گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات اور محنت کش طبقے کا نقطہ نظر

تحریر: احسان علی ایڈووکیٹ

گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات جو گلگت بلتستان گورنینس آرڈر 2018ء کے تحت اگست کے وسط میں منعقد ھونے والے انتخابات غیر معینہ مدت تک ملتوی کئیے گئے ہیں. مگر موجودہ اور سابقہ حکمران طبقوں کی جماعتوں– تحریک انصاف، مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کے متوقع امیدواروں کی انتخابی مہم جاری ھے یہ حقیقت اب گلگت بلتستان کے عوام پر عیاں ہو چکا ہے کہ یہ ایک کنٹرولڈ اسمبلی ہے.

عوام کے منتخب نمائندوں کی بنائی ہوئی آئین کے بجائے اسلام آباد کی سرمایہ دار ریاست کی طرف سے ٹھونسی گئی ایک ایگزیکٹیو آرڈر کی بنیاد پہ قائم اسمبلی محض ایک بے بس اور بے اختیار اسمبلی ہی ہو سکتی ہے، مگر دوسرے روایتی پارٹیوں سے بڑھ کر پی ٹی آئی جھوٹے اعلانات اور بلند بانگ وعدوں کے ذریعے گلگت بلتستان کے عوام کو سہانے خواب دکھا کر اور دوسرے پارٹیوں سے نام نہاد الیکٹبلز جمع کرکے الیکشن جیتنے کی جتن کر رہی ہے تاکہ محنت کش عوام کو سرمایہ دارانہ نظام کی اس گہرے دلدل میں پھنسا کر رکھا جا سکے. مگر گزشتہ دو سالوں سے ملک کے اندر تباہ کن مہنگائی، بڑھتی ھوئی بےروزگاری اور 90 فیصد سے زیادہ غریب عوام کو غربت کی چکی میں پیسنے کی وجہ سے پی ٹی آئی کے خلاف گلگت بلتستان کے عوام میں بھی سخت نفرت پھیل رہی ہے.

جس طرح پاکستان میں پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیاں مختلف مافیاز اور مراعات یافتہ طبقے کے ہاتھوں یرغمال ہیں بالکل اسی طرح گلگت بلتستان میں بھی گزشتہ کئی سالوں سے اسمبلی میں موقع پرست، بد دیانت اور سرمایہ دار ریاست کے سہولت کاروں کا قبضہ رہا ہے. پاکستان کی پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیاں 90 فیصد سے زیادہ کچلے ھوئے عوام کے بنیادی معاشی، سماجی مسائل کو حل کرنے، تعلیم، صحت، صاف پانی، روزگار اور سستا انصاف فراہم کرنے میں مکمل ناکام ثابت ہو چکے ہیں. اب تو یہ محض ڈبیٹنگ کلب بن چکے ہیں جہاں محنت کش عوام کے مسائل پہ بحث کرنے کی بھی اجازت نہیں۔جبکہ ملک کی تمام تر پالیسیاں کہیں اور تیار ہوتی ہیں. اسی طرح گلگت بلتستان اسمبلی بھی عوامی مسائل، غربت و بےروزگاری کے خاتمے، سستا انصاف، تعلیم اور علاج معالجہ اور بجلی جیسے بنیادی حقوق کی فراہمی میں مکمل طور پہ ناکام ہو چکی ہے۔

اس گھمبیر صورت حال سے نکلنے کا بہترین حل تو یہ ہے کہ ان بھانجھ اسمبلیوں کے بے معنی انتخابات کا بائیکاٹ کرکے محنت کش عوام اپنی مزاحمتی جدوجہد کے ذریعے سرمایہ داری نظام کا خاتمہ کرکے انقلاب برپا کریں اور ملک کے سارے وسائل، دولت اور پیداوار کو محنت کشوں کے جمہوری کنٹرول میں دے کر مساوی تقسیم کیا جائے مگر محنت کش عوام کو ان اصلاح پسند پارٹیوں اور سرمایہ داروں کی ان اسمبلیوں سے شاید اب بھی کچھ نہ کچھ امیدیں ہیں اس لئے وہ بائیکاٹ کیلئے تیار نظر نہیں آتے.

ایسے صورت حال میں گلگت بلتستان کے محکوم محنت کش عوام کے سامنے متبادل حل یہ ہے کہ ان انتخابات کے سیاسی عمل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نچلی سطح پہ گاؤں گاؤں قصبہ، یونین کونسل، تحصیل اور شہروں کی سطح پہ مزدوروں، غریب کسانوں، چھوٹے دکانداروں، طالب علموں، اساتذہ، ڈاکٹروں، انجینئروں اور دوسرے پیشوں سے وابستہ لوگوں پہ مشتمل عوامی کونسلیں منتخب کیا جائے اور ان کونسلوں کے ذریعے حلقہ یا ڈسٹرکٹ عوامی کونسلیں منتخب کی جائیں.

ان کونسلوں کے سالانہ انتخابات اور ماہانہ اجلاس ہو. ان کی کارکردگی کو جانچنے کا طریقئہ کار وضع ہو تاکہ کمزور کارکردگی والے ممبران کو ہٹا کر نئے ممبران کونسل منتخب کرنے کا طریقئہ کار ہو؛ نیز حلقے کا یا ڈسٹرکٹ کے منتخب ممبران اسمبلی اس ڈسٹرکٹ عوامی اسمبلی کے سامنے جوابدہ ہوں اور کسی ممبر اسمبلی کی کارکردگی غیر اطمینان بخش ہونے کی صورت میں ضلعی عوامی کونسل کو یہ اختیار ہو کہ وہ اس ممبر اسمبلی کو ہٹا کر اس کی جگہ نیا ممبر اسمبلی منتخب کرے.

اسی طرح ڈسٹرکٹ عوامی کونسلوں پر مشتمل گلگت بلتستان عوامی اسمبلی قائم کی جا سکتی ہے جو گلگت بلتستان کے عوام کی حقیقی عوامی منتخب اسمبلی ہو گی جس کی لگامیں حکمرانوں کے پاس نہیں بلکہ محنت کش عوام کے پاس ہوگی. ضلعی انتظامیہ، پولیس اور مختلف محکموں کے افسران بھی اس ضلعی عوامی کونسل کے سامنے جوابدہ ہوں اور افسران اور عملے کی ناقص کارکردگی کی بنیاد پہ ان کے خلاف انکوائری کرنے اور انہیں معطل کرنے کا اختیار ہو.

یہی سلسلہ گلگت بلتستان کے تمام اضلاح اور حلقوں تک پھیلایا جائے تو مقامی عوام بے بس اور یرغمال اسمبلیوں کے ذریعے نہیں بلکہ عوام کی طرف سے جمہوری طریقے سے منتخب کردہ ان عوامی کونسلوں کے نچلی سطح سے انقلابی بنیادوں پہ جدوجہد کے ذریعے مسلسل دباؤ ڈال کر ہی ریاستی وسائل دولت کو افسر شاہی کے بجائے عوام کی بنیادی سہولیات اور اجتماعی ترقی پہ خرچ کرایا جا سکتا ہے اور بیوروکریسی پہ عوامی راج قائم کیا جا سکتا ہے .

یہی منتخب عوامی کونسلیں آگے چل کر انقلاب کے بعد حقیقی مزدور جمہوریت کی بنیاد ڈالنے میں فیصلہ کن کردار ادا کریں گی۔
<


    احسان علی ایڈووکیٹ گلگت بلتستان کے سینئر وکیل اور جی بی سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے سابق صدر ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں