گلگت بلتستان کا آئینی مسئلہ

تحریر: خداداد علی داد
یہ بات اب واضع ہو چکی ہے کہ پاکستان کی کوئی بھی وفاقی پارٹی گلگت بلتستان کو آئینی حقوق دینے کی سکت نہیں رکھتی اور نہ ہی انڈیا، پاکستان اور اقوام متحدہ خود سے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کوئی قدم اٹھائیں گے۔ گزشتہ 70 سالوں سے یہ مسئلہ کسی حل کی طرف جاتا نظر نہیں آتا ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مذکورہ ممالک اس مسئلے کے حل میں مخلص نہیں۔ اس لیے اب یہ امر لازم ہو چکا ہے کہ گلگت بالتستان کے لوگ خود اس مسلے کو اقوام متحدہ یا بین القوامی عدالت انصاف (International Court of Justice (ICJ میں لے کر جائیں۔ گو کہ یہ کام بہت مشکل ہے لیکن ناممکن نہی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم ایک نقطہ نظر پر متفق ہوں اور ہنگامی بنیادوں پر مقامی، ملکی اور بین آلااقوامی سطح پرمشاورت کا آغاز کریں۔ اس سلسلے میں بین آلاقوامی حقوق انسانی کے ادارے مالی اور تکنیکی طور پر ضرور ہماری مدد کریں گے۔ اس کے علاوہ جو سب سے اہم چیز گلگت بلتستان کے جغرافیائی و دفاعی اہمیت اور یہاں کے لوگوں کی آ ئینی، معاشی اور انسانی حقوق کے معاملات کو بین آلاقوامی میڈیا میں مشتہر کرنے کی شدید ضرورت ہے اور یہی ہمارے مشکلات، مایوسی اور سالہاسال کی محرومیوں کا واحد حل ہے۔ ورنہ پاکستان کے حکمران طبقوں نے ہمارے مستقبل کو کشمیر کے مسئلے کے ساتھ نتھی کیا ہوا ہے۔ اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو خدشہ ہے چند سال بعد شاید ہماری پہچان ہی مٹ جائے اور آئینی حقوق اور شناخت صرف خواب بن کر رہ جائے۔ ایک مشہور چینی کہاوت ہے کہ A journey of thousand miles begins with a singal step. یعنی ہزاروں میل کا سفر ایک قدم سے شروع ہوتا ہے۔

منزل کی جستجو میں کیوں پھر رہے ہو راہی۔
اتنا عظیم بن جا، منزل تجھے پکارے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں