گلگت بلتستان انتخابات اور سیاسی حالات

تحریر۔ آصفہ اقبال

آج سے چند سال قبل جب میں سیاست کے معنی اور مفہوم سے متعلق پڑ ھ رہی تھی تو لفظ سیاست کو عبادت کے زمرے میں استعمال ہوتے ہوۓ پڑھا تھا. مگر جب سیاست کے بارے میں مزید جاننے لگی تو علم ہوا کہ یہ محض ضمیر کا سودا ہے۔ جس میں ایک انسان کو اپنے ذاتی مفادات کے علاوہ معاشرے کی ترقی اور انسانی حقوق کی کوئی پروا نہیں۔ جس کی چند ایک مثالیں اگر ہم حال ہی میں رونماء ہونے والے واقعات سے لینا چاہیں تو گلگت-بلتستان میں ہونے والے انتخابات سے پہلے کا سیاسی منظر پر نظر ڈالیں-
میں اپنے کم علمی کا اعتراف کرتی ہوں کہ میں سیاسی طور پر باشعور نہیں کہ سیاست اور سیاسی پس منظر کو ایک عاقل اور فاضل سیاست دان کی طرح بیان کر سکوں اور نہ گلگت بلتستان کی سیاسی پارٹیوں کے مابین تضادات اور اختلافات کو بیان کر سکوں- البتہ ہنزہ میں پچھلے کچھ عرصے سے پیدا ہونے والے سیاسی و معاشی حالات پر قلم اٹھا سکتی ہوں۔
یوں تو ہنزہ کے عوام تعلیم یافتہ،باشعور اور ترقی پسند کہلاتے ہیں. مگر موجودہ حالات بتا رہے کہ وہ جمود کے شکار ہیں۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جب ہنزہ کے عوام سیاسی اسیروں کے حق میں چھ سن تک شایراہ ریشم پر دھرنا دئے ہوئے تھے ،تب وفاق کی طرف سے کسی نے کوئ پیغام تک نہیں بھجوایا اور نہ کسی وزیر نے ہنزہ کی سیاسی و معاشرتی صورت حال پہ بات کی ، یہاں تک کہ نیشنل نیوز چینلز بھی دور دور تک نظر نہیں آۓ اور اب جب الیکشن کا وقت آن پڑا ہے تو وفاقی وزیروں سے لے کر اپوزیشن لیڈرز تک گلگت بلتستان سے ہمدردیاں جتا تے ہوۓ کورنر میٹنگز اور کمپین میں مصروف ہیں۔
سوچنے والی بات یہ ہے کہ ہنزہ کی تعلیم یافتہ اور با شعور عوام حق پرست اور قوم کے حق میں آواز بلند کرنے والے لیڈرز کو سلاخوں کے پیچھے رکھ کر وفاق کی اپوزیشن لیڈرشپ کو بڑے ہی پر جوش انداز میں پھول برساتے ہوۓ اور گیت گاتے ہوۓ اپنی سر زمین پر خوش آمدید کہتے ہیں۔جنہوں نے 1973 کی دہاٸیوں کے بعد پورے جی بی میں اپنی حکومتیں تو قاٸم کی مگر عوام کی معاشرتی و معاشی ضروریات کو سمجھ نہ سکے اور اگر سمجھ بھی لیا تو نظرانداز کر دیا۔حکومت کی بھی تو ایسے کہ پورے جی بی کو ایک میڈیکل کالج نہ دے سکے، ایک کارڈیالوجی ہسپتال نہ دے سکے اور یہاں بجلی اور پانی کا مسلہ، مسلہ ہی بن کر رہ گیا،اور اگر ہم بات سڑکوں کی کریں تو KKH بھی گلگت بلتستان کی قوم کو سی پیک کی بدولت ہی نصیب ہوٸ ہے۔
گلمت گوجال میں بلاول صاحب نے تقریر کرتے ہوۓ کہاکہ” ہمارا اور آپ کا ساتھ تین نسلوں کا ہے“اور اب کوٸ بلاول صاحب کو یہ بتا دے کہ تین نسلوں کا ساتھ ہونے کے بعد بھی ہنزہ کی عوام آج بھی پکی سڑکوں، صحت کے مراکز، بجلی اور پانی کا رونا روتی ہے۔
اب زرا بات ن لیگ کی حکومت کی کریں تو پچھلے پانچ سالوں کی ہی بات کرتے ہیں جس میں میر غضنفر صاحب ہنزہ سے انتخابات جیتنے کےبعد گلگت بلتستان کے گورنر منتخب ہوۓ اور ہنزہ کے تمام معاشی و معاشرتی محرومیاں جانتے ہوۓ بھی کبھی ان کا دھیان ہنزہ کی طرف نہیں گیا۔ ان کے دورانیہ میں کوٸ ایک پروجیکٹ بھی ہنزہ کے حق میں نہیں ملا جس کی بدولت ہنزہ معاشی و معاشرتی طور پر مضبوط اور خوشحال ہو سکے۔اب اگر بات پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ ہولڈرز کی کریں تو وہ شاید ہنزہ میں تحریک انصاف کے ٹکٹ پہ الیکشن لڑنے کا حقدار نہیں تھے کیونکہ کرنل صاحب کبھی ہنزہ میں رہے ہی نہیں اور نہ ہنزہ کی عوام کے حقوق کے لیے کبھی آواز بلند کی نہ جانے کس بنا پر انہیں وفاق کی طرف سے ٹکٹ ملا اور نہ جانے عوام انہیں کس بنا پر ووٹ دے گی۔
پاکستان ہو یا گلگت بلتستان یہاں حکومتیں ہماری ایسی گزری ہیں جو صرف ذاتی مفادات کا سوچتی ،جو ریاست اور سیاست کو زریعہ معاش سمجھتے، یہاں سیاست ایسی ہوتی ہے کی حق کی آواز بلند کرنے والوں کو اور حق پرستوں کو عمر قید کی سزاٸیں سناٸ جاتی ہیں،یہاں صرف میروں اور وزیروں کو حکومت کرنےکی اجازت ہے،یہاں عام آدمی کو کٹ پتلی کی طرح استعمال کیا جاتا ہے،یہاں کسی غریب باپ کا بیٹا سیاست نہیں کر سکتا، یہاں غریب کی آواز بننے والا،غریب کا دکھ بانٹنے والا، غریب کے حق میں کھڑا ہونے والا سیاست نہیں کر سکتا،یہاں عام آدمی کے ووٹ پہ جیتنے والا نہیں بلکہ وفاق میں بیٹھی ہوٸ جمہوری حکومتوں کا چنا ہوا لیڈر ہی اقتدار پہ آتا رہا ہے،یہاں الیکشن صرف نام کے ہی ہوتے ہیں اور وفاقی حکومت کا ٹکٹ ہولڈر گلگت کا پہلے سے گورنر اور وزیر اعلی بنا بیٹھا ہوتا ہے۔خیر اب دیکھنا یہ ہے کہ اس بار کس حد تک پر شفاف انتخابات ہوتےہیں۔ امید ہے کہ کوٸ میر یا وزیر اقتدار پہ نہیں آۓ گا۔اس بار گلگت بلتستان خاص طور پر ہنزہ کی عوام کو باشعور رہ کر ووٹ حق کی بنا پر دینے کی سخت ضرورت ہے۔
کسی روشن خیال پارٹی کو سپورٹ کر کے پڑھے لکھے لیڈر کو آگے لانے کی ضرورت ہے جو حالات کے مطابق عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے ورنہ پچھلے 73 سالوں کی طرح اگلے پانچ سالوں میں بھی ہم حقوق سے محروم رہینگے اور ہماری مستقبل کی نسلیں ہماری موجودہ اور پچھلی نسلوں کی طرح محرومیوں کا شکار ہوتی رہیں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں