گلگت بلتستان سے بےروزگاری کا خاتمہ کیسے ممکن ہے؟

احسان علی ایڈووکیٹ

ہم جس پہلو سے بھی اور جس زاویے سے بھی بیروزگاری کی اس عفریت کا جائزہ لیں، آخرکار ہم ایک ہی نتیجے میں پہنچ جاتے ہیں کہ موجودہ بحران زدہ سرمایہ داری نظام جو پاکستان کے ساتھ گلگت بلتستان پہ بھی مسلط ہے، بیروزگاری اسی نظام زر کی ہی پیداوار ہے۔

سرمایہ داروں کو اپنے کاروبار اور کارخانوں سے زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کیلئے کم سے کم اجرت پہ مزدوروں اور ملازموں کی ضرورت ہوتی ہے۔کم اجرت میں مزدور سرمایہ داروں کو تب مل سکتے ہیں جب مارکیٹ میں بےروزگار نوجوانوں کی فوج موجود ہو ۔غربت، بھوک اور بے کاری کا شکار مسائل زدہ نوجوان کم از کم اجرت میں سرمایہ داروں کے پاس مزدوری کیلئے مجبور ہو جاتا ہےکیونکہ اسے اچھی طرح معلوم ہےکہ اگر وہ کم اجرت میں مزدوری کیلئے تیار نہ ہوا تو مارکیٹ میں دوسرے ہزاروں لاکھوں بےروزگار اسی کم اجرت پہ کام کرنے کیلئے تیار ہیں۔ اس نظام میں سرمایہ دار کے منافع میں مسلسل اضافہ نہ ہو تو وہ بحران کا شکار ہو جاتا ہے۔آج سرمایہ داری جس بحران کا شکار ہےوہ دراصل منافع میں کمی کا بحران ہے۔

اس نظام زر میں دولت، پیداوار اور وسائل دولت ایک چھوٹے سے سرمایہ دار طبقے کے کنٹرول میں ہیں ۔ عوام کی وسیع اکثریت کو غربت بےروزگاری اور مسائل کی دلدل میں دھکیل کر محنت کشوں کی محنت کی پیداوار، دولت اور سرمایہ پہ اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے اس طبقے کو ریاست کی ضرورت پڑتی ہے۔ ریاست کو چلانے کیلئے اسے فوج، پولیس، سیکیورٹی ایجنسیوں، سرمایے کی تحفظ میں قوانین بنانے کیلئے پارلیمنٹ، ان قوانین کے مطابق فیصلوں کیلئے عدالتوں اور فیصلوں پہ عمل درآمد کیلئے پولیس اور جیلوں کا نظام قائم کیا گیا ہےجہاں اس ظلم، جبر ، ناانصافی اور استحصال کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو پا بند سلاسل کیا جاتا ہے۔

پاکستان کی طرح گلگت بلتستان کے تمام وسائل ایک چھوٹے سے سرمایہ دار طبقے کے قبضے میں ہیں،جبکہ یہاں ننانوے فیصد مقامی باشندے اپنے دیس کے وسائل دولت اور پیداوار اپنی اجتماعی ترقی، بےروزگاری اور غربت کے خاتمے کیلئے استعمال میں لانے سے قاصر ہیں۔ گلگت بلتستان میں موجود صنعتی خام مال اور دیگر انتہائی مہنگے معدنیات کی سائنسی بنیادوں پہ کانکنی کرکے یہاں ہر ضلع میں کارخانے لگائے جا سکتے ہیں اور مہنگے معدنیات کی مارکیٹنگ کرکے یہاں کے عوام کی اجتماعی ترقی کیلئے ان وسائل کو بروئے کار لایا جا سکتا ہے.

نیز یہاں کے دریاؤں پہ چھوٹے چھوٹے ڈیم بنا کر کم خرچ پہ ایک لاکھ میگا واٹ سے بھی زیادہ پن بجلی پیدا کرکے پاکستان سمیت پورے جنوبی ایشیا کو بجلی فروخت کرکے سعودی عرب، ایران و کویت کے تیل سے زیادہ سرمایہ حاصل کیا جا سکتا ہے.جس کے نتیجے میں گلگت بلتستان سے بےروزگاری اور غربت کا کم ترین وقت میں خاتمہ کیا جا سکتا ہے.

مگر ان انقلابی اقدامات کی راہ میں موجودہ سرمایہ دارانہ نظام اور وسائل پر قابض حکمران طبقے بنیادی رکاوٹ ہیں۔ اس لئے آج کے نوجوانوں پہ یہ تاریخی فریضہ عائد ہوتا ہےکہ وہ اپنی اجتماعی ترقی اور خطے سے غربت بےروزگاری اور پسماندگی کے خاتمے اور اپنے خطے کے وسائل دولت اپنے اجتماعی کنٹرول میں لینے ک لیے موجودہ سرمایہ داری نظام کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور ایک انقلاب برپا کریں۔

احسان علی ایڈووکیٹ ایک ترقی پسند سیاستداں، سینئر وکیل ہیں ۔ وہ گلگت-بلتستان سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے سابق صدر اور بار کونسل کے وئس چئیرمین رہ چکے ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں