گلگت بلتستان میں بڑھتی ہوئی خودکشی کے واقعات ایک لمحئہ فکریہ

رپورٹ: عنایت بیگ


کراچی: گلگت بلتستان میں خود کشیوں کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے جو معاشرہ، حکومت، سیاسی قیادت اور اہل دانش کے لئے ایک لمحئہ فکریہ اور باعث تشویش ہے.
ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر ساجد حسین سید نے ایک سیمنار میں خطاب کے دوران کیا.
سیمنار کا اہتمام ایجوکئیر گلگت بلتستان نے ارتقاء انسٹیٹیوٹ آف سوشل سائنسز کراچی میں کیا تھا.
سیمینار کا عنوان "گلگت بلتستان میں بڑھتی ہوئی خود کشیوں پر متبادل نقطہ نظر” تھا جس میں گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے طلباء و طالبات اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کیں.
سمینار کے موضوع پر بات کرتے ہوئےڈاکٹر ساجد نے گلگت بلتستان میں خود کشی کے واقعات میں خطرناک,حد تک اضافہ ہوا ہے بلخصوص نوجوانوں میں یہ رجحان بہت بڑھ رہا ہے. جس کی وجوہات کئی ہیں لیکن ان کی وجوہات جاننے کے لئے خاطر خواء تحقیق اب تک نہیں ہوےی ہے. اسلئے ان کے بنیادی کو سمجھنے اور کوئے حل پیش کرنے میں ہم ناکام رہے ہیں.
انھوں نے اس رجحان کے چند بنیادی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ بیروزگاری اور غربت میں اضافہ، نوجوانوں کے لئے تفریح اور تخلیقی کاموں کے مواقع کے فقدان اور سماجی ناانصافی شامل ہیں-
"مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے. کہ حکومت، سیاسی پارٹیاں اور دانشور حلقے اس مسئلہ کے حوالے سے سنجیدہ نہیں اور نہ یہ ان کی ترجیحات میں شامل ہے.”

ان کا کہنا تھا کہ سردرد اور بخار کی طرح ذہنی دباو, ڈپریشن, جیسے ذہنی مسائل بھی صحت کے عام مسائل میں شمار ہوتے ہیں اور ان کے لئے بھی مناسب اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے. گلگت بلتستان کے قبائلی سماج میں یکلخت گلوبلائزیشن اور جدید ٹیکنالوجی کی آمد نوجوانوں کو ان کے خیال اور حقیقت کے درمیان بیگانہ کر رہی ہے, اور یہی بیگانگی زندگی کو اپنے ہاتھوں ختم کرنے کی چند اہم وجوہات میں سے ایک ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ یہ انتہائی خوش آئند بات ہے کہ گلگت بلتستان کے چند اضلاع میں خودکشیوں کے واقعات بلا جھجک رپورٹ ہوتے ہیں, مگر یہ پورے خطے کا مسئلہ ہے کسی ایک ضلع یا گاوں کا مسئلہ نہیں.

اس سے قبل سیمینار کا آغاز ایجوکئیر گلگت بلتستان کے چئیرمین عدنان گوہر نے کیا. انہوں نے تمام شرکاء سمیت سیمینار کے کلیدی مقرر ڈاکٹر ساجد حسین سید کو خوش آمدید کہا اور سیمنار کے غرض وغائت پر روشنی ڈالا..

ایجوکئیر کے نوجوان رہنماء تنویر نے گلگت بلتستان, سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں خود کشیوں کے اعداد و شمار پیش کئے اور بی بی سی کے ایک تازہ ترین رپورٹ کا تنقیدی جائزہ اور تجزیہ بھی پیش کیا.
سیمینار کے اختتام میں نوجوانوں نے بہت سے سوالات مقررین کے سامنے رکھا اور اپنے اپنے زاتی تجربات بیان کیا.
نوجوانوں کا کہنا تھا کہ اسی موضوع پر سلسلہ وار سیمنار ہوناچاہئے. جس کے ذریعے لوگوں میں اگہی پھیلانے کی ضرورت ہے.
آخر میں چیئرمین ایجوکئیر عدنان گوہر نے سبھی شرکاء, سپیکر ڈاکٹر ساجد حسین سید اور ارتقاء انسٹیٹیوٹ کے منتظمین کا شکریہ ادا کیا اور اس امر کا اعادہ کیا کہ ایجوکئیر وقتاً فوقتاً اسی طرح کی تعلیمی و شعوری سرگرمیوں کا انعقاد کرتی رہے گی.

اس کو بھی دیکھیے: https://youtu.be/3mixKhbLSZk

اپنا تبصرہ بھیجیں