کوہستان کی بیٹی کو انصاف چاہئے

تحریر: گمنام کوہستانی


گولی لگتی ہی میں ہل گئی، میں نے ہاتھ بڑھاکر دیکھنے کی کوشش کی تو خون کی نمی محسوس ہوئی، میں نے شوہر کے سامنے ہاتھ جوڑدیئے اور بنا کچھ کہے اس کے آنکھوں میں دیکھتی رہی، میں اسے کہنا چاہتی تھی کہ میں اس کی بیوی ہوں، اس کے چار بچوں کی ماں، میں اسے یاد دلانا چاہتی تھی کہ میں نے اس کے ساتھ اپنے خاندان، اپنے وطن کوہستان سے دور چارسدہ میں بارہ سال گذارے ہیں.
لیکن میں کچھ بول نہ سکی، مجھے کبھی کب کسی نے بولنے کی اجازت دی ہے کہ میں بولتی۔
نشے میں دھت شوہر نے دوسرا فائر کیا، اب کے بار گولی لگتے ہی میں ڈگمگا گئی ، بہت درد ہوا لیکن میں نے کوشش کی اورسیدھی کھڑی ہوکرشوہرکی طرف فریادی نظروں سے دیکھا، میں نے اس سے زندگی کی بھیک مانگی.
میں ڈرپوک نہیں ہوں، میں کوہستان کے برف پوش پہاڑوں میں پیدا ہونی والی ایک بہادرکوہستانی شہزادی ہوں جو پچھلے بارہ سال سے شوہر کے ذہنی اورجسمانی تشدد خاموشی سے برداشت کر رہی تھی، جسے اس کا شوہر ہر رات نشے میں دھت ہوکرمارتا تھا، لیکن میں نے اپنی اوراپنے خاندان کی بدنامی کے ڈرسے کسی سے اس کا ذکر نہیں کیا، کسی سے میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ چودہ سال کی عمرمیں مجھے دیرکوہستان سے بیاہ کرچارسدہ پڑانگ لانے والا خان سیف اللہ مجھ پرتشدد کے نت نئے طریقے آزما رہا ہے ۔
میں موت سے نہیں ڈرتی تھی، میں تو اس کے سامنے کیسی دیوارکی طرح کھڑی تھی۔ مجھے اپنی بیٹی کا غم کھائی جارہی تھی. کہ میرے بعد اس کا کیا ہوگا ؟ ۔۔- ورنہ جس طرح کی زندگی میں جی رہی تھی اس سے موت ہزاردرجہ بہتر تھی۔
میں نے ہمت جمع کی اورکچھ بولنے والی تھی کہ اس نے تیسرا فائرکیا اورمیں گرگئی۔ پھر مجھے ہسپتال لایا گیا۔ مجھ سے کہا گیا کہ میں بولوں غلطی سے گولی لگ گئی ہے۔ مجھے بولنا پڑا مجبوری تھی.
ان علاقوں میں ایسا ہی ہوتا ہے، کسی کو انجکشن دے کرمارا جاتا ہے، کسی کا گلہ دباکرمارا جاتا ہے، کسی کو فائرکرکے اورکسی کو ذبح کرکے مارا جاتا ہے لیکن کوئی کچھ بول نہیں سکتا- بولنے پر پابندی ہے، میں نے بھی کسی سے کچھ نہیں کہا اور نہ میں کچھ کہنے والی تھی. یہ تو جب مجھے لگا کہ میں مرنی والی ہوں توسوچا چلو آج بولنے کی کوشش کرتے ہیں. شائد کسی کو رحم آجائے اورانصاف ملے۔
میں نے اپنے باپ کے کان میں چپکے سے کہا کہ کس طرح اورکیسے شوہرنے مجھے مارا۔ میں اپنے والد صاحب سے بہت کچھ کہنا چاہتی تھی، پچھلے بارہ سال سے مجھ پرجوبیت رہی تھی- وہ بتانا چاہتی تھی۔ بہت کچھ پوچھنا بھی تھا- ان سوالوں کے جوابات معلوم کرنے تھے جو زندہ ہوکرمیرے ہونٹوں تک کبھی بھی نہیں آسکے تھے- لیکن زندگی نے وفا نہیں کی، میں مرگئی۔ میں ایک بار تو نہیں مری- صرف پچھلے دومہینوں میں مجھے سات بارمارا گیا، کبھی بندوق سے مارا کبھی گلہ دباکر مارا اورکبھی ذبح کرکے… ذبح کرنے کا اپنا الگ مزہ ہے، اس لئے تو لوگ ایک بار نہیں دو دو بارمجھے ذبح کرکے مزہ لیتے ہیں۔
میں قربانی کا جانورہوں مجھے ہرجگہ قربان کیا جاتا ہے، کہیں غیرت دیوتا کے بھنٹ چھڑایا جاتا ہے تو کہیں دشمن دیوتا کے بھینٹ چھڑیا جاتا ہے- مزے کی بات یہ ہے کہ دشمن دیوتا سے ہمارا کچھ لینا دینا نہیں ہے لیکن قربانی ہم ہی دیتے ہیں- بندے مرد مارتے ہیں اوربدلے میں ہمیں دیا جاتا ہے- اس لئے تو کبھی کبھار مجھے لگتا ہے یہ آدم وحوا والی کہانی بالکل ہی جھوٹی ہے- اگر ہم انسان ہوتے تو ہمیں بطور زر استعمال کیا جاتا ؟؟۔
میرا تعلق دیر کوہستان کے علاقے شرینگل سے تھا اورمیری عمراس وقت 25 سال تھی جس وقت مجھے مارا گیا-آج سے بارہ سال قبل میری شادی چارسدہ پڑانگ کے خان سیف اللہ کے ساتھ ہوئی تھی- میرے چار بچے ہیں ایک لڑکی اور تین لڑکے۔
24 جون 2019 کو میرے شوہر نے تین فائر کرکے مجھے زخمی کیا بعد میں زخموں کی تاب نہ لاکر میں مرگئی۔ پولیس نے ایف آئی آردرج تو کی ہے لیکن میرا شوہرکوئی عام آدمی نہیں ہے، بہت طاقتور اوراثرو رسوخ والا ہے ۔ مجھے سے پہلے 9 دس لوگوں کو قتل کر چکا ہے-اپنے وقت کا مشہور نشئی اورقاتل ہے- ایک تو خان ہے اور اوپر سے ارشد خان ایم پی اے کا رشتہ دار ہے- اسلئے ابھی تک آزاد گھوم رہا ہے۔ مہینے بھر پہلے میرے آبائی علاقے شرینگل کے لوگوں نے احتجاج وغیرہ کیا تو DPO دیربالا نے یقین دہانی کی کہ مجرم کو پکڑ کر قانون کے کٹہرے میں کھڑا کریں گے. لیکن آج تک کچھ بھی نہیں ہوا۔
آج بھی شرینگل میں لوگ میرے لئے سراپہ احتجاج تھے، یہ احتجاج اس لئے تھا کہ میرا بھینٹ نہیں چھڑایا گیا۔ مجھے میرے نشئی شوہر نے مارا ہے بغیرکسی وجہ کے، نہ تو غیرت دیوتا کی قربانی تھی اور نہ رسم رواج کی دیوی کی قربانی، اس لئے کوہستان کے لوگو مجھے انصاف چاہئے۔ مجھے میرے شوہر نے بغیر کسی جرم کے مارا ہے، میرے شوہر کو اس کی سزا ملنی چاہئے،میری آواز بنئے اور مجرم کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیجئے، قاتل کو سزا دیجئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں