کیا نقشے اور چہروں میں تبدیلی کا نام آزادی ھے ؟؟

تحریر: احسان علی ایڈووکیٹ

Ehsan Ali Advocate

1836ء سے پہلے گلگت بلتستان اور لداخ کے باشندے مقامی چھوٹے چھوٹے راجائوں کے ماتحت ایک فرسودہ راجگی نظام میں جی رہے تھے جس کے تحت مقامی راجے اور ان کے وزیر اور دیگر حواریوں کا ایک چھوٹا سا گروہ مقامی غریب کسانوں کا استحصال کرتے تھے راجے اور انکے چند حواری عیش و عشرت کی زندگی گزارتے تھے مگر ان راجواڑوں کے 99% سے زیادہ غریب کسان، لوہار ، جولاہے اور دیگر محنت مزدوری کرنے والے لوگ نت نئے ٹیکسوں کی شکل میں جبر و استحصال کی وجہ سے بدترین غربت کے شکار تھے- 1836ء میں کشمیر پہ قابض پنجاب کے سکھوں نے لداخ پر، 1840ء میں بلتستان اور 1842ء میں گلگت پہ قبضہ کر لیا-
ان سالوں میں حکمران بدل گئے نقشہ بدل گیا مگر گلگت بلتستان کے کچلے ھوئے محنت کش عوام کی قسمت نہیں بدلی البتہ اہل وطن سے غداری کرنے والے چند وطن فروشوں نے حملہ آوروں کے اقتدار کیلئے سہولت کاری کرکے فوائد اور مراعات حاصل کئیے۔
1846ء میں سکھوں کی جگہ ڈوگرہ مہاراجہ گلاب سنگھ انگریزوں کی مدد سے نیا آقا بنا اس نے ریاست جموں کشمیر کے نام سے ایک نئی ریاست قائم کیا جس میں گلگت بلتستان اور لداخ کو بھی شامل کیا حکمرانوں کے چہرے بدلے نقشہ بدلا مگر محنت کش عوام کی حالت نہیں بدلی
برطانوی سامراج نے اپنی طویل مدتی مفادات کے پیش نظر برصغیر ہند کے ساتھ ساتھ جموں کشمیر کی ریاست کے بھی حصے بخرے کیئے ہندوستان کے ساتھ جموں کشمیر کا بھی نقشہ بدل دیا گیا ایک بار پھرحکمرانوں کے چہرے بدل گئے مگر نہ ہندوستان و پاکستان میں اور نہ ہی جموں کشمیر اور گلگت بلتستان کے مظلوم محنت کش عوام کی قسمت بدلی ہندوستان اور پاکستان کے 99% محنت کش عوام پہلے انگریزوں کے براہ راست غلام تھے 15 اگست 1947ء کو برصغیر کا نقشہ اور حکمران بدلنے کے بعد انگریزوں نے اقتدار و اختیار اپنے وفادار جاگیرداروں سرمایہ داروں اور افسرشاہی پہ مشتمل ایک چھوٹے سے استحصالی طبقے کے حوالہ کیا اور اس استحصالی طبقے نے طاقت کے زور پہ دولت وسائل دولت اور پیداوار کو اپنے کنٹرول میں لے لیا اور آج تک یہی طبقہ ملکی دولت اور پیداوار پہ قابض ھے اور 99 فیصد عوام کی حالت پہلے سے بھی بدتر ھو چکی ھے اسی طرح جموں کشمیر دونوں سرمایہ دار ریاستوں کے درمیان حصے بخرے ھونے کے بعد بھی نہ جموں کشمیر کے 99 فیصد محنت کش عوام کی حالت بدلی ھے اور نہ پاکستانی سرمایہ دار ریاست کے آہنی شکنجے میں آنے کے بعد گلگت بلتستان کے کچلے ھوئے محکوم عوام کی قسمت بدلی ھے البتہ اس دوران اسلام آباد کے حکمرانوں کی وفاداری اور سہولت کاری کے ذریعے تیزی سے ایک چھوٹا سا مقامی مراعات یافتہ سرمایہ دار طبقہ ضرور پیدا ھوا ھے جس کے مفادات جی بی عوام پہ مسلط نوآبادیاتی نظام کی بقا سے جڑے ھوئے ہیں آج جی بی اسمبلی جی بی کونسل کے ممبران وزراء وزیر اعلی گورنر اور ان سے وابستہ لوگ کالونیل نظام کو برقرار رکھنے کیلئے سہولت کاری ہی تو کر رہے ہیں۔اور یہی مقامی مفاد پرست طبقہ ہی اس عوام دشمن نوآبادیاتی نظام سے استفادہ حاصل کر رہا ھے
اسلئے آزادی و خود مختاری نقشے بدلنے یا چہرے بدلنے کا نام نہیں بلکہ اقتدار و اختیار کے ساتھ ساتھ جبر و استحصال اور لوٹ مار پہ مبنی نظام زر کو بدلنے کا نام ھے جس کے لئے برصغیر کے ساتھ گلگت بلتستان اور جموں کشمیر اور لداخ کے کچلے ھوئے محنت کش عوام نے متحد ھو کر اس وحشی انسان دشمن زیادہ سے زیادہ منافع پہ مبنی سرمایہ دارانہ نظام کو مسمار کرکے سرمایے کی بالادستی کی جگہ انسانی محنت کی بالادستی پہ مبنی انسان دوست نظام کیلئے جنگ لڑنی ھے
یکم نومبر کو نہ انگریز اور ڈوگرہ مہاراجہ سے اقتدار و اختیار مقامی عوام کو منتقل ھوا اور نہ صدیوں پرانے فرسودہ راجگی نظام کی چنگل سے مقامی باشندے آزاد ھو سکے مہاراجہ کے گورنر گھنسارا سنگھ کی معزولی کے بعد برطانوی سامراج کی طرف سے سرحدی چوکیداری کیلئے تیار کردہ گلگت سکاوٹس کے کمانڈنٹ میجر براون ہی سیاہ و سف کا مالک بنا اور اسی نے ہی بعد ازاں پاکستانی حکمرانوں کے ساتھ بات چیت کے بعد 16 نومبر کو اس خطے کا انتظام و انصرام انکے حوالہ کر دیا تھا یکم نومبر سے 16 نومبر تک پاکستان کے عارضی طور انتظامی کنٹرول میں آنے تک ایک دن کیلئے بھی گلگت کا اقتدار و اختیار نہ حسن خان کے پاس رہا اور نہ بابر خان یا شاہ خان یا میر آف ہنزہ یا میر آف نگر کے پاس رہا انگریز کمنڈنٹ میجر براون نے انگریز آقاوں کے گریٹ گیم کی سکیم کے تحت دی گئی ایجنڈے کے تحت گلگت بلتستان کو ریاست جموں کشمیر سے جغعرافیائی طور پہ الگ کرکے یہاں کا اقتدار و اختیار گورنر گھنسارا سنگھ سے چھین کر اپنے ہاتھوں میں لینے کیلئے اور بعد ازاں اس خطے کو پاکستان کی انتظامی کنٹرول میں متنازعہ شکل میں حوالہ کرنے کیلئے گلگت سکاوٹس کے مقامی وفادار JCOs کو بطور سہولت کار استعمال کیا اسکے علاوہ مقامی سکاوٹس کا کوئی کردار نظر نہیں آتا یہاں تک کہ براون نے پاکستانی حکومت سے بات چیت کے بارے میں بھی کسی مرحلے پہ بھی ان مقامی جے سی اوز کو اعتماد میں نہیں لیا۔ اس سب کے باوجو بھی جی بی کے بعض حضرات یکم نومبر کو یوم آزادی منانے پہ بضد ہیں-

احسان علی ایڈووکیٹ گلگت بلتستان سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے سابق صدر ہیں اور انقلابی سوشلسٹ پارٹی کے رہنما ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں