گلگت بلتستان میں ہزاروں غیر قانونی ملازمتوں کی مستقلی کا مسئلہ

تحریر: عنایت ابدالی

پاکستان مسلم لیگ (ن) نے گلگت ‍بلتستان میں اپنے دور ِحکومت کے بالکل آخری دنوں میں ہزاروں عارضی ملازمین کی مستقلی کا ‍بل
منظور کی‍ا تھا‍۔‍ اگر ا س بل پر من و عن عملدرآمد ‍ہوا ،‍ تو غیر قانونی اور چور دروازوں سے سرکاری ملازمتیں حاصل کرنے والے ہزاروں
لوگوں کی نوکریاں مستقل ہوسکتی ہیں۔ غیر قانونی ملازمتیں حاصل کرنے والوں میں مقابلے کے امتحانات میں ناکام ہونے والے ن
لیگ کے کارکنان، ‍سابق ‍وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحم‍ان اور ‍دیگر ‍ رہنماؤں کے عزی‍زو اقارب ، پاکستان پیپلز پارٹی اور چند مذہبی جماعتوں
کے کارکنان، وز‍را اور اعلیٰ سرکاری افسروں کو رشوت دے کر بھرتی ہونے والے ‍افراد ، اور افسران کے گھروالے ، رشتے دار اور
چہیتے ‍شامل ہیں ‍۔

ان ملازمین میں ‍غریب‍،‍ ناد‍ا‍ر‍،‍بے سہار‍ا اورمستحق افراد کی تعداد ایک فیصد بھی نہیں ہے۔ اگر ان ضرورت مندوں کی تعداد ایک فیصد
بھی ہو‍تی ‍ تو شاید اس مسئلہ پر سمجھوتا ممکن ہوسکتا ‍۔‍پاکستان پیپلز پارٹی ‍ نے بھی جاتے جاتے ایک ایسے ہی ‍بل کے ذریعے اپنے
کارکنوں کو نواز‍ ا‍۔‍جو اس بہتی گنگا میں نہانے سے رہ گئے ،‍وہ ابھی مستقل ہو رہے ہیں۔ آپ ‍کو یاد دلاؤں کہ پی پی پی نے بل منظور
کیا اور ملازمین مستقل ہوگئے‍۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عارضی ملازمین دس یا پندرہ سالوں سے مستقل نہیں ہوئے ہیں تو وہ سب
سے پہلے یہ واضح کریں کہ اس بل کے وقت ان کو مستقل کیوں نہیں کیا گیا؟

حافظ حفیظ الرحمان بہت زبردست مقرر ہیں‍۔ وہ بات کہنا جانتے ہیں اور معاملات کی سمجھ رکھتے ہیں۔ موصوف پورے پانچ سالوں میں
ایک ہزار مستقل نوکریوں نہیں دے ‍سکے ، مگر ان کی حکومت کے ‍جاتے جاتے ‍انکشاف ہوا کہ ہر سال تقریبا ایک ہزار سے زائد
افراد کو عارضی طور پر بھرتی کیا‍ گیا‍۔

ایک سال میں ایک ہزار عارضی ملازم بھرتی کرنے سے پانچ سال میں پانچ ہزار بنتے ہیں مگر یہاں چھ ہزار سے نو ہزار ملازمین کی بات
ہورہی ہے‍۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جس ہسپتال میں دو یا تین گاڑیاں موجود ہیں وہاں ایمرجنسی میں ایک ڈرائیور مشکل سے ملتا ہے مگر عارضی
ملازمین کے کھاتے میں پچاس سے ‍زائد ‍ ڈرائیور‍ اور‍ ستر سے زیادہ گریڈ‍۔ ون تنخواہیں لے رہے ہیں۔ معتبر ذرائع کے مطابق تنخواہیں
دینے والوں کو بھی معلوم نہیں کہ وہ ملازمین کہاں خدمات سر انجام دے رہے ہیں اور کب سے دے رہے ہیں۔

پی ڈبلیو ڈی میں ایسے افراد مستقل ہو رہے ہیں جنھوں نے ڈاکٹر محمد اقبال کے وزارت کے دوران بیوروکریسی کو رشوت دی تھی ۔ ان
میں سے بیشتر لوگ ملک کے مختلف شہروں میں موجود ہیں اور مستقلی کے انتظار میں ہیں۔ جونہی مستقل ہونگے یہاں ‍آ‍کر ڈیوٹی سر
انجام دیں گے‍۔‍ یہی حال‍ محکمہ جنگلات و جنگلی حیات، سیاحت، سیکرٹریٹ، م‍حکمہ تعلیم سمیت دیگر محکموں ‍ کا بھی ہے‍۔

عارضی ملازمین کے ترجمان ہمارے ایک دوست ہیں‍۔‍ ا‍ن‍ کا‍ حق بنتا ہے کہ وہ ہمیں گالیاں د‍یں‍ لیکن وہ بخوبی جانتے ہیں کہ ہم کسی
ک‍ے آلہ کار بن کر غیر قانونی ملازمتوں کے خلاف مہم نہیں چلا رہے ۔ ہم نے پہلے دن ہی ترجمان صاحب کو کہا تھا کہ چور دروازے
سے آنے والوں کو اپنے صفوں سے باہر نکالو، بل میں جعلی سازی کرنے والوں کو بے‍نقاب کرو، ان ملازمین ک‍ے نام پبلک کرو جو
رشوت دے کر ملازمتیں حاصل کیے ہوئے ہیں مگر نوکری کرنے کی بجائے شہروں میں پڑھائی کر رہے ہیں ،‍ ٹیکسی‍اں چلا رہے ہیں یا
کاروبار کر رہے ہیں اور اس انتظار میں ہے کہ مستقل ہونے کے بعد ڈیوٹی جوائن کریں گے‍۔
افسوس کہ بجائے ہمارے پرخلوص مشورہ پر کان دھریں ،ہمارے دوست ان تمام ملازمین کی معیت میں دھرنے پر بیٹھے ہوئے
ہیں‍۔‍ اب بھی وقت ہے‍۔ آج بھی ہم منتظر ہ‍یں کہ دھرنے سے یہ مطالبہ ہو کہ بل میں جعلی سازی کرنے والوں کے خلاف مقدمہ
درج کیا جائے، چور دروازے سے آنے والوں کے نام لے کر ان کو دھرنے سے باہر نکالا جائے۔ ڈیپورٹیشن والوں کو اپنے اپنے

محکموں میں بھیجنے کا مطالبہ ہو، عارضی ملازمین کے نام پر سیکرٹریز کی عیاشیوں کا خاتمہ کیا جائے اس کے بعد ہم بھی کہہ سکیں گے کہ
دھرنے دینے والے اصل حقدار ‍ہیں‍۔
مگر یہاں ‍شاید حقیقت یہی ہے ‍ کہ شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں