گلگت بلتستان کو ڈاکٹر اعجاز ایوب سے معافی مانگنی چاہئیے

تحریر: ضیغم عباس

پچھلے چند دنوں سے ینگ ڈاکٹرز ایسو سی ایشن کے صدر ڈاکٹر اعجاز ایوب کے خلاف فرقہ واریت میں غوطہ زن چند انتہا پسند عناصر نے سوشل میڈیا پر جس قسم کی نفرت انگیز مہم چلائی جا رہی ہے اس پر میں سمجھتا ہوں کہ چند چیزوں کی وضاحت انتہائی ضروری ہو گئی ہے۔

سب سے پہلے تو اس بات کا جواب دیا جائے کہ دراصل وہ کونسی بات تھی جس پر اعجاز ایوب کے خلاف توہین تبلیغ کے فتوے، گالم گلوچ اور انتہائی پست درجے کے الزام لگائے گئے؟ ڈاکٹر اعجاز نے صرف اتنا کہا تھا کہ تبلیغ کرنے کے لئے ریاستی سرپرستی نہیں بلکہ تبلیغ کرنے والوں کو نجی طور پر یہ کام کرنا چاہئیے۔ اور جہاں بھی یہ تبلیغ کریں وہاں کے مقامی رسوم و رواج اور کلچر کا احترام کیا جانا چاہئیے۔ یہ بات ہم اب بھی ببانگ دہل کہتے ہیں اور کہتے رہیں گے کیونکہ ریاستی سرپرستی میں مذہب کی صرف ایک تشریح جو ٖضیاالحق اور اسکی باقیات نے اس ملک پر مسلط کرنے کی کوشیش کی ہے اس نے گلگت بلتستان سمیت پورے ملک کو فرقہ واریت کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ تمام لوگ جو تبلیغ کے دفاع میں اعجاز ایوب کو فتوے بانٹ رہے تھے ان کے پاس گالم گلوچ، بدتمیزی اور بدزبانی کے علاوہ کوئی ایک دلیل نہیں تھی۔ اصل تبلیغ کی توہین کے مرتکب یہ جہلاء ہیں جو مذہب کا سہارا لے کر لوگوں کی پگڑیاں اچھالتے ہیں اور دوسروں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اپنی غلاظت اور فرقہ وارانہ سوچ کو تبلیغ کے دفاع کا نام دے کر راہ فرار اختیار کریں۔

یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ سعید انور ہے کون جس پر کسی قسم کی کوئی تنقید نہ کی جاسکے۔ کیا وہ کوئی ولی اللہ ہیں جس پر تنقید کرنا توہیں کے زمرے میں آتا ہے؟ تبلیغی اکابریں نے تو تاریخی طور پر یہ درس دیا ہے کہ ہر طرح کی سہولتوں اور آسائشوں کو بالائے طاق رکھ کر اللہ کا پیغام پہنچایا جائے۔ لیکن یہ موصوف ریاستی سہولیات، جو کہ عوامی ٹیکس سے پیسوں سے ملتی ہیں انکا بے دریغ استعمال کرنے پہنچ گئے۔ کوئی پوچھے تو صحیح کہ کونسے اسلام نے اجازت دی ہے کہ عوامی سہولیات کو ذاتی آسائشوں کے لئے استعمال کیا جائے؟ اصل سوال یہ ہونا چاہئیے تھا کہ ڈی سی ہنزہ کو کس نے اختیار دیا ہے کہ سعید انور کو سرکاری پروٹوکول دے کر گھمایا جائے؟ لیکن ہمیشہ کہ طرح درست سوال اٹھانے والے اعجاز ایوب پر فتووں کی گولہ باری کی گئی۔ جس مدعے پر ایک سنجیدہ بات ہونی چاہئے تھی وہ ان شدت پسندوں کی بدولت کہیں دب گئی اور نفرت کا ایک بازار گرم کیا گیا۔

اعجاز ایوب ایک غیر جانبدار، انسان دوست اور سرگرم سیاسی کارکن ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین کارڈیالوجسٹ بھی ہیں۔ انھوں نے تو بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے معافی مانگ لی کیونکہ ہمارے اردگرد اسلام کا لبادہ اوڑھ کر دراصل جنونی پھر رہے ہیں۔۔ لیکن جن لوگوں نے فتوے بازی کی۔ گالم گلوچ اور بدتمیزی کے ساتھ صرف ایک فرد کو نہیں بلکہ ایک پورے علاقے اور کمیونٹی کے خلاف نفرت کا بازار سرگرم کیا ان سے معافی کون دلوائے گا؟ ان تمام جنونیوں کے خلاف کون کاروائی کرے گا جنھوں نے اعجاز کو علاقہ بدر کرنے اور دوسری کمیونٹی کے کاروبار کو بند کرانے کی دھمکیاں دیں؟ اگر واقعی میں کوئی کاروائی ہونی چاہئے تو وہ ان لوگوں کے خلاف ہونی چاہئے جنھوں نے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر نفرت اور شر انگیزی کا پرچار کیا۔۔
پوسٹ کے ساتھ چند تصویریں اسلئے لگائی ہیں تاکہ انتظامیہ سمیت عام لوگوں کو بھی پتہ چلے کہ کیسے تبلیغ کے دفاع کی آڑ میں دراصل نفرت اور شرانگیزی کا ایک بازار گرم گیا۔

ضیغم عباس کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے اور لاہور کے ایک کالج میں لیکچر دیتے ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں