گلگت بلتستان میں افسرشاہی کا پھیلاؤ اور صحتِ کا اپاہج ادارہ

تحریر :احسان علی ایڈووکیٹ

گزشتہ روز ضلع نگر کی ایک پھول جیسی بچی محض ناقص اور ناکافی طبی سہولیات کی وجہ سے موت کے بے رحم منہ میں چلی گئی معصوم بچی کے لواحقین کے مطابق نگر خاص سے سکندر آباد تک وہ اپنی بچی کی زندگی بچانے کیلئے دوڑتے رہے مگر کہیں پہ بھی ان کی بچی کیں علاج کیلئے نہ کوئی چائیلڈ اسپیشلسٹ موجود تھا نہ کہیں چلڈرن وارڈ نہ کہیں آئی سی یو نہ آکسیجن دینے کا نظام اور نہ وینٹیلیٹر کا وجود- یہاں تک کہ پورے ضلع میں ہسپتالوں کے قیام کے نام پہ کروڑوں اربوں روپے خرچ کئے گئے ہیں مگر موقع پہ ہسپتالوں کے نام پہ تین چار ڈسپنسریوں کی بلڈنگوں کے علاؤہ کچھ بھی موجود نہیں جو یہ حالی عمارتیں باقائدہ ہسپتال کی تعریف میں ہی نہیں آتے۔ ستم ظریفی یہ کہ پورے ضلع میں جدید طبی سہولیات کے ساتھ کوئی ایک ایمبولنس بھی نہیں جس ایمبولنس پہ معصوم بچی کو ایمرجنسی حالت میں گلگت ریفر کیا گیا اس ایمبولنس میں بچی کو آکسیجن دینے کی سہولت بھی میسر نہ تھی۔

ایک معصوم بچی کی اس افسوس ناک موت نے نہ صرف ضلع نگر بلکہ پورے گلگت بلتستان میں عوام کو میسر انتہائی ناقص اور ناکافی طبی سہولیات کا ڈول کا پول کھول دیا ھے۔ یہ اس ضلع نگر کی صورت حال ہے جسے گلگت بلتستان حکومت نے کورونا وائرس کی زیادہ واقعات کی وجہ سے ریڈ زون قرار دیکر ساری انتظامی مشینری کی توجہ یہاں لگائی گئی تھی یہاں ایک بڑا سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ پوری انتظامیہ کے پروپگنڈے کے باوجود اس سارے عرصے میں نگر کے باشندے کورونا کا مقابلہ جدید طبی سہولتوں سے نہیں بلکہ اپنی ہمت اور قوت مدافعت سے کرتے رہے ۔یہاں ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل اسٹاف کے یہ خدشات اور تحفظات بھی درست ثابت ہو ئے جس کے تحت ڈاکٹروں نے کورونا وبا ءکے ابتدا میں ہی نگر میں ناقص طبی سہولیات پہ احتجاج بھی کیا تھا۔

دیکھا جائے تو یہ صرف ایک ضلع نگر کی بات نہیں بلکہ گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں حکومت کی طرف سے انتہائی فرسودہ اور ناقص طبی انتظامات ہیں یہاں بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قاری حفیظ الرحٰمن کی نون لیگی حکومت ان پانچ سالوں میں نئے ضلعوں،  سب ڈویژنوں ، اور تحصیلوں کے قیام اور انکی بنیاد پہ ان نئے ضلعوں میں ترقی کا پروپگنڈا کرتی رہی ہے کیا واقعی ان ضلعوں میں ترقی ہوئی ہے ؟ حکومت کے اس جھوٹے پروپگنڈے کا پول نگر میں کھل گیا ہے۔ شاہد ہمارے حکمران ڈی سی ہاؤس ایس پی ہاؤس اور مختلف محکموں کے اعلی افسران کیلئے عالی شان دفاتر اور انکے لئے نئی گاڑیوں کی خریداری کو عوام کی ترقی سمجھ رہے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان نئے انتظامی اضلاع میںا نتظامی اور غیر پیداواری اخراجات پہ روپیہ پانی کی طرح بہایا گیا ہے جس میں زیادہ تر رقم کرپشن اور ٹھیکیداری کی نذر ہو گئی ہے ۔ دارلخلافہ گلگت کی طرح ہر ضلع میں انتظامی افسران کے گھروں دفاتر اور انکے لئے مہنگی گاڑیوں کی خریداری پہ اربوں روپے خرچ کئے گئے ہیں مگر ہر ضلع میں جدید طبی سہولیات کے ساتھ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کی تعمیر لازمی ہوتا ہے مگر پرانے تینوں اضلاع گللگت سکردو اور دیامر کے علاؤہ کسی ضلع میں ڈی ایچ کیو ہسپتال ابھی تک قائم نہیں کیا گیا ہے یہاں تک کہ ڈویژنل ہیڈکوارٹروں میں بھی ابھی تک جدید طبی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں اسکی بنیادی وجہ ہمارے حکمرانوں کی ترجیہات میں عوام کو طبی سہولیات فراہم کرنا شامل ہی نہیں۔

اگر ہم جی بی حکومت کی پچھلے 10 سالوں کی سالانہ بجٹ کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس کالونیل سرمایہ داری نظام کے تحت حکومتی مشینری اور افسرشاہی کو مضبوط کرنے پہ سارا عوامی بجٹ پانی کی طرح بہایا گیا ہے۔ جبکہ عوام کو جدید طبی سہولیات دینا معیاری تعلیم فراہم کرنا صاف پانی دینا بجلی کی ضروریات فراہم کرنا انٹر نیٹ کی جدید سہولت دینا اور دیگر مفاد عامہ کی سہولیات فراہم کرنا اس عوام دشمن نظام کی ترجیہات میں شامل ہی نہیں افسرشاہی کو مضبوط کرنے والی اس نوآبادیاتی نظام کے اندر تمام بنیادی انسانی ضروریات اور سہولیات غریب شہریوں کو مارکیٹ سے خود خریدنے پہ مجبور کیا جاتا ہے۔
کورونا وائرس کی وبا اور اسکے نتیجے میں عالمی سطح پہ آنے والے وقت میں شدید اقتصادی و معاشی بحرانوں سے نمٹنے اور آنے والی نئی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کیلئے پاکستان کے ساتھ گلگت بلتستان میں بھی ایک فعال مگر مختصر انتظامیہ اور فوج کے علاؤہ تمام تر وسائل دولت کو فوری بنیادوں پہ شہریوں کو جدید طبی و تعلیمی ضروریات ، بجلی،صاف پانی کی فوری فراہمی اور مواصلات کے نظام کو جدید تر بنانے پہ استعمال میں لانے کی شدید ضرورت ہے۔کیونکہ دنیا کی سب سے بڑی عالمی طاقت امریکہ جس کے پاس دنیا کو کئی مرتبہ تباہ و برباد کرنے کی فوجی طاقت موجود ہے مگر یہ عالمی سامراجی طاقت بھی کورونا وائرس کے سامنے بے بس نظر آتا ہے اور امریکی عوام کی زندگیوں کو بچانے میں مکمل ناکامی، یہاں تک کہ روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں کورونا کے ہاتھوں مرنے والوں کی لاشوں کو دفنانے کا انتظام تک نہیں کر پارہی ہے اور لاشوں کو مال مویشی کی طرح  خندقوں میں ڈال کر دفن کیا جا رہا ہے یہ بات اب طےہو چکی  ہے کہ ریاستوں کے وسائل دولت فوج اسلحہ اور انتظامی مشینری کو طاقتور بنانے پہ خرچ کرنے سے نہیں بلکہ خود ریاستوں کے شہریوں پہ خرچ کرنے سے ہی عالمی سرمایے کی بالادستی سے پیدا شدہ تباہ کاریوں سے بچا جا سکتا ہے۔ مگر صرف محسوس کرنے سے یہ انسانی مسلئے حل نہیں ہونگے اسکے لئے فوجی طاقت اور انتظامی مشینری پہ وسائل دولت خرچ کرنے والی عوام دشمن ریاستی پالیسیوں کو بدلنا پڑے گا اور ایک فیصد سرمایہ دار اشرافیہ کو مضبوط کرنے والی یہ عوام دشمن پالیسیاں تب بدلی جا سکتی ہیں۔ جب ننانوے فیصد پسے ہوئے شہری اٹھ کھڑے ہوکر ان عوام دشمن حکمرانوں اور نوآبادیاتی نظام کو مضبوط کرنے والی موجودہ   ڈمی اسمبلی و کونسل کے ڈرامے کو ختم کرکے اسکی جگہ تمام ریاستی، معاشی، اقتصادی، مالی ،انتظامی و سیاسی معاملات محنت کش عوام کے اپنے اندر سے جمہوری بنیادوں پہ منتخب کونسلوں اور کمیٹیوں کے حوالہ کیا جائے۔ تب عوام خود اپنے تمام وسائل دولت اپنی بنیادی انسانی ضروریات پہ خوچ کر سکیں گے اور سیاسی و انتظامی مشینری کو بھی سرمایے کی تحفظ کی بجائے ننانوے فیصد عوام کی جان مال عزت کی تحفظ کے ساتھ آنے والی سنگین چیلنجوں کا بہتر انداز میں مقابلہ کیلئے استعمال میں لا سکیں گے۔

ضرورت اس امر کی ہے اب موجودہ  ڈمی  اسمبلی و کونسل کی  جگہ  نچلی سطح سے  اوپر تک منتخب عوامی کونسلوں اور کمیٹیوں کو اقتدار و اختیار  تفویض کیا جائے۔


احسان علی ایڈووکیٹ سپریم کورٹ بار اسیو سی ایشن گلگت بلتستان کے سابق صدر اور با ر کونسل کے وائش چیر مین ہیں ۔ وہ بایاں بازو کی سیاست میں ایک نمایاں نام ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں