گلگت بلتستان سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کرایا جائے گا: چیف جسٹس گلزار

بام جہاں رپورٹ

سپریم کورٹ آف پاکستان گلگت بلتستان کے آئینی مسئلےسے متعلق اپنے فیصلے پر عملدرامد کروائے گی.
یہ یقین دہانی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد نے گلگت بلتستان بار کونسل کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران کیں.
گلگت بلتستان بار کونسل کا وفد وائس چئرمین جاوید اقبال کی سربراہی میں جسٹس گلزار سے ان کے چیمبر میں منگل کے روز ملاقات کیں اور انہیں گلگت بلتستان کی عدلیہ اور وکلاء سے متعلق مسائل سے آگاہ کیا۔
وفد میں سینئر ایڈووکیٹ اسدالللہ خان سابق صدر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن، جاوید احمد ایڈووکیٹ اور لطیف شاہ ایڈووکیٹ، سابق وائس چیئرمینز بار کونسل شامل تھے.
وفد نےگلگت بلتستان کے حقوق اور آئینی حیثیت سے متعلق 17 جنوری 2019 کے فیصلے پر فوری عملدرآمد کرائے جانے کی درخواست کی۔
اس موقع پر وائس چیرمین جاوید اقبال ایڈوکیٹ نے چیف جسٹس گلزار احمد کو ان کی بطور چیف جسٹس تقرری پر گلگت بلتستان کے وکلا برادری کیطرف سے مبارک باد دی اور انہیں گلگت بلتستان کے دورے کی دعوت دی۔
اس موقع پر جسٹس گلزار احمد نے واضح کیا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کا گلگت بلتستان سے متعلق فیصلے پر ہر حال میں عملدرآمد کرایا جائے گا اور گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق کا پوری طرح تحفظ کیا جائے گا۔
جسٹس گلزار نے کہا کہ وہ گلگت بلتستان سے متعلق کیس سے پوری طرح آگاہ ہیں کیونکہ وہ خود ابتدا سے اس لارجر بینچ کا حصہ تھے جس نے اس کیس کی شنوائی کیں- مگر فیصلے کے دن وہ امریکہ کے دورے پر ہونے کی وجہ سے موجود نہ تھے –

انھوں نے کہا کہ وہ گلگت بلتستان آتے رہے ہیں ۔ انھوں نے وکلاء کی دعوت قبول کرکے جلد گلگت بلتستان کا دورہ کرنے کا وعدہ کیا۔

سئنئر ایڈوکیٹ اسدالللہ خان نے کہا کہ چیف جسٹس کو یاد دہانی کیا کہ سپریم کورٹ نے 1999 میں گلگت بلتستان کے عوام کو پاکستانی شہریوں کے برابر تمام حقوق دینے اور 2019 میں گلگت بلتستان کو سرتاج عزیز سفارشات کی روشنی میں ایک خصوصی آئینی حیثیت دیکر پاکستان کے تمام آئینی و سیاسی اداروں میں نمائندگی دینے کا تاریخ ساز فیصلہ دیا تھا مگر وفاقی حکومت مختلیف بہانوں سے ان فیصلوں پر آج تک عملدرآمد نہیں کروا رہی ہے ؛ گلگت بلتستان کی اعلی عدلیہ میں ججوں کی تعیناتی سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے تحت بذریعہ جوڈیشل کمیشن نہی ہورہی ہے۔ اس لیئے ان فیصلوں پر عملدرآمد کے لئے وکلا سپریم کورٹ میں آئے ہیں.
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر فوری عملدرآمد سے یہ ممکن ہوگا کہ گلگت بلتستان کی عدلیہ میں ججوں کی تعیناتی جلد سے جلد میرٹ پر کی جاسکے گی۔
سابق وائس چئرمین جاوید احمد ایڈووکیٹ نے چیف جسٹس صاحب کے سامنے سپریم کورٹ کے فیصلے کی راہ میں حائل مقامی سیاسی و افسر شاہی کے ڈالے جانے والی رکاوٹوں کی نشاندہی کی۔
انھوں نے سپریم کورٹ کی گلگت بلستان سے متعلق فیصلے میں جسٹس گلزار احمد کے فعال کردار پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
سابق وائس چئرمین لطیف شاہ نے گلگت بلتستان کے بنیچ اور بار سے متعلق مسائل سے چیف جسٹس آف پاکستان کو آگاہ کیا۔
یاد رہئ سپریم کورٹ آف پاکستان نے 17 جنوری 2019 کو گلگت بلستان کی آئینی مسئلہ کے حوالے سے دو درجن سے زائید درخواستوں پر فیصلہ دیتے ہوئے حکومت کو ہدائیت کیا تھا کہ وہ چھ مہنے کے اندر اندر ایک ائینی پیکیج بنا کر گلگت بلتستان میں نافذ کریں اور وہاں کے عوام کے بنیادی حقوق اور اپنے اوپر حکمرانی کو یقینی بنایئے لیکن ایک سال گزرنے کر باوجود موجودہ حکومت نے نہ تو نیا گورنینس آرڈر تیار کیا ہے اور نہ ہی سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدآمد کیا ہے.
جس کی وجہ سے وہاں کے عوام بلخصوص نوجوانوں اور سیاسی کارکنوں کی بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے. سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرامد نہ ہونے کی وجہ سے نہ وہاں کی اسمبلی کوئی قانوں سازی کر پارہی ہے اور نہ ہی جوڈیشل کمیشن تشکیل اور اس کت ذریعے اعلی عدالتوں میں اہل ججوں کو تعینات کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سےوہاں کے عوام شدید مشکلات سے دو چار ہیں اور سینکڑوں لوگ کو انصاف نہٰںمل رہا ہے جو انسانی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے. سیاسی قیدیوں کو دی گیی غیر انسانی سزاوں کے خلاف دائر کی گیی اپیل مسلسل تیں سالوں سے سرد خانے میں پڑی ہے اور ججوں کے نہ ہونے سے شنوائی نہیں ہو رہی ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں