گلگت بلتستان : نوآبادیات کا بےنام گوشہ-1

تحریر: اشفاق احمد ایڈوکیٹ

Ashfaq Ahmed Advocate

کہا جاتا ہے کہ نوآبادیاتی دنیا مخصوص مقاصد کے حصول کو سامنے رکھتے ہوئے پیدا کیا جاتا ہے- یہ فطری ماحول کی پیداوار نہیں، نہ ہی کسی مہذب نظریہ کے ارتقاء کا معراجِ ہے بلکہ ایک ایسی سفاک اوراستبدادی دنیا ہوتی ہے جس میں طاقتورقومیں چھوٹی اورکمزورقوموں کےعلاقوں پرجارحیت کرکے ان پرآپنا تسلط قائم کرتی ہیں۔
لہذا نوآبادیاتی دنیا میں پائی جانے والی صورت حال کوئی فطری یا منطقی صورت حال نہیں ہے بلکہ مخصوص مقاصد کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس کی تشکیل کیجاتی ہے۔

یہ انسانوں کے مخصوص گروہ کے ہاتھوں مخصوص مقاصد کے حصول کے لئے برپا کی جانے والی صورتحال ہے اس گروہ کو نوآبادکار کا نام دیا جاتا ہے۔ تاریخی طور پر یورپ کے نوآبادکاروں میں برطانیہ، فرانس، جاپان اورپرتگال بہت مشہور تھے۔

تاج برطانیہ کی کبھی سورج غروب نہ ہونے والی سلطنت دنیا بھر کی نوآبادیات پر مشتمل تھی جو امریکہ سے افریقہ تک اور مڈل ایسٹ سے ایشیاء تک پھیلی ہوئی تھی ۔
بدقسمتی سے گلگت بلتستان بھی تاج برطانیہ کی ان بےشمار کالونیوں میں سے ایک کالونی تھی جہاں دنیا بھر کی نوآبادیات کی طرح ایک پرتشدد نوآبادیاتی نظام رائج کیا گیا، جس کے تحت ذریعے مقامی لوگوں کا سیاسی،معاشی ، معاشرتی اور ثقافتی استحصال کیا گیا، جس کے اثرات اور شاخسانے گلگت بلتستان میں آج بھی موجود ہیں۔

دنیا بھرکی کالونیوں میں رائج نوآبادیاتی نظام حکومت Might is right اور Divide and Rule کی پالیسی پر چلایا جاتا ہے نہ کہ تھامس مور کی یوٹوپیا پر- اس لئےنوآبادیات میں رائج الوقت نظام کی بنیاد انصاف، مساوات اور برابری کی بجائے ظلم جبراورتشدد پر رکھا جاتا ہے تاکہ زیر تسلط کمزور اقوام کی قوت، ثقافت اورتہذیب وتمدن کو تباہ کیا جائے اور ان کو فرقہ، نسل اور رنگ کی بنیاد پرتقسیم اورآپس میں لڑا کر ان کے وسائل پرآسانی سے قبضہ کرلیا جاسکے ۔

فرانس مے نامور مارکسی فلاسفر فرانز فینن اپنی مشہور کتاب ” افتادہ گان خاک” میں لکھتے ہیں کہ نوآبادکار کی دنیا مقامی باشندوں کی دنیا کو خارج کرنے کے اصول پرقائم رہتی ہے۔ تاکہ طاقت ور ملک چھوٹے اور کمزور علاقوں پر آپنا تسلط برقرار رکھ سکے اور ان کے وسائل کا استحصال جاری رکھا جائے۔

نوآبادکاراپنی نوآبادیاتی ذہنیت کے مظاہرے کے لئے سیاسی، سماجی معاشی اور تعلیمی شعبوں کو منتخب کرتے ہیں اور ان میں اپنے نظریہ کا بیج بوتے ہیں۔

فرانز فینن ، البرٹ میمی اور ایڈورڈ سعید تینوں اس بات پر متفق ہیں کہ نوآبادیاتی اقوام نوابادکار کے دیئے ہوئے تصور ذات اور کردار کو تسلیم کرتے ہیں اور اس کی وجہ سے نوآبادیاتی نظام قائم رہتا ہے۔

گلگت بلتستان میں رائج الوقت نظام، معروضی حالات، اور تاج برطانیہ کے دور سے رائج نوآبادیاتی قوانین کو سمجھنے سے قبل برٹش انڈیا کے نوآبادیاتی نظام کو سمجھنا ضروری ہے چونکہ گلگت بلتستان 1840سے لیکر 1947تک براہ راست یا بلواسطہ تاج برطانیہ کی ایک کالونی تھی اور یہاں رائج وقت نظام برٹش انڈیا کے نوآبادیاتی نظام سے بلواسطہ تعلق اور مماثلت رکھتا ہے۔
اگرچہ یکم نومبر انیس سو سینتالیس کی جنگ آزادی گلگت بلتستان کے بعد یہاں سے ڈوگرہ حکومت کا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہوا اور یہ خطہ پاکستان کے زیر انتظام آیا مگر ستر سال گزرنے کے باوجود آج بھی یہ علاقہ سر زمین بےآئین کہلاتا ہے۔

اس لئے یہاں رائج الوقت نظام کو سمجھنے کے لیے برصغیر پاک و ہند میں برٹش انڈیا کے دور حکومت میں رائج کالونیل سسٹم اور قوانین کا تقابلی جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ درحقیقت 1876 تک تاج برطانیہ نے انڈیا کو اپنی کالونی بنا کر وہاں نوآبادیاتی قوانین متعارف کروایا تھا۔

جن کی باقاعدہ بنیاد ہمیں 1757 میں جاکر ملتی ہے جب برٹش نیوی اور مرچنٹس تجارت کی غرض سے انڈیا پہنچ گئے، اور آہستہ آہستہ برصغیر میں سیاسی اور فوجی کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے گئے اور بلاآخر 23 جون 1757میں جنگ پلاسی میں انڈیا کی شکست کے بعد انڈیا دو سو سال کے لئے برطانوی سلطنت کی تسلط میں چلا گیا۔

ایسٹ انڈیا کمپنی کی بنیاد 1707 میں ملکہ برطانیہ الزبتھ اول نے رکھی تھی۔ لارڈ میکالے نے کہا تھا کہ ایسٹ انڈیا کمپنی دنیا کی بہترین تجارتی کارپوریشن ہے، جس کے پاس اپنی پرائیویٹ فوج بھی تھی جس کے ذریعے کمپنی نے برصغیر کو ایک آزاد ملک سے ایک کالونی میں بدل دیا اور اپنا نظام وہاں مسلط کیا۔
انڈیا میں کامن لا کی شروعات اس وقت سے ہوا جب 1726 میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے مدراس،بمبی اور کلکتہ میں Mayor’s Courts کا قیام عمل میں لایا، اور اس کے ساتھ Indian codified laws کی شروعات ہوئی ۔

برصغیر میں عدالتی نظام متعارف کرانے کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی کا کردار ایک تجارتی کمپنی سے بدل کر ایک حکمران پاور کی شکل اختیار کرگیا۔

1772میں Warren Hastings نے اصلاحات متعارف کرایا اور دیوانی مقدمات کی سماعت کے لیے ڈسٹرکٹ دیوانی عدالت اور فوجداری مقدمات کی سماعت کے لیے ڈسٹرکٹ فوجداری عدالت کا قیام عمل میں لایا جہاں کرمنل مقدمات کی سماعت کے دوران انڈین افسران کی مدد قاضی اور مفتی کیا کرتے تھے جبکہ دیوانی مقدمات کی سماعت ایک کلکٹر کے سپرد کر دی گئی، اس عدالت میں ھندوں کے لیے ھندو قوانین اور مسلمانوں کے لیے مسلم قوانین کے تحت مقدمات کی سماعت کی جاتی تھی۔

کپیٹل سزا دینے سے قبل صدر نظامت کی پیشگی اجازت لینا لازمی ہوتی تھی جسکی سربراہی ڈپٹی نظام کرتا تھا جس کی مدد کے لیے چیف قاضی اور چیف مفتی بھی مقرر تھے۔ اس عدالت کی تمام تر ایڈمنسٹریشن کلکٹر کیا کرتا تھا۔ پھر ریگولییٹنگ ایکٹ 1773کے تحت پہلی بار کلکتہ میں سپریم کورٹ کا قیام عمل میں لایا گیا۔

انڈیا ایکٹ 1784 کے ذریعے تاج برطانیہ نے انڈیا میں براہ راست مداخلت کرنا شروع کیا۔ 1786-1793 کے دوران Crown wills کے زیر نگرانی اصلاحات متعارف کروائیں گیے اور ڈسٹرکٹ فوجداری عدالت کو ختم کر کے ان کی جگہ کلکتہ،ڈھاکہ ،مرشداباد اور پٹیانہ میں سرکٹ کورٹ کا قیام عمل میں لایا گیا جو سول اور کرمنل مقدمات میں کورٹ آف آپیل کی حیثیت سے کام کرتا تھا، مگر یہ عدالت یوروپی ججرز کے زیر نگرانی تھا۔ کروان ولز نے صدر نظامت کی عدالت کو کلکتہ منتقل کرکے اس کو گورنر جنرل اور ممبران سپریم کونسل کی نگرانی میں دیا ۔ جن کی مدد چیف قاضی اور چیف مفتی کیا کرتے تھے۔ جبکہ ڈسٹرکٹ دیوانی عدالت کا نام بدل کر ڈسٹرکٹ، سٹی،اور ضلع کورٹس کا نام دیا گیا جو کہ ڈسٹرکٹ جج کے انڈر کام کیا کرتے تھے۔ جبکہ اس نے سول کورٹس کو بڑھا کر ان کو ہندو اور مسلم منصف کورٹس کا درجہ دیا۔۔ساتھ ساتھ رجسٹرار کورٹس ، ڈسٹرکٹ کورٹ، صدر دیوانی عدالت، اور گنگ ان کونسل کا بھی قیام عمل میں لایا۔ کروان ولز کو عام طور قانون کی بالادستی کا قیام عمل میں لانے والے شخص کے طور پر جانا جاتا ھے۔

ان اصلاحات کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے انڈیا میں مزید اصلاحاتWilliam Bentinck کے دور میں بھی کئے گئے، اور چار ڈسٹرکٹ عدالتوں کا خاتمہ کرکے ان کا کام کلکٹر کے سپرد کردیا گیا جو کمشنر آف ریونیو اور سرکٹ کے ماتحت تھے۔ اس کے علاؤہ آلہ آباد میں صدر دیوانی عدالت اور صدر نظامت عدالت کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اسی دوران انڈیا کے ماتحت عدلیہ میں فارسی کو عدالتی زبان کا درجہ دیا جبکہ سپریم کورٹ میں تمام تر عدالتی کارروائی کے لیے انگریزی زبان کو سرکاری زبان قرار دیا گیا۔

اس زمانے میں انڈین قوانین کی تدوین کرنے کے لیے کمیشن بھی مقرر کیا گیا جس نے 1859کے سول پروسیجر کوڈ کو انڈین پینل کوڈ 1860 کا نام دیا اور ساتھ ہی ساتھ کرمنل پروسیجر کوڈ 1861بھی تیار کیا۔

واضح رہے کہ برصغیر میں ان نوآبادیاتی عدالتوں کے قیام سے قبل وہاں مغل کورٹس موجود تھے اور مختلف فریقین کے درمیان کسی مسئلے پر مقدمہ بازی کی صورت میں کاسٹ کے بڑے یا گاؤں کی پنچایت فیصلے صادر کیا کرتے تھے، مغل شہنشاہیت کے دور میں مسلمان قاضی بھی فیصلے کرتے تھے اور بادشاہ سلامت کو انصاف کا سرچشمہ مانا جاتا تھا، اور بادشاہ سلامت کا فیصلہ حرف آخر ماننا جاتا تھا لیکن ایسٹ انڈیا کمپنی کے بنائے گئے مندرجہ بالا عدالتوں کے فیصلوں سے اگر کوئی فریق مقدمہ مطمین نہ ہو تو وہ صدر دیوانی عدالت میں اپیل دائر کرسکتے تھے جو سپریم کونسل کے ایک صدار اور ممبران کے زیر نگرانی کام کرتے تھے۔

لارڈ میکالے کے بقول ایسٹ انڈیا کمپنی دنیا کی بہترین کمپنی تھی مگر یہ دنیا کی واحد کمپنی تھی جس نے ہندوستان کےغریب لوگوں کو فوج میں بھرتی کیا ، اورکرایے کے ان سپاہیوں کے ذریعے اس تجارتی کمپنی نے ہندوستان پرقبضہ کیا اوراسے اپنی کالونی بنا کر دوسو سال تک اپنے زیر تسلط رکھا اورانڈیا کی تاریخ بدل کر رکھ دیا۔

10مئ1857کی ناکام جنگ آزادی ہند کے بعد ہزاروں افراد کا قتل عام کیا گیا اور مغلیہ سلطنت کے آخری بادشاہ بہادرشاہ ظفرکو رنگون کے ایک زندان میں قید کردیا گیا جہاں وہ شاعری کرتے ہوئے وفات پا گئے- وفات سے قبل انہوں نے لکھا
کہ کتنا ہے بدنصیب ظفردفن کے لئے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں۔
تاج برطانیہ نے مغلیہ سلطنت کے کورٹ کو ختم کیا اوربرصغیرمیں 1858میں برٹش انڈیا ایکٹ متعارف کروایا۔ ساتھ میں اپنی اقتدارکو مضبوط کرنے کے لیے انگریزی زبان متعارف کروایا اورایک ایسا اشرافیہ طبقہ پیدا کیا جو بنیادی طور پرمقامی تھے مگر ثقافتی اور رہن سہن کے اعتبار سے انگریز جیسے تھے۔

جنگ آزادی ہند 1857کو بے رحمی سے کچل دینے کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی کی بجائے ملکہ وکٹوریہ نے ھندوستان پر براہ راست حکومت کرنا شروع کردیا- ملکہ وکٹوریہ 1876کے بعد باقاعدہ طورپرانڈیا کی ملکہ کہلانے لگی۔ اس کے بعد قائم کی گئی برٹش راج انڈیا میں دو طرح کی علاقوں پرمشتمل تھی، انڈیا کا ایک حصہ برٹش انڈیا اوردوسرا حصّہ شاہی ریاستوں پر مشتمل تھی۔

تاج برطانیہ نے انڈیا میں سیاسی معاشی، انتظامی اور قانونی معاملات چلانے کے لئے برٹش انڈیا ایکٹ 1858 کے ذریعے حکومتی سطح پر تین طرح کی تبدیلیاں متعارف کروائی۔

1.لندن سے ایک کابینہ کے سطح کے آفیسر کو بطورسیکریٹری آف سٹیٹ فار انڈیا مقرر کیا گیا۔

2.پندرہ ممبران پر مشتمل ” کونسل برائے انڈیا” بنائی گئی، جس کا کام سیکرٹری آف سٹیٹ فارانڈیا کی مدد کرنا تھا۔

3.انڈیامیں حکومت کرنے کا اختیارایسٹ انڈیا کمپنی سے تاج برطانیہ کو منتقل ہوا جس نے انڈیا کے 2/3حصے پر براہ راست حکومت کی جبکہ بقیہ 45 فیصد رقبے پرموجود 680 شاہی ریاستوں کو اپنے زیرتسلط لاکران کے حکمرانوں کے ذریعے حکومت کرتے رہے-
ابتدا میں ایک پالیسی کے تحت برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کے معملات کو براہ راست برطانیہ کے پارلیمنٹ کے زیر نگرانی لایا گیا،پھر 1813 کے چارٹر کا اطلاق کرتے ہوئے انڈیا میں مکمل نوآبادیاتی ایڈمنسٹریشن اورکمپنی کی علحیدہ علاقائی اورتجارتی جورسڈکشن کا اطلاق کیا گیا۔ اسی دوران کمپنی نے برطانوی سفیر مقرر کئے اوردیگرمتصل کارخانوں کا قیام عمل میں لایا اورانڈیا میں برطانوی سیٹلمنٹ کی شروعات کی گئی، اورساتھ ہی ساتھ اپنی نوآبادیاتی سلطنت میں آرڈر اورقوانین میں یکسانیت کے لیے قوانین کی تدوین کرکے مرتب کیا ۔ ان تمام نوآبادیاتی قوانین کا مقصد رول آف لاء کے نفاذ سے زیادہ مقامی بغاوت کو دبانا تھا۔

1860میں برصغیر کو نئے قوانین کا مجموعہ دیا گیا اور ساتھ ہی ساتھ آنڈین پینل کوڈ متعارف کرایا گیا۔

1862میں Crpc کریمنل پروسیجر کوڈ بھی متعارف کرایا گیا مگر اس ضابط کے تحت انڈیا کے ججوں کو پابند کیا گیا کہ وہ برطانیہ اور یورپ کے شہریوں کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری نہیں کرسکتے تھے۔
برطانوی پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے قانون کے تعبیر و تشریح کے ایکٹ 1889کے سیکشن 18میں بیان کی گئی تشریح کے مطابق برٹش انڈیا میں وہ تمام علاقے /زمینیں شامل ہیں جن پر تاج برطانیہ گورنر جنرل آف انڈیا یا اس کے ماتحت کسی بھی آفسر کے ذریعے حکومت کرتی ہو یاوہ تمام شاہی ریاستیں جو وائسرائے ہند کے زیر انتظام چلائی جاتی ہیں۔
1908-1909کے دوران منٹو مارے ریفارمز کے تحت قانون ساز کونسل کے رکن بنے لیے انڈیا کے شہریوں کو اجازت دی گئی مگر اس قانون کے تحت اختیارات ان لوگوں کے ہاتھوں میں دیا گیا جنھیں تاج برطانیہ نامزد کرتا تھا۔۔
جیسا کہ 2018 کے آرڈرکے تحت گلگت بلتستان کونسل کے چھ غیرمنتخب ممبران کو وزیراعظم پاکستان منتخب کرتا ہے جو خود گلگت بلتستان کونسل کے چیئرمین ہیں، جس کے کسی بھی حکم کو گلگت بلتستان کے کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا ہے نہ ہی آرڈر 2018 یا آرڈر 2019 کو گلگت بلتستان کے چیف کورٹ یا سپریم اپیلیٹ کورٹ میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔

تاج برطانیہ نے برٹش انڈیا میں سال 1919میں ایک قانون ساز کونسل کا قیام عمل میں لایا تھا جو141ممبران پر مشتمل تھی۔ جن میں سے 26 سرکاری افسران کو نامزد کیا گیا تھا اور 13غیرسرکاری افراد نامزد تھے جبکہ 102 منتخب نمائندے شامل تھے۔ قانون ساز کونسل پانچ سال کے لیے کام کرتی تھی۔ جبکہ اسمبلی کی معیار تین سال تھی البتہ کونسل فاراسٹیٹس اور لیجسلیٹو اسمبلی دونوں کا سربراہ گورنر جنرل آف انڈیا اور وائسرائے ہند تھا جس سے ملکہ برطانیہ نامزد کرتی تھی۔ اس نوآبادیاتی قانون ساز اسمبلی کو ایوانِ زیریں کہا جاتا تھا۔ اس قانون ساز اسمبلی کے صدرکو وائسرائے منتخب کیا کرتا تھا۔

تاج برطانیہ نے برصغیر میں سال 1935 میں ایک نیا قانون متعارف کروایا جس کو عام طور پر گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 کہا جاتا ہے اس نئے قانون نے انڈیا میں حکومتی ڈھانچے کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ انڈیا میں نظام حکومت ایک یونٹ اوریونیفارم سسٹم سے بدل کروفاقی طرز کی حکومت قائم ہوئی اورساتھ ہی فیڈرل کورٹ کا قیام بھی عمل میں لایا گیا جس سے دیوانی اور فوجداری مقدمات میں اپیلیٹ جورسڈکش حاصل تھی۔
گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 کے تحت کونسل فار انڈیا کو ختم کیا اور ایک تبدیل شدہ نظام حکومت انڈیا میں نافذ کیا اور کونسل فار انڈیا کی جگہ کونسل فار سیٹیٹس کا قیام عمل میں لایا۔
58 ممبران پر مشتمل یہ کونسل ایوانِ بالا کہلاتی تھی۔جن میں سے 32 اراکین منتخب اور 26 غیرمنتخب تھے۔ تاج برطانیہ کا منتخب سیکرٹری آف سٹیٹ فار انڈیا جو لندن میں گورنمنٹ آف انڈیا کی نمائندگی کرتے تھے ان کی مدد کے لئے ایک ایڈوائزری باڈی بھی بنائی گئی جو کہ 8 سے 12 ممبران پر مشتمل تھی۔
قصہ مختصر تاج برطانیہ کا نوآبادیاتی نظام دو سو سال تک برصغیر میں رائج رہا اوربلاآخر 3 جون 1947 کے منصوبہ تقسیم ہند کے تحت برصغیر کو تقسیم کرنے کے بعد انگریز تو برصغیر سے نکل گئے مگر اپنا نوآبادیاتی نظام پیچھے چھوڑ گئے جس کا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔
برٹش انڈیا میں دو سو سالوں سے رائج مندرجہ بالا نوآبادیاتی قوانین اور نظام حکومت پر ایک سرسری نظر ڈالنے کے بعد گلگت بلتستان میں رائج قوانین اور پولیٹیکل سسٹم کا مطالعہ کیا جائے تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ گلگت بلتستان میں برٹش انڈیا کے نوآبادیاتی نظام کے اثرات اور شاخسانے آج بھی ایک نام نہاد قانون ساز اسمبلی اور کونسل کی شکل میں موجود ہیں ۔
گلگت بلتستان میں رائج نوآبادیاتی قوانین کا ذکر کرتے ہوئے سپریم کورٹ آف پاکستان کے سات ججوں پر مشتمل فل بنچ نے چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں مورخہ 17/1/2019 کو گلگت بلتستان کے لوگوں کے بنیادی انسانی حقوق اورآئینی حیثیت کے بارے میں زیرسماعت 32 مقدمات کا فیصلہ بعنوان ’سول ایویشن اتھارٹی بنام سپریم اپیلیٹ کورٹ گلگت بلتستان وغیرہ نامی کیس میں متفقہ طورکیا اوراپنے تاریخی فیصلے میں لکھا ہے کہ گلگت بلتستان پرحکومت کرنے کلیے 1947 سے ایڈمنسٹریٹو سٹرکچر اور قوانین نافذ کیے گئے جن میں مندرجہ ذیل شامل ہیں۔
1947 میں فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن (FCR) گلگت بلتستان میں نافذ کیا گیا۔ ایف سی آر تاج برطانیہ کا نوآبادیاتی قانون تھا. جو 1974 تک گلگت بلتستان میں نافذ العمل رہا۔
ایف سی آر عام طور پر کالے قانون کے نام سے مشہور ہے۔ بقیہ حصہ اگلےقسط میں۔

اشفاق احمد ایڈووکیٹ گلگت بلتستان ینگ لائیرز فورم کے ممبر اورکالمسٹ ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں