کیا مستقبل قریب میں اپر چترال میں بجلی کا مسئلہ حل ہونے کا کوئی امکان ہے۔

کیا مستقبل قریب میں اپر چترال میں بجلی کا مسئلہ حل ہونے کا کوئی امکان ہے۔
رپورٹ: کریم اللہ
اپر چترال میں بجلی کی طلب سات سے آٹھ میگاواٹ ہے اکتوبر 2020ء تک ریݰن بجلی گھر بھی فنکشنل ہوگا۔ جس کی پیداواری صلاحیت زیادہ سے زیادہ تین اعشاریہ پانچ میگاواٹ ہے جبکہ سردیوں میں اس بجلی گھر سے محض ایک اعشاریہ پانچ میگاواٹ بجلی پیدا ہونے کے چانسز ہے۔ آبادی بڑھنے اور علاقے میں ایندھن وغیرہ کے لئے بجلی کی طلب میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے بہت سارے لوگوں کا خیال ہے کہ ریݰن پاور ہاؤس کی تکمیل کے بعد علاقے میں بجلی کا مسئلہ حل ہوگا مگر ایسا ہر گز نہیں اس پاور ہاؤس کی تکمیل کے بعد مزید لوڈ شیڈنگ کے لئے عوام کو تیار رہنا ہوگا۔ کیونکہ فی الوقت نیشنل گرڈ سے کم از کم چار میگاواٹ بجلی اپر چترال آرہی ہے پھر بھی بیس بیس گھنٹے بجلی غائب رہتی ہے جبکہ ریݰن پاور ہاؤس کی تکمیل کے بعد نیشنل گرڈ سے آنے والی بجلی کی سپلائی بھی بند ہوگی۔ اس کے بعد بجلی کی مستقل بندش اپر چترال کا مقدر ٹہرے گی۔ اس کے علاؤہ اپر چترال میں پیڈو کی جانب سے 90 کی دھائی میں جو ٹرانزمیشن لائین بچھائی گئی تھی وہ دنیا میں کب کے متروک ہوچکے ہیں کیونکہ ان ٹرانزمیشن لائینوں میں بجلی کی بڑی مقدار ضائع یعنی لائن لاس ہورہی ہے۔

اس مسئلے کا مستقل حل کیا ہے؟؟

سوال یہ ہے کہ اپر چترال میں بجلی کے اس بحران کا مستقل حل کیا ہے۔۔؟؟ اس کا دو ہی حل ہے۔
1۔ محکمہ واپڈا اپر چترال کے لئے علیحدہ ٹرانزمیشن لائین بچھا کر پورے علاقے کو نیشنل گرڈ سے کنکٹ کریں۔ اس حوالے سے سابق ممبر قومی اسمبلی شہزادہ افتخار الدین نے کافی جدوجہد اور کام کیا تھا مگر ان کے دور اقتدار میں وہ کام نہ ہوسکا اب موجودہ حکومت اور چترالی نمائندگان سے اس کی امید نہیں۔ ایک خبر یہ بھی ہے کہ اپر چترال میں واپڈا کو ٹرانزمیشن لائین بچھانے کے لئے پیڈو کی اجازت درکار ہے جسے پیڈو دینے کو تیار نہیں۔
2۔ اس مسئلے کا دوسرا حل لوکل پاور ہاؤسز کا قیام ہے مگر بدقسمتی سے این جی اوز اور صوبائی حکومت ہر دو اس میں سنجیدہ نہیں۔ ایس آر ایس پی کے کئی زیر تعمیر بجلی گھر یا تو ناکام ہوچکے ہیں یا پھر کام ادھورا چھوڑ کے وہ غائب ہیں۔
اسی طرح محکمہ پیڈو نے اے کے آر ایس پی کے ذریعے چھوٹے پن بجلی گھروں کے منصوبے شروع کئے تھے مگر پہلے ہی فیز میں پیڈو نے فنڈنگ روک لی اور یوں اکثر منصوبے ادھورے رہ گئے۔
نتیجہ۔ اس سارے گیم میں اپر چترال تاریکی میں ڈوبا ہوا ہے جو اگلے پانچ سے دس سالوں تک اس تاریکی میں ڈوبا رہے گا۔۔۔ بالخصوص ضلعی ہیڈ کوارٹر بونی میں بجلی کا مسئلہ عنقریب حل ہونے کا کوئی امکان نہیں۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں