گلگت بلتستان اسمبلی کے سابق رکن سلطان مدد کا انتقال

 بام جہان رپورٹ

گلگت: گلگت بلتستان کے عوام دوست سیاسی شخصیت، اور سابق رکن کونسل و قانون ساز اسمبلی سلطان مدد انتقال کر گئے ہیں.

انہیں کافی عرصہ سےگردوں میں تکلیف کی شکایت تھی. دو دن پہلے طبعت زیادہ خراب ہونے کی وجہ سے انہیں گلگت میڈیکل سنٹر میں داخل کیا گیا. وہاں سے کل انہیں اسلام آباد شفاء اسپتال میں علاج کے لئے لا رہے تھے کہ آج صبح ٹیکسلا کے قریب ان کا انتقال ہوگیا.ان کی عمر تقریبا 60 سال تھی.

انھوں نے پسماندگان میں بیوی، ایک بیٹی، چار بیٹے، سینکڑوں سیاسی کارکنوں اور مداحوں کو سوگوار چھوڑا ہے.

سیاسی زندگی اور خدمات

ان کا تعلق ضلعی غذر گاہکوچ  کےعیشی نامی گاؤں سے تھا۔

انھوں نے 90 کی دہائی میں سیاست میں قدم رکھا ۔وہ غذر حلقہ نمبر 2 سے گلگت بلتستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے. سال 1990 میں وہ پاکستان مسلم لیگ (ن) میں شامل ہوئے۔اوراس کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن تھے.

وہ ایکشن کمیٹی غذر کے بھی رہنماء تھے.

گزشتہ الیکشن سے قبل انہوں نے گورنر بننے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ جس پر نون لیگ کے اندر ایک بااثر حلقہ نے مخالفت کی. اس سے دل برداشتہ ہو کر انھوں نے حکمران جماعت کو خیر باد کہا اور انسان دوست پارٹی کی بنیاد رکھی. ان کا ارادہ تھا کہ آئندہ انتخابات میں مختلف حلقوں سے اپنی نئی پارٹی کے پلیٹ فارم سے امیدوار کھڑا کریں گے.

ناظم الامین، وزیر اور نائب چیئرمین بورڈ آف انویسٹمینٹ نے سلطان مدد کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے اور ان کے پسماندگان سے دلی تّعزیت کیا ہے.

عوامی ورکرز پارٹی کے رہنماؤں عنایت ابدالی، احتشام خان، واجداللۃ بیگ، ناصر، اخون بائے، شیر افضل، رحمت جلال، اختر امین، اکرام جمال اور عنایت بیگ نے اپنے تعزیتی پیغام میں مرحوم کے سیاسی خدمات اور عوام کے بنیادی حقوق اور خطے کی آئینی و جمہوری حقوق کے لیے جدوجہد کو خراج تحسین پیش کیا ہے اور لواحقین سے دلی تّعزیت کئے.
انھوں نے کہا کہ گلگت بلتستان ایک کھرے اور عوام دوست سیاسی رہنماء سے محروم ہوگیا.

عنایت بیگ نے اپنے بیان میں لکھا ہے کہ "سلطان مدد ایک معروف اور ایماندار سیاستدان کے طور پر علاقے میں جانے جاتے تھے. غذر کے ان چند ایکشخصیات میں سے تھے جومختلیف نقطئہ نظر اورعقیدے اور لسانی و ثقافتی شناخت رکھنے والے لوگوں کے درمیان ہمیشہ ہم آہنگی اور رواداری اور خطے میں امن قائم کرنے کے لئے ہمیشہ کوشان رہے.

وہ انتہائی فراخ دل اور سیدھی بات کرنے والے انسان تھے اس لئے وہ ہمیشہ حلقہ اقتدار و اختیار کو کھٹکتے تھے. وہ مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اس مشکل دور میں کھڑے رہے جب کمیشن یا خوف سے بیشتر رہنماء اپنی پارٹی چھوڑ کر بھاگ رہے تھے.”

سیاسی اختلاف سے قطعہ نظرسلطان مدد کی ایمانداری، سادگی اور غریب دوستی کے معترف ان کے حریف بھی رہے ہیں.

سماجی کارکن اور لکھاری ممتاز گوہر نے اپنے تاثرات میں لکھا ہے کہ” غذر بالخصوص اور گلگت بلتستان بالعموم آج ایک عظیم سیاسی رہنماء سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے محروم ہو گیا۔ تعلیم بیشک کم تھی مگر سیاسی بصیرت اور مصالحتی کردار میں ان کا اپنا ایک مقام تھا۔ علاقے کا کوئی انفرادی مسئلہ ہو یا اجتماعی ہر مشکل وقت میں وہ صف اول میں ہوتے۔ ایسے لیڈر یقیناً صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔”

اپنا تبصرہ بھیجیں