گلگت بلتستان میں خواتین پر گھریلو تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات

کالم ، قطرہ قطرہ

تحریر: اسرارالدین اسرار

٨ مارچ ٢٠٢١ کو گلگت میں خواتین کے عالمی دن کے موقع پر دو جگہوں (ایک تعلیمی ادارہ اور ایک ہوٹل) میں تقریبات ہورہی تھیں ، عین اسی وقت ہم اس بات پر فکر مند تھے کہ گھریلو تشدد کی شکار اس بے گھر خاتون کو ہم کہاں رکھیں جو گذشتہ ایک ہفتہ سے کسی پناہ گاہ کی تلاش میں جگہ جگہ منتیں کرتی پھر رہی ہیں۔ خیر اس خاتون کو ایک مہربان کی وجہ سے عارضی طور پر رہائش تو مل گئ مگر ایسی درجنوں خواتین اب بھی بے گھر ہیں۔ جن کو کسی دردمند انسان نے پناہ دے رکھی ہے یا وہ کسی رشتہ دار کے پاس یا ملک کے کسی دوسرے شہر میں کسی پناہ گاہ میں مقیم ہیں۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے پاس گذشتہ ایک سال میں گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع سے درجنوں شکایات موصول ہوتی رہی ہیں جن میں اکثریت خواتین کی ہے۔ ایچ ار سی پی ان شکایات کے ازالہ کے لئے اپنی بساط کے مطابق کوشش کرتا رہا ہے۔ ایچ ار سی پی ایسے کیسسز سرکاری و غیر سرکاری اداروں کو ریفر کرتا ہے کیونکہ کمیشن کا کام سروس فراہم کرنا نہیں ہے ۔ تاہم کمیشن ہر طرح کی شکایات کو سننے کے بعد متاثرہ افراد کو مشاورت فراہم کرتا اور ان کو راستہ دیکھاتا ہے۔
گذشتہ ایک سال میں خواتین کی جو شکایات کمیشن کی شکایات سیل کو موصول ہوئی ہیں ان میں جنسی حراسانی، سائبر کرائم، گھریلو تشدد، جائیداد سے محرومی، تولیدی و ذہنی صحت کے مسائل، کام کی جگہ حراسانی، تعلیمی اداروں میں حراسانی، اقدام خودکشی، غیرت کے نام پر قتل ، کردار کشی، تعلیم ، صحت اور روزگار کے حق سے محروم کرنا، ووٹ کے حق سے محرومی، سیاسی شمولیت پر پابندی ، کورونا کے دوران معاشی مسائل سمیت دیگر کئی طرح کی شکایات شامل ہیں۔ مذکورہ شکایات میں سب سے زیادہ گھریلو تشدد کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ گھریلو تشدد کی شکار ایسی خواتین اس لئے بے بسی سے ظلم سہتی ہیں کیونکہ ان کا اپنا گھر نہیں ہوتا ہے وہ باپ ، بھائی، بیٹا یا شوہر کے گھر میں ہوتی ہے ۔ اگر باپ ، بھائی، بیٹا یا شوہر ان پر تشدد کرے اور وہ تنگ اگر خود گھر سے نکلے یا گھر سے زبردستی نکالی جائے تو اس دوران ان کو رہنے کے لئے کوئی جگہ میسر نہیں ہوتی ہے ۔ جی بی میں سرکاری و غیر سرکاری سطح پر بھی ایسی خواتین کی وقتی رہائش کے لئے کوئی مناسب پناہ گاہ کی سہولت میسر نہیں ہے۔ ایسی صورت میں وہ یا تو خودکشی کرتی ہیں یا عدالت کے احکامات کی روشنی میں تھانہ یا جیل میں رکھی جاتی ہیں یا پھر وہ پناہ گاہ کی تلاش میں دردر کی ٹھوکریں کھاتی ہیں۔ گلگت بلتستان میں خواتین کے حقوق کے لئے پہلے سے موجود قوانین پر عملدرآمد کے علاوہ خواتین کے تحفظ کے لئے نئے قوانین بنانے، ان پر عملدرآمد کو یقینی بنانے، بے گھر خواتین کی وقتی رہائش کے لئے جدید طرز کی پناہ گاہ بنانے کے علاوہ خواتین کو قانونی طور پر مختص کردہ جائیداد کا حق دلانے کے لئے ٹھوس اور فوری اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔
یاد رہے کہ جن خواتین کو ان کے باپ اور بھائی نے جائیداد میں حصہ دیا ہے وہ خواتین ان خواتین کے مقابلے میں زیادہ محفوظ ہیں جو جائیداد کے حق سے محروم ہیں۔ لہذا مرد حضرات اپنی بیٹی اور بہن کا مستقبل محفوظ دیکھنا چاہتے ہیں ان کو بیٹی اور بہن کو جائیداد میں حصہ دینا چاہئے۔ خواتین کو خود بھی اپنے قانونی حق کا تقاضا کرنا چاہیے۔
بدقسمتی سے یوم خواتین کے موقع پر نہ تو مذکورہ مسائل کا کہیں ذکر کیا گیا اور نہ حکومت کی طرف سے مستقبل میں خواتین کے بنیادی حقوق کے لئے کوئی قابل ذکر اقدامات کا عہد کیا گیا۔

اسرارالدین اسرار حقوق انسانی کمیشن پاکستان کے گلگت بلتستان کے کوآرڈینیٹر اور سینئر صحافی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں