجن سے زائد ترقی پسند اور سیکولر قوم پرست طلباء تنظیموں پر مشتمل اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی نے کیا تھا۔
امریکا، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا سمیت کئی ممالک کے طلباء نے بھی طالب علموں کے اس یکجہتی مارچ کی حمایت کرتے ہوئے حکومت پاکستان کے نام ایک مشترکہ خط لکھا ہے، جس میں طلباء کی انجمن سازی پر عائد پابندی کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

طلباء یکجہتی مارچ کے شرکاء کے مطالبات میں طلباء انجمنوں کی بحالی، تعلیمی بجٹ میں اضافہ، فیسوں میں کمی، تعلیمی اداروں میں سکیورٹی فورسز کی مداخلت کا خاتمہ، تعلیمی اداروں میں جنسی ہراسگی کے خلاف قانون پر مؤثر عمل درآمد، ان اداروں کی نجکاری سے اجتناب اور بلوچستان یونیورسٹی میں ہونے والے جنسی ہراسگی کے واقعے کی کھلی تحقیقات سمیت بہت سے مطالبات شامل تھے۔

لاہور

لاہور میں مختلف تعلیمی اداروں کے طلبا و طالبات ہزاروں کی تعداد میں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے باہر جمع ہوئے اور پھر مارچ کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی کے باہر تک پہنچے، جہاں ایک بڑی ریلی کا انعقاد کیا گیا.

اس مارچ میں طلبا و طالبات نے کئی طرح کے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، جن پر ان کے مطالبات تحریر تھے۔ اس مارچ کی قیادت مظاہرے میں شریک طالبات نے کی۔ مارچ کے بیشتر شرکاء سرخ لباس یا گلے میں سرخ پٹیاں پہنے ہوئے تھے اور انہوں نے سرخ جھنڈے بھی اٹھا رکھے تھے۔

Protesters take part in a demonstration demanding for reinstatement of student unions, education fee cuts and batter education facilities, in Karachi on November 29.Photo: AFP]

لاہور میں یہ طلبہ یکجہتی مارچ انقلابی ترانوں، مزاحمتی شاعری، فیض احمد فیض کے کلام، ڈھول کی تھاپ اور انقلابی نعروں سمیت اپنے اندر عوامی دلچسپی کے بہت سے رنگ لیے ہوئے تھا۔ ایک بینر پر تحریر تھا، ”نفرت پڑھانا بند کرو، انسانیت پڑھانا شروع کرو۔‘‘ ایک دوسرے پلے کارڈ پر لکھا تھا، ” اسموگ کی سطح کم کرو، تعلیمی بجٹ نہیں۔‘‘
مارچ کے شرکاء ‘سرخ ہے سرخ ہے، ایشیا سرخ ہے،‘ اور ‘انقلاب انقلاب، سوشلسٹ انقلاب‘ کے نعرے بھی لگا رہے تھے۔ ایک طالبہ شرکاء کی قیادت کرتے ہوئے نعرے لگوا رہی تھی، ‘عورت کی آواز بنا، انقلاب ادھورا ہے،‘ ‘طلبہ کی یلغار بنا، انقلاب ادھورا ہے،‘ اور ‘مزدور کی للکار بنا، انقلاب ادھورا ہے‘۔

مارچ کے راستے میں شرکاء کے ساتھ ساتھ اس جلوس میں مختلف ٹریڈ یونینوں، بھٹہ مزدور یونینوں، پاکستان مزدور کسان اتحاد اور پاکستان پیپلز پارٹی شہید بھٹو گروپ، عوامی ورکرز پارٹی کے علاوہ خواجہ سراؤں کے ایک وفد بھی شامل ہو گیا۔ کئی غیر سرکاری تنظیموں کے عہدیداروں، ترقی پسند اساتذہ اور دانشوروں کے علاوہ انسانی حقوق کے کارکنوں نے بھی اس مارچ میں شرکت کر کے طلبہ یکجہتی مارچ کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا۔
اس مارچ کے اختتام سے قبل کی گئی تقریروں میں پاکستان کے سکیورٹی اداروں کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ایک طالبہ محبہ احمد کا کہنا تھا، ”نوجوان خود کشیاں کر رہے ہیں، ریاست کو شرم آنا چاہیے۔‘‘ کچھ مقررین نے طبقاتی نظام تعلیم ختم کرنے اور علاقائی زبانوں کی ترویج کا مطالبہ بھی کیا۔

اسلام آباد:
وفاقی دارلحکومت میں ترقی پسند طلبہ تنظیموں پرگریسیو سٹوڈنٹس فیڈریشن (پی آر ایس ایف) ، ریولوشنری سٹوڈنٹس فرنٹ (آر ایس ایف) ، آل بلتستان موومنٹ ، نیشنل اسٹوڈینٹس فیڈریشن گلگت بلتستان، بلوچ اسٹوڈینٹس آرگنائزیشن ، جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن اور دیگر طلبہ تنظیموں نے سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے جھنڈے تلےنیشنل پریس کلب اسلام آباد سے ڈی چوک تک ریلی نکالی۔

اسٹودنٹس ایکشن کمیٹی کے آرگنائزر اور پروگریسیو سٹوڈنٹس فیڈریشن (پی آر ایس ایف) کے راہنما منہاج العارفین نےخطاب کرتے ہوئے کہا رواں برس تعلیمی اداروں کی انتظامی نااہلی کے باعث چار سے پانچ طلبہ کی اموات ہوئیں، ہر یونیورسٹی میں فیسوں میں اضافہ، میڈیکل سہولیات کی کمی، ٹرانسپورٹیشن اور ہراسمنٹ کے خلاف احتجاج ہوئے مگر کسی کے کانوں پہ جوں نہیں رینگی، طلبہ جن کے لیے تعلیمی نظام بنایا گیا ہے انہیں اس نظام میں نمائندگی حاصل نہیں۔ یہ نمائندگی طلبہ یونین کی بحالی سے ہی ممکن ہے اور ہم طلبہ یونین کی بحالی کے لیے ہر قانونی اور مزاحمتی راستہ اختیار کریں گے۔
منہاج نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ تعلیمی نظام کو عمر رسیدہ بیوروکریٹس اور ان کے منافع بخش مفادات سے آزاد کروائیں۔ اسٹرکچرل ریفارم کے ذریعہ طلبہ کے خدشات کا جواب دینے کے بجائے ، یونیورسٹیوں نے طلباء کی تعامل اور اجتماعی کارروائی کو روکنے کے لئے مزید سیکیورٹائزیشن ، طلباء کی ناہمواری اور سخت اخلاقی پولیسنگ کا آغاز کیا ہے۔ نئی حکومت نے اعلی تعلیم کے بجٹ میں کمی کرکے اس بحران کو بڑھا دیا ہے۔
 

ریحانہ اختر ، نمائندہ انقلابی اسٹوڈنٹس فرنٹ (آر ایس ایف) نے کہا کہ پچھلے تین دہائیوں سے طلبہ کی یونینوں پر پابندی نے طلباء کی اجتماعی کارروائی کو روک دیا ہے۔ یونیورسٹیوں اور ان کی انتظامیہ کے ظلم اور امتیازی سلوک کے ساتھ ساتھ وزارت تعلیم کی تعلیم کے باوجود ، پاکستان کے 50 شہروں میں مارچ کرنے والے طلبا مزاحمت کی علامت ہیں اور جب تک طلباء یونینوں پر پابندی عائد نہیں ہوتی اس وقت تک باز نہیں آئیں گے۔ سرکاری اور نجی یونیورسٹیوں کی جانب سے بڑھتی ہوئی فیسوں پر تنقید کرتے ہوئے ، انہوں نے مطالبہ کیا کہ کالج تک مفت تعلیم فراہم کی جائے اور کلاس بیسڈ ایجوکیشن سسٹم کو بہتر بنایا جائے۔
 

اسٹوڈنٹ ایکشن کمیٹی آرگنائزر اور پی آر ایس ایف کے نمائندے منیبہ حفیظ نے کمیٹی کو "زندہ ہے طلبا ، زندہ ہے” کے نعرے لگانے کے لئے کمیٹی کی قرارداد پیش کی۔ اس نے مزید تفصیل سے بتایا کہ بدعنوان انتظامیہ خوفناک جنسی جرائم میں ملوث ہیں اور ان پر پردہ ڈال رہی ہیں۔ تاہم آج کے تکنیکی دور میں ، ان گھوٹالوں کو منظرعام پر لایا جارہا ہے اور فوری طور پر اس کا ازالہ کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے تمام اعلی تعلیمی اداروں میں جنسی طور پر ہراساں کرنے کی پالیسی کو فوری طور پر تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ، اور ان پالیسیوں کو تیار کرنے کے لئے تشکیل دی گئی کمیٹیاں تشکیل دی گئیں جن میں طلبا کی نمائندگی کے لئے کی قیمت درج کی جا.۔
 

پرجوش تقریر میں ، دانش یٰسین نے ہمارے تعلیمی نظام کی نوعیت کی وضاحت کی ، جو کہ میرٹ کی بجائے کلاس اور استحقاق پر مبنی ہے مزید یہ کہ سیاست پر اب سرمایہ دارانہ طبقہ کا غلبہ ہے جس نے ہمارے تعلیمی نظام کو تباہ کردیا ہے۔
 
اسٹوڈنٹ ایکشن کمیٹی کے آرگنائزر ثناگر علی نے اسٹوڈنٹ یونینز پر پابندی کو طالب علموں کے آئینی حقوق اور جمہوریت کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی اور ان کے وجود کی نفی کے مترادف قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنی تاریخ خود اپنے ہاتھوں سے لکھیں گے اور ایک بار پھر پاکستان اور اس کے زیر انتظام علاقوں میں یونینز کی بحالی کے لئے جدوجہد جاری رکھینگے۔ سماجی تبدیلی کے لئے لازم ہے کہ تعلیمی انقلاب برپا کیا جائے اور طلباء اس تبدیلی کو لانے کے لئے تیار ہیں۔ ہم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک طلبا یونینیں بحال نہیں ہوجاتی ہیں۔
 

پی آر ایس ایف کے ممبر دانش یاسین کا کہنا تھا کہ پاکستان کا نظامِ تعلیم طبقاتی ہے جو کہ اشرافیہ طبقہ کے مفادات کا محافظ ہے۔ نظامِ تعلیم جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہ ہونے کے سبب ملک کے تمام اداروں کی حالت دگرگوں ہیں۔ انھوں نے یونین کی بحالی اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ غیر طبقاتی تعلیمی نظام کا مطالبہ کیا۔
اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی اور جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے راشدکا کہنا تھا کہ موجودہ نصاب تعصب و نفرت پہ مبنی ہے جو کہ معاشرے میں شدت پسند ذہنیت کو جنم دے رہا ہے- ہم نصاب کو تعصب و نفرت سے پاک اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ چاہتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام علاقوں کے تمام اضلاع میں کم از کم ایک ایک یونیورسٹی قائم کی جائے ملک کی تمام یونیورسٹیز میں دوردراز کے علاقوں کے کوٹے بڑھائے جائیں۔

عوامی ورکرز پارٹی کے رہنما عمار رشید نے اپنی پارٹی کی جانب سے مارچ کی مکمل حمایت اور مطالبات کی منظوری تک طلباء کے شانہ بشانہ جدوجہد کا اعلان کیا ۔
انہوں نے ریاستی مشینری کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر کے تعلیمی اداروں میں طلبہ یونین موجود ہیں مگر ہمارے ملک میں چالیس برس سے پابندی ہے اور کوئی بھی ادارہ اور پارلیمانی جماعت نے یونین کی بحالی کی کوشش نہیں کی۔ یہ نظام محض چند مخصوص لوگوں کے حوالے کرکے ساٹھ فیصد کی اکثریت کو تاریکی کے گہرے کنوؤں میں نہیں دھکیلا جاسکتا۔ یہ نظامِ تعلیم کھوکھلا اور بحران کا شکار ہے اسکی ازسرِنو تشکیل کی جنگ لڑنے والے ہر ایک طالبِ علم کو سرخ سلام پیش کرتے ہیں۔

وومن ڈیموکریٹک فرنٹ کی نمائندہ شہزادی حسین نے مارچ کے تمام مطالبات کی حمائت کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ریاست آئی ایم ایف کی مسلط کردہ پالیسیوں کے ذریعے تعلیمی اداروں کی نجکاری کر رہی ہے اور عوام پر تعلیم کے دروازے بند کر رہی ہے۔ شہزادی حسین نے مطالبہ کیا کہ تعلیمی اداروں اور دیگر قومی اساسوں کی نجکاری روک دی جائے۔
پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کی چیف لیگل آفیسر رباب نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی ایم سی آرڈیننس کے آرٹیکل 20 کے ذریعے تعلیم کو نجکاری کرنے کی کوشش کی گئ ہے جس سے عوام کو تعلیم کے بنیادی حق سے محروم کر دیا جائے گا۔
انہوں نے مذید کہا کہ اسی آرڈیننس کے آرٹیکل 21 کے اندر لائسنس ایگزام مقرر کیا گیا ہے، بجائے اس کے یونیورسٹی کے امتحانات، فیکلٹی، انفراسٹرکچر اور دیگر سہولیات جن کو بہتر کرنے کے لئے پی ایم ڈی سے کئی دہائیوں سے کوشش کرتی رہی ہے۔

رباب نے کہا کہ پی ایم سی آرڈیننس کے آرٹیکل 49 کے ذریعے 220 ملازمین کو نوکری سے فارغ کر دیا گیا ہے جو کہ 220 خاندانوں کا معاشی قتل ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پی ایم سی آرڈیننس کو مکمل رد کرتے ہیں اور پی ایم ڈی سی کو بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ انہوں نے نئے میڈیکل کالجز کے قیام کا مطالبہ کیا۔
اسٹوڈنٹ ایکشن کمیٹی اور آل بلتستان موومنٹ کے نمائندے شریف اخونزادہ نے پاکستان کے زیر انتظام گلگت-بلتستان میں تعلیمی اداروں کی شرمناک حد تک خراب حالت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ 20 لاکھ کی آبادی والے علاقے کے طلبہ کے لئے صرف ایک ہی یونیورسٹی ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ گلگت-بلتستان میں کم از کم ایک انجنیئرنگ یونیورسٹی اور ایک میڈیکل یونیورسٹی اور ہر ضلعے میں ایک یونیورسٹی جلد از جلد قائم کی جائیں۔
انہوں نے مذید کہا کہ گلگت-بلتستان کے تعلیمی نصاب کو طلبہ کے ساتھ مشاورت سے تبدیل کرکے سائنسی بنیادوں پر استوار کیا جائے کہ طلبہ میں تنقیدی سوچ فروغ پائے اور نفرت اور انتہاپسندی کا خاتمہ ہو۔

بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے رہنماؤں نے مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ضیاء آمریت نے اپنی آمریت کو دوام بخشنے کیلئے طلبہ یونین پر پابندی لگا کر نوجوانوں کا راستہ روک کر اس ملک کو ہمیشہ کیلئے بحرانوں میں ڈال دیا ہیں جسکا واضح ثبوت بلوچستان یونیورسٹی ہیں جہاں طلباء تنظیموں پر پابندی لگا کراس طرح کے گھولنے عمل کا آغاز کرکے طالبات کیلئے علم کے راستہ بند کردینے کی کوشش کئے گئی ہے۔ انہوں نے مذید کہ بلوچستان میں طلباء کو لاپتہ کرنے کا ایک طویل سلسلہ آمریت دور سے لیکر آج تک جاری ہے۔ بی ایس او یہ مطالبہ کرتی ہیں کہ بلوچستان یونیورسٹی سے نہ صرف عسکری جتھوں کو فورا ہٹایا جائے بلکہ لاپتہ طالب علم رہنما شبیربلوچ زاہد بلوچ اور فیروز بلوچ کو بازیاب کرائے جائیں۔
مشال خان کے والد اقبال لالا آج لاہور میں اسٹوڈنٹ یونین بحالی کی ریلی میں شریک ہوئے.

پورے ملک کی طرح کراچی، حیدرآباد، سانگھڑ ، اور دیگر شہروں میں بھی عوامی ورکرز پارٹی کی جانب سے شاگرد یونین پر غیر جمھوری پابندی کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئےرہنماوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں شاگردوں کی سیاسی سرگرمیوں میں غنڈہ عناصر کو شامل کیا گیا شاگرد سیاست کو ایک ایجنڈے کے تحت پرتشدد بناکر شاگرد سیاست کو بدنام کیا گیا، عوامی ورکرز پارٹی کے مرکزی رہنماوں نے طالبعم یکجہتی مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کو کاروبار بنادیا گیا ہے، طبقاتی نظام نے محنت کش طبقے کی اولاد کو معیاری تعلیم سے محروم کردیا ہے. ان رہنماوں نے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ فیسوں میں اضافے کو فل فور ختم کیا جائے، ملکی بجٹ میں تعلیم کے لئے مختص کی بجٹ میں اضافہ کیا جائے، پبلک سیکٹر کی یونیورسٹیز کے معیار کو گرانے کے لئے آئے دن نئے اسکینڈلز گھڑے جاتے ہیں، اگر سندھ یونیورسٹی کے طالب علم پینے کے صاف پانی کی فراہمی کا مطالبہ کرتے ہیں تو ان پرملک سے غداری کے مقدمات درج کئے جاتے ہیں، انہوں مزید کہا کہ سانگھڑ ضلع کو فوری طور پر میڈیکل کالج، انجنیرنگ کالج، اور زراعت میں سب سے بڑا حصہ دار ہونے کی بنیاد پر زرعی کالج دیا جائے، بینظیر بھٹو یونیورسٹی نوابشاھ کیمپس کو مکمل یونیورسٹی کا درجہ دیا جائے، سانگھڑ ضلع کے خستہ حال تعلیمی اداروں کو حالت کو بہتر کیا جائے، سانگھڑ ڈگری کالج کی ہاسٹل سے ناجائز قبضہ ختم کرایا جائے، خاتون فاطمہ ہائی اسکول ، بوائز ہائی اسکول سانگھڑ میں کلاس رومز کی کمی کو پورا کیا جائے۔ مزید کہا کہ تعلیمی اداروں میں بچیوں کو جنسی طور ہراساں کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی اقدامات اٹھائے جائیں،

گلگت

اسٹوڈینٹس آرگنائزنگ کمیٹی کے زیر اہتمام گلگت پریس کلب کے سامنے طلباء کی ایک بڑی تعداد نے مظا ہرہ کیا. اور اپنے مطالبات کے حق میں نعرے لگ ئے-
مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوے مقررین نے کہا کہ گلگت بلتستان کے تعلیمی اداروں میں سہولیا ت کے فقدان کی وجہ سے طلباء زہنی ادیت اور دبائو کے شکار ہیں اور اپنے علاقے سے شہروں کی جانب ہجرت کرنے پر مجبور ہوتے ہیں.انھوں نے کہا کہ 1984 ء میں جب سے طلباء یونینون پر پابندی کی وجہ سے تعلیمی اداریں مسائل کے اماجگاہ بنے ہوئے ہیں. انھوں نے یہ بھی کہا کہ ریاست تعلیم جیسے بنیادی انسانی حق کو فراہم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے اور اسے کاروبار بنایا گیا ہے.

طلباء سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل اسٹوڈینٹس فیڈریشن گلگت بلتستان کے رہنما نوید سخی نے کہا کہ اج طلباء اپنے بنیادی حقوق کے لئے نکلے ہیں مگر افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ
قراقرم یونیورسٹی کے بدعنوان علم دشمن انتظامیہ نے طلباء کو تقسیم کرکے یونیورسٹی کیمپس مین مارچ کو نہٰں ہونے دیا.
انھوں نے طلباء انجمنوں پر پابندی کو فورا ختم کرکے الیکشن کروایا جائے ۔انھوں نے فیسوں میں اضافہ کو رد کیا اور مطالبہ کیا کہ 2011 کے وزیراعظم اسکیم کو بحال کیا جائے.
سخی نے الزام لگایا کہ یونیورسٹیاں کرپشن، بدعنوانی اور اقرباء پروری کے اڈے بن گئے ہیں.
شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے طالبعلم ارشد جگنو نے کہا کہ کے ائی یو کے طلباء گزشتہ تین مہنوں سے احتجاج کر رہے ہیں مگرکوئی سنسنے کو تیار نہیں.
طلباء محاز کے رہنماء شہزاد الہامی نے کہا کہ فوجی عامر ضیاء کے دور میں طلباء یونینوں پر پابندی عائد کیا گیا تھا اور اداروں کو نجی اداروں کے حوالہ کیا گیا تھا. اب وقت آگیا ہے کہ طلباء متحد ہو کر اپنے حقوق کے لئے مشترکہ جدوجہد کریں.

عوامی ورکرز پارٹی ہنزہ کے رہنماء آصف سخی نے اپنے خطاب مین کہا کہ ملک کے دیگر شہروں کی طرح گلگت بلتستان میں بھی ان کی پارٹی طلباء کے شانہ بہ شانہ کھڑی ہے اور ان کے بینادی جمہوری حق کے لئے جدوجہد کر رہی ہے.اور ان کے مطالباے کی بھرپور حمائت کرتے ہیں.انھوں نے تعلیمی اداروں میں طلباء یونیوں کی بحالی پر زور دیا.
تحریک انصاف کے مقامی رہنماء میر نواز میر نے اپنے خطاب میں طلباء کے مطالبات کی حمایت کی اور یقین دہانی کیا کہ وہ ان مطالبات کو اپنے حکومت تک پہنچانے کی کوشیش کریں گے.
بالاورستان اسٹوڈینٹیس آرگنائزیشن کے رہنماء محند تقی نے کہا کہ ہمیں اپنے تاریخ سے نا اشنا رکھا گیا ہے اور مطالبہ کیا کہ گلگت بلتستان کے تمام تعلیمی اداروں مین مقامی تاریخ کو پڑھایا جایے.

بگروٹ اسٹوڈینٹنس آرگنائزیشن کے رہنماء علی بگورو نے بھی یونینوں کی بحالی کا مطالبہ کیا.
ڈیموکریٹک اسٹوڈینٹس فیڈریشن کے مرکزی رہنماء ذوالفیقار حسین نے قراردادیں پیش کیں جس میں طلباء یونین کی فلفور بحالی اور ان کے لئے انتخابات، فیسوں میں حالیہ اضافہ کے فیصلے کی واپسی،طبقاتی نظام تعلیم کا خاتمہ، مفت تعلیم کو یقینی بنانا، ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی تک فیس کی معافی اسکیم 2011 کی بحالی، گلگت بلتستان کے تعلیمی اداروں حلف نامہ اور سیاسی سرگرمیوں پر پابندی کا خاتمہ، جنسی ہراسانی کے خاتمے کے لئے کمیٹیوں کا قیام اور ان مین طلباء کی نمائندگی کو یقینی بنانا، تمام طلباء کو مفت ہاسٹیل اور ٹرانسپورٹ کی فراہمی، یکسان نصاب تعلیم اور اسے جدید خطوط پر استوار کرنا، ہر ضلعے میں ٹیکنیکل اور پرہفیشنل تعلیمی اداروں کا قیام، تعلیمی اداروں مین قوم، نسل، رنگ، فرقہ اور سنف کی بنیاد پر تعصب، امتیازی سلوک اور ہراسانی کا تدارک شامل تھا، گلگت بلتستان کے لئے الگ ٹیکسٹ بک بورڈ اور امتحانی بورڈ کا قیام شامل تھا.
ایک اور قرارداد کے ذریعے بلتستان یونیورسٹ کے مسئلے پر بلتستان اسٹودینٹس فیڈریشن اور ال بلستان موومنٹ کتے مطالباےت کی حمایت کیا گیا اور ان پر فلفور عملدرآمد کا مظالبیہ کیا گیا. .

اسلام آباد، لاہور اور کراچی مین بھی طلباء محاز کے کارکنوں نے طلباء مارچ میں بھر پور شرکت کیں اور اپنے مطالبات کو اجاگر کیا. ان شہروں مین ایک خاص بات اسیر رہنماء بابا ضان، آفتخار حسین اور دیگر سیاسی قیدیوں کے بڑے بڑے پوسٹر اور بینرز جن پر ان کی رہائی کے مطالبات درج تھے.

کراچی

گلگت بلتستان کے نوجوانوں نے خطے میں جاری نوآبادیاتی نظام کے نتیجے میں نظام تعلیم کے مسائل, گلگت بلتستان کے طلبہ و طالبات کے لئے تعلیم و روزگار کے مواقع کی عدم موجودگی اور نوجوانوں کو درپیش دیگر اہم مسائل کے ساتھ کراچی پریس کلب میں بھر پور طریقے سے اپنا مقدمہ پیش کیا. شریک تنظیموں میں نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن گلگت بلتستان, آل بلتستان مومنٹ, بلتستان سٹوڈنٹس فیڈریش, قراقرم سٹوڈنس آرگنائزیشن اور داریل سٹوڈنٹس فیڈریشن شامل تھیں-

رواں ماہ لاہور میں منعقد فیض فیسٹول میں پنجاب یونیورسٹی کے نوجوانوں نے طلبہ یونینز کی بحالی کے لیے آواز اٹھانے کی ایک ویڈیو سوشل میں پر خوب مقبول ہوئی اور دو نوجوان عروج اورنگزیب اور علی حیدر کے جوش نے طلبہ یونین کی بحالی کو ایک تحریک میں تبدیل کر دیا ہے۔

رواں ماہ لاہور میں منعقد فیض فیسٹول میں پنجاب یونیورسٹی کے نوجوانوں نے طلبہ یونینز کی بحالی کے لیے آواز اٹھانے کی ایک ویڈیو سوشل میں پر خوب مقبول ہوئی اور دو نوجوان عروج اورنگزیب اور علی حیدر کے جوش نے طلبہ یونین کی بحالی کو ایک تحریک میں تبدیل کر دیا ہے۔

35 سال سے طلبہ یونینز پر پابندی عائد

خیال رہے کہ پاکستان میں 35 سال سے طلبہ یونینز پر پابندی عائد ہے اور یہ 80 کی دہائی میں جنرل ضیاءالحق کے دور میں لگائی گئی۔
2008 میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنے پہلے خطاب میں طلبہ یونینز کی بحالی کا اعلان کیا لیکن اس پر کوئی عمل نہ کیا گیا۔
23 اگست 2017 کو سینیٹ نے متفقہ قرار داد پاس کی کہ یونینز کی بحالی کے لیے اقدامات کیے جائیں لیکن قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ن کی اکثریت ہونے کے باعث اسے اسمبلی سے پاس نہیں کرواسکی تاہم 35 برس سے طلبہ تنظمیں یونینز بحال کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں