گلگت بلتستان میں مزید 18 مریض کورونا کو شکست دینے میں کامیاب

اب تک 146 متاثرین صحتیاب ہوئے ہیں، 67 زیر علاج ہیں، 80 مشتبہ نمونوں کے نتائیج انا باقی ہے

رپورٹ: عنایت ابدالی

گلگت: گلگت بلتستان میں کورونا وائرس کی صورتحال میں قابل ذکر بہتری ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ تاہم ماہریں کا خیال ہے کہ ٹیسٹ کرنے کی رفتار بہت سست ہے. ان کا کہنا ہے کہ وسیع پیمانے پر متاثرہ علاقوں میں لوگوں کے ٹیسٹ کرنے کی ضرورت ہے.

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہفتہ کے روز مزید 18 مریض صحت یاب ہو کر گھروں کو چلے گئے۔ اب تک 146 مریض صحت یاب ہو کر قرنطینہ سے فارغ ہو چکے ہیں۔

ایف سی این اے کووڈ-19 منیجمینٹ سیل کے اعداد وشمار کے مطابق اس وقت صر ف 67 مریض زیر علاج ہیں جبکہ 80 مشتبہ متاثرین کی رپورٹ کے نتائج آنا باقی ہے۔

یاد رہے 17 مارچ سے اب تک 1،428 مشتبہ متاثرین کےنمونے لئے گئے تھے جن میں سے 216 افراد کی کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوگئی، اور 1،192 کے نتائج منفی آگئے ۔
سیل کے اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ متاثرین کا تعلق نگر ضلع سے ہےجہاں 43 افراد متاثر ہوئے . گلگت میں 14، شگر میں تین، اسکردو میں دو، گھانگچے میں تین اور استور میں پانچ مریضوں کی تصدیق ہو گئی ہے۔

ان مریضوں میں خواتین کی تعداد 24 اور مردوں کی 43 ہے۔ تین مریض وفات پا چکے ہیں جن میں چیلاس سے تعلق رکھنے والے نوجوان ڈا کٹر اسامہ ریاض اور ہوپر نگر سے تعلق رکھنے والے محکمئہ صحت کے ریڈیالوجی ڈپارٹمینٹ کے ٹیکنیشن مالک اشدر شامل ہیں۔

بلتستان میں جراثم کش ادویات کا چھڑکائو شروع

دریں اثناء کمشنر بلتستان ڈویژن عمران علی کی طرف سے منگوائی گئی دو چھڑکائو کی مشینیں اور سپرے کیمیکل ہفتہ کے روز اسکردو پہنچ گئے۔
آج باقاعدہ ایڈمینسٹریشن کمپلکس سے جراثیم کش دوایوں کا چھڑکا ئو کا آغاز کیا گیا۔

کمشنر بلتستان نے اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلتستان ڈویژ ن کی انتظامیہ حکومت گلگت بلتستان کی وضع کردہ کرونا وائرس سے بچاؤ کی تمام تر تدابیر اور وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے وباء کو مقامی سطح پر پھیلنے سے روکنے میں کامیاب ہوئی ہے ۔ جو لوگ بیرون ممالک سے سفر کرکے آئے تھے ان کو بلتستان انتظامیہ نے بروقت قرنطینہ اور تنہائی کے مراکز میں منتقل کیا اور اکثریت صحت یاب ہو کر گھروں کو جا چکے ہیں۔

کمشنر نے اس موقع پر ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل اسٹاف جو اس کرونا وائرس کے خلاف لڑنے میں ہراول دستہ کے طور پر کردار ادا کر رہے ہیں کو خراج تحسین پیش کیا۔

اس موقع پر ڈپٹی کمشنر سکردو خرم پرویز نے کہا کہ جراثیم کش ادویات کی سپرے کرنے کے لئے تین ٹیمیں تشکیل دی گئی ہے ایک تنہائی اور قرنطینہ مراکز کے لئے، دوسرا بازاروں،گلی، محلوں اور تیسرا مختلف سرکاری دفاتر میں سپرے کریں گے. یہ عمل کرونا وائرس کے خاتمے تک جاری رہے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں