گلگت بلتستان میں کورونا کے ٹیسٹ کو وسیع کیا جائے، ڈاکٹر اعجاز ایوب

سٹی ہسپتال گلگت و تمام ضلعوں میں اسپیشلسٹ ڈاکٹروں کی تعیناتی عمل میں لایاجائے،

بیورو رپورٹ

گلگت:

گلگت بلتستان میں اب تک کئے گئے کرونا ٹیسٹوں کی تعداد بہت کم اور سست رفتار ہے، اسے عالمی ادار ہ صحت کے ہدایات کے مطابق بڑھانا چاہئے تاکہ آنے والے دنوں میں اس وائرس کے کسی ممکنہ پھیلائو کو روکا جا سکے۔

ان خیالات کا اظہار نوجوان ڈاکٹروں کی انجمن (وائی ڈی اے) کے صدر ڈاکٹر اعجاز ایوب نے ہائی ایشیاء ہرالڈ اور بام جہاں سے بات کرتے ہوئے کہیں ۔

انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی ادارہ برائے صحت کی ہدایات کی روشنی میں کرونا ٹیسٹ کی تعداد کو وسیع کیا جائے اور گلگت بلتستان کے تمام علاقوں سے نمونے لئے جائیں.

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ لاک ڈاؤن کے اختتام پر چُھپے ہوئے متاثرین سامنے آنا شروع ہونگے اور صورتحال قابو سے باہر ہو جائیگا۔

ڈاکٹر اعجاز نے سٹی ہسپتال گلگت سمیت تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز ہسپتالوں میں اسپیشلسٹ ڈاکٹروں کی فلفور تعیناتی کو یقینی بنایا جائے ۔ ان کا کہنا تھا کہسٹی ہسپتال کشروٹ میں اسپیشلسٹ ڈاکٹروں کی کمی کی وجہ سے روزانہ درجنوں مریض ٹھوکریں کھا کرڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال اور پرائیویٹ کلنکوں کا رُخ کرنے پر مجبور ہوتے ہیں ۔

انہوں نے حکُومت سے مُطالبہ کیا ہے کہ فورا سٹی ہسپتال کشروٹ میں اسپیشلسٹ ڈاکٹروں کی تعینات کر کے صُبح کے وقت ان کی ذمہ داریاں لگائی جائیں تا کہ دل ، گُردوں ، شُوگر اور دیگر امراض میں مُبتلا مریضوں کا معائنہ اور علاج بہتر طور پرہو سکے۔

انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ گلگت بلتستان کے دور افتادہ علاقوں کے ہسپتالوں میں بھی ماہر ڈاکٹروں کی موجودگی کو یقینی بنایا جائے جس کے لئے پالیسی مُرتب کی جائے اور بلا تفریق تمام ڈاکٹروں کی ایک خاص معینہ مُدت کے لئے تعیناتی عمل میں لایا جائے ۔

وائی ڈی اے کے صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس انہوں نے اپنے تنظیم کی جانب سے مُطالبہ کیا کہ وہ محکمہ صحت میں چند لوگوں کی من مانیوں کو ختم کریں اور ڈاکٹر وں کی تنظیموں کی باہمی مشاورت سے صحت کے شعبے میں اصلاحات کئے جائیں اور پالیسیاں مرتب کی جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں