کیا کلچر پہ صرف مرد کی اجارہ داری ھونی چاہئے ؟؟

تحریر:احسان علی ایڈوکیٹ

سوال یہ پیدا ھوتا ھے کہ یہ کلچر، روایات، عزت ننگ و ناموس صرف مرد کے مفاد میں کیوں بنائی گئیں ہیں؟ کیا کلچر مرد کیلئے الگ اور عورت کیلئے الگ ہے ؟ یعنی جب مرد کسی پروگرام میں ناچے تو وہ کلچر ھے اور کہیں مرد کے بنائے ہوئے ان رواجوں کو توڑ کر عورت ناچنے کی جرات کرے تو وہ کلچر نہیں فحاشی عریانیت کہلاتا ہے. پھر کلچر کے خطرے میں پڑنے کا واویلا کیا جاتا ھے دراصل یہ کلچر کو خطرہ نہیں ہوتا بلکہ مرد کی بالادستی خطرے میں پڑ جاتی ہے.

دنیا کی تاریخ شاہد ہے کہ سماج میں طبقات کے ابھرنے کے ساتھ ہی عورت کی غلامی کا آغاز ھوا غلامی کا نظام ہو، جاگیرداری نظام ہو یا سرمایہ داری ان سب نظاموں میں عورت چکی کے دو پاٹوں کے نیچھے گھن کی طرح جبر و استحصال پہ مبنی طبقاتی نظام اور مرد کی دوھری غلامی میں کچلی جاتی رہی ہے. آج کی بظاہر ترقی یافتہ سماج میں بھی عورت جہاں سرمایہ داری نظام کی جبر و استحصال کا شکار ہے وہی پہ وہ گھر میں مرد کی بالادستی غیرت تقدس روایات کلچر کے نام پہ مرد کے بنائے ہوئے ان قوانین و رواج کی اسیر بنی ہوئی ہے۔
سوال یہ پیدا ھوتا ھے کہ یہ کلچر، روایات، عزت ننگ و ناموس صرف مرد کے مفاد میں کیوں بنائی گئیں ہیں؟ کیا کلچر مرد کیلئے الگ اور عورت کیلئے الگ ہے ؟ یعنی جب مرد کسی پروگرام میں ناچے تو وہ کلچر ھے اور کہیں مرد کے بنائے ہوئے ان رواجوں کو توڑ کر عورت ناچنے کی جرات کرے تو وہ کلچر نہیں فحاشی عریانیت کہلاتا ہے. پھر کلچر کے خطرے میں پڑنے کا واویلا کیا جاتا ھے دراصل یہ کلچر کو خطرہ نہیں ہوتا بلکہ مرد کی بالادستی خطرے میں پڑ جاتی ہے.
عورت کو محکوم بنانے والی یہ روایات اور رسومات خود نچھلے طبقے کے مردوں کے فائدے میں بھی نہیں بلکہ یہ اس جبر و استحصال پہ مبنی نظام زر کو مضبوط کرتا ھے. دنیامیں جہاں کہیں بھی محکوم اقوام اور کچلے ھوئے محنت کش عوام نے قومی و طبقاتی آزادی حاصل کی ھے وہاں کے محکوم و کچلے ھوئے مرد اور عورت دونوں نے مل کر مشترکہ جدوجہد سے ہی آزادی حاصل کی ھے. دنیا میں کہیں کوئی ایک بھی مثال ایسی نہیں جہاں عورتوں کو غلام رکھ کر مردوں نے خود سے آزادی حاصل کی ھو۔ روس، چین، ویتنام، کیوبا، وینزویلا وغیرہ میں مزدور کسان اور درمیانہ طبقے کے مرد اور عورتوں نے ملکر مشترکہ جدوجہد سے آزادی حاصل کی ہے. آج اگر گلگت بلتستان اور جموں کشمیر کے عوام نے اس قومی محکومی سے نکلنا ہے اور نظام زر کے ہاتھوں جبر و استحصال سے آزاد ہونا ہے تو وہ اپنی آدھی سے زیادہ آبادی کو غلام رکھ کر یہ آزادی کبھی حاصل نہیں کرسکتے۔اسلئے غلام قوموں اور جبر و استحصال کے شکار پسے ھوئے محنت کش طبقوں کو عورتوں کے بارے میں موجودہ تنگ نظری قدامت پرستی پہ مبنی جاگیردارانہ سوچ تبدیل کرنا پڑے گا. عورتوں کو اپنا غلام سمجھنے کے بجائے انہیں اپنے برابر کا رفیق اور ساتھی سمجھنا ہوگا۔اور اس طرح مشترکہ جدوجہد کے ذریعے ہی ہم اپنی قومی خودمختاری اور جبر و استحصال کے نظام سے چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں