گلگت بلتستان کے لیے عمران خان سرکار کا پیکج اورحقائق

تحریر: احسان علی ایڈووکیٹ

گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان نے اپنے دورۂ گلگت میں 370 ارب روپے کے ایک خصوصی پیکج کا اعلان کیا۔ تفصیلات کے مطابق یہ خصوصی ترقیاتی فنڈ آئندہ پانچ سالوں کے اندر خرچ ہو گا۔ اس فنڈ سے خظے میں بجلی کے شدید بحران پہ قابو پانے کیلئے 170 ارب روپے کی لاگت سے 250 میگاواٹ بجلی کے نو منصوبے شروع کرنے کا اعلان کیا گیاہے۔مواصلاے کے شعبے میں 35 ارب روپے کی لاگت سے سڑکوں کے پانچ منصوبے، سیاحت کیلئے 6 ارب روپے جبکہ صحت اور تعلیم کیلئے 17 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ پانچ ہزار نوجوانوں کو تعلیمی وظائف اور ہنر سکھانے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ نیز نوجوانوں کو پاکستان کی بہترین یونیورسٹیوں میں وظائف دینے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ گلگت، سکردو اور چلاس کے ہسپتالوں کو اپ گریڈ کرنے اور گلگت و سکردو میں میڈیکل کالج قائم کرنے کا بھی اعلان ہواہے۔ صاف پانی اور سیوریج کے منصوبوں کیلئے 8 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ اس کے علاؤہ آئی ٹی اور ٹیلی کام انفر اسٹرکچر اور 25 چھوٹے اور درمیانے صنعتں لگانے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

بظاہر تو یہ ایک بڑا پیکج لگتا ہے مگر یہاں سب سے بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مستقبل قریب میں اگر کوئی سیاسی حادثہ نہ ہوا تو بھی عمران خان کے پاس مشکل سے دو سال باقی ہیں. اور انتخابات کے بعد یہ آنے والی حکومت پہ منحصرہو گا کہ وہ اس سیاسی پیکج کو جاری رکھتی ہے یا نہیں۔ جیسا کہ اس حکومت نے پچھلے حکمومتوں کے منظور شدہ منصوبوں کو منسوخ کرکے دوبارہ اپنے نام سے اعلان کیا ہے.اگر عمران خان کی حکومت قائم رہتی بھی ہے تو بھی اس پیکج پر عمل درآمد ہونا غیر یقینی ہے. کیونکہ موجودہ حکومت کی دھوکے بازی اور قلابازیوں کے بہت سی مثالیں موجود ہیں جو عوام پر عیاں ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے یہ حکومت اپنا اعتماد مکمل طور پر کھو چکی ہے۔ ایک کروڑ نوکریوں اور پچاس لاکھ گھروں کا وعدہ کرنے والے حکومت نے اب تک چار کروڑ کے قریب روزگار چھین لیے ہیں. جبکہ لاکھوں لوگ بھوک اور بیماری کے باعث ہلاک ہوئے ہیں جن کے قتل کی ذمہ دار اسی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔

صحت

گلگت بلتستان کے لیے اس پیکج کی تیاری بھی لگتا ہے انتہائی عجلت میں کی گئی ہے۔ کیونکہ پیکج تیار کرنے والوں کو یہاں کے حقیقی مسائل کا علم ہی نہیں. یہاں کا سب سے بڑا مسئلہ صحت، تعلیم اور روزگار کے سہولتوں کا فقدان ہے۔ ناقص اور ملاوٹ شدہ خوراک اور اس سے منسلک غیر معیاری اشیاء کے استعمال اور علاج معالجے کی بنیادی سہولیات ناپید ہونے کی وجہ سے سالانہ ہزاروں لوگ پیچیدہ بیماریوں میں مبتلاہو کر اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے پرائیویٹ ہسپتالوں میں علاج کرانے پر مجبور ہیں۔ ماحولیات کی تباہی اور بڑھتی ہوئی آلودگی کی وجہ سے نئی نئی بیماریاں جنم لے رہی ہیں. مگر پاکستان کی سرمایہ دارانہ ریاست نے پچھلے سات دہائیوں میں ایک بھی معیاری ہسپتال یہاں قائم نہیں کیا۔

پچھلے دس سالوں سے میڈیکل کالج قائم کرنے کی نوید سنائی جا رہی ہے مگر ابھی تک عملی طور پر کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ ایک میڈیکل کالج ان سے بن نہیں رہا ہے اور اب دو میڈیکل کالجوں کا اعلان سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کیلئےکیا گیا ہے۔

تعلیم

جہاں تک خطے میں تعلیمی مسائل کا تعلق ہے تواس کے لیے کہنے کو تو قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی قائم کی گئی ہے مگر اس یونیورسٹی کا معیار پاکستان کی کسی غیر معیاری یونیورسٹی سے بھی زیادہ خراب ہے۔ اہم شعبے ہی موجود نہیں، یونیورسٹی میں اعلیٰ درسگاہ والا ماحول ہی نہیں، KIU کے اندر سیکورٹی اسٹاف کی شکل میں ایک فوج رکھی گئی ہے جو پوری یونیورسٹی میں د ندناتے پھرتے ہیں. یہ یونیورسٹی کم اور فوجی چھاؤنی زیادہ لگتی ہے۔ اتنی سخت سیکورٹی کے باوجود آئے روز جنسی ہراسانی، تعمیراتی منصوبوں، امتحانی نظام اور ٹرانسپورٹ سسٹم میں بدعنوانی، کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔ آئے روز داخلہ، امتحانی اور سمیسٹر کی فیسوں میں بے تحاشہ اضافہ کیئےجا رہے ہیں۔ ابھی کل ہی سینکڑوں طلباء و طالبات نے ٹرانسپورٹ کی فیسوں میں اچانک اضافے کے خلاف سخت احتجاج کیا۔

بلتستان یونیورسٹی کی صورت حال اس سے بھی بدتر ہے۔ پچھلے دو سالوں سے بلتستان کے طلباء وئس چانسلر سمیت یونیورسٹی کے دیگر نااہل انتظامی افسران کی اقرباء پروری اور بد عنوانیوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، مگر صدر پاکستان دونوں یونیورسٹیوں کے چانسلر ہونے کے باوجود کوئی اقدام نہیں کر رہاکیونکہ صدر صاحب کو سیر سپاٹے سے فرصت ہی نہیں ملتی۔

حکمرانوں کے قول و فعل میں کھلا تضاد دیکھیں کہ ایک طرف قراقرم یونیورسٹی اور بلتستان یونیورسٹی میں آئے روز فیسوں میں ہونے والے اضافے کے خلاف یہاں کے طلبہ سراپا احتجاج ہیں، بہت سے غریب گھرانوں کے طلباء نے بھاری فیسوں کی وجہ سے تعلیم ہی ادھوری چھوڑ دی ہے اور دوسری طرف نئے پیکج کے تحت پاکستان کی یونیورسٹیوں میں وظائف دینے کا اعلان کرکے یہاں کے طلباء کے ساتھ ایک اور سنگین مذاق کیا جا رہا ہے۔ کالجوں اور سکولوں کا معیار انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔ ان کالجوں اور سکولوں میں کسی قسم کی جدید سہولتیں میسر نہیں۔

روزگار

روزگار دینے کیلئے نوجوانوں کو ہنر سکھانے کے مراکز بنانے کا اعلان کیا گیا ہے مگر جو اس وقت ڈھائی لاکھ سے زیادہ نوجوان لڑکے لڑکیاں اور محنت کش بے روزگاری کی چکی میں پس رہے ہیں ان کے بارے میں کوئی منصوبہ بندی اس نام نہاد پیکج میں نظر نہیں آتا۔ روزگار کیلئے 25 چھوٹے اور درمیانے درجے کے صنعتی یونٹس لگانے کی بات کی گئی ہے مگر یہ واضح نہیں کہ یہ سرکاری شعبے میں لگیں گے یا پرائیویٹ سیکٹر میں لگیں گے اور یہ کس نوعیت کی صنعتیں ہوں گے؟

بجلی اور گیس کی عدم موجودگی میں یہاں یہ صنعتں کیسے قائم ہوں گے؟ یہ بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے جو کہ اس پیکج کا کھوکھلا پن ظاہر کرتا ہے۔ عمران خان کی سرکار نے ملک سے بے روزگاری کے خاتمے کیلئے نوجوانوں کو کم شرح سود پہ آسان قرضے دینے کا اعلان کیا تھا مگر پاکستان کے دوسرے علاقوں کی طرح گلگت- بلتستان کے بے روزگاروں کو یہ قرضے نہیں دیے جا رہے ہیں. بلکہ بے روزگاری کے نام پہ بڑے کاروباری، بڑے دکاندار اور سرمایہ دار ہی اس سہولت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اس طرح دیگر اعلانات کی طرح حکومت کا یہ اعلان بھی دھوکہ ثابت ہواہے۔

بجلی

بجلی کے سنگین بحران پہ قابو پانے کیلئے 140 ارب کے نو ہائیڈل اور کلین انرجی کے منصوبے لگانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اب تک جی بی میں بجلی کے شدید بحران کی بنیادی وجہ یہاں کی مختلف وادیوں کے نالوں میں چھوٹے چھوٹے بجلی گھر بنائے گئے ہیں جن پہ اب تک اربوں نہیں کھربوں روپے لگائے گئے ہیں جو کہ صرف گرمیوں کے چار پانچ مہینے چلتے ہیں باقی سات آٹھ مہینے نالوں میں پانی کم یا خشک ہونے کی وجہ سے یہ چھوٹے بجلی گھربند رہتے ہیں۔ نئے پیکج میں بھی نالوں پہ نو نئے بجلی کے منصوبے تعمیر کرنے کا ذکرہے جن کا حشر بھی سابقہ منصوبوں جیسا ہو گا۔ اگر حکمرانوں کا مقصد واقعی میں بجلی کا بحران حل کرنا ہوتا تو وہ فنڈ لگاتے جس سے 7500 میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی۔ گلگت-بلتستان کی تمام ضروریات زیادہ سے زیادہ 500 میگاواٹ ہے باقی 7000 میگاواٹ سستی بجلی سے خود پاکستان کے محنت کش عوام کو بڑا ریلیف مل سکتا ہے. مگر عالمی سرمائے اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے غریب دشمن ایجنڈے پہ پالیسیاں بنانے والے حکمران پاکستان کے غریب عوام کو کوئی ریلیف دینے کیلئے ہرگز تیار نہیں۔ وہ مہنگی بجلی، مہنگا تیل، مہنگی گیس، مہنگا آٹا اور مہنگی چینی کے ذریعے محنت کش عوام کے جسموں سےخون کا آخری قطرہ بھی نچوڑنا چاہتے ہیں۔

ایسا لگ رہا ہے کہ گلگت-بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کے نتیجے میں یہاں بھی انتخابات پورے ملک کے ساتھ دو سال بعد یا اس سے بھی پہلے منعقد ہونے جا رہے ہیں اور عمران خان نے آنے والے الیکشن کی منصوبہ بندی کے طور پہ اس پیکج کا اعلان کیاہے تاکہ آنے والے الیکشن میں پی ٹی آئی کو سیاسی فائدہ پہنچا سکے۔

اس پیکج سے حسب روایت ٹھیکوں کی بندر بھانٹ کی شکل میں وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان، دیگر اعلیٰ افسران اور جی بی کے وزراء کو ان میگا پراجیکٹس میں میگا کرپشن کے مواقع ملیں گے۔ اس کا ثبوت وزارت امور کشمیر و گلگت-بلتستان کی جانب سے حال ہی میں ایک نوٹیفیکشن کے ذریعے ان منصوبوں کے ٹھیکے کی منظوری کا اختیار مقامی صوبائی حکومت سے واپس لینا ہے. باقی رقومات بڑے ٹھیکیدار ہضم کریں گے اور یہاں کے محنت کش عوام کے حصے میں کچھ بھی نہیں آئے گا۔ یہی کچھ تو پچھلی سات دہائیوں سے پاکستان سمیت جی بی میں بھی ہو رہا ہے۔

جس نظام حکومت میں حکومتی وزراء، مشیران، ممبران اسمبلی، سویلین و فوجی افسران ہر وقت احتساب اور ان کی تبدیلی کے لئے محنت کش عوام کے سامنے جوابدہ نہیں ہوں گے، وہاں کرپشن، لوٹ مار اور بدعنوانیوں کا راج ہو گا۔ ترقیاتی فنڈ افسران اور وزراء کے بینک بیلنس بڑھانے کا ذریعہ بنیں گے اور محنت کش عوام کے حصے میں سوائے غربت، بے روزگاری، مہنگائی اور دیگر مسائل کے کچھ نہیں آئے گا۔ اس لیے اس سرمایہ دارانہ نظام میں عوام کے کسی بنیادی مسئلے کا حل موجود نہیں۔

عمران خان اگر واقعی گلگت-بلتستان کے عوام کے ہمدرد ہوتے تو ان نام نہاد پیکیج کی بجائے یہاں غربت اور پسماندگی کو پیش نظر رکھ کر تعلیم اور علاج معالجہ مفت کرنے کا اعلان کرتے۔ قراقرم یونیورسٹی اور بلتستان یونیورسٹی میں تمام ضروری شعبہ جات کے آغاز اور تعلیم کو مفت کرنے کا اعلان کرتے۔ طلباء یونینوں کے انتخابات کرواکر تعلیمی اداروں کے اندرونی معاملات میں طلباء نمائندوں کو شامل ہونے کا حق دیتے۔ یہں ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل اسٹاف کے ٹریننگ کالج قائم کرتا اور موجودہ ہسپتالوں کو اپ گریڈ کرکے ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی شدید کمی کو پورا کیا جاتا۔ نقلی، مضر صحت اور غیر معیاری ادویات کے کاروبار کو یکسر بند کرواتا۔

اسی طرح بجلی کے شدید بحران کے حل کیلئے ہنگامی بنیادوں پہ دریاؤں پہ چھوٹے چھوٹے آبی ذخائر تعمیر کرکے ماہرین کی مستند رپورٹوں کے مطابق دریاؤں سے ایک لاکھ میگاواٹ سے زائد بجلی پیدا کرکے جی بی سمیت پورے ملک کے محنت کش عوام کوفراہم کی جاتی اور انہیں دنیا کی مہنگی ترین بجلی کے بوجھ سے آزاد کرایا جاتا۔ جس کے نتیجے میں پورے ملک کے ساتھ جی بی میں بھی روزگار کے وسیع مواقع پیداہوتے.

مگر سابقہ حکومتوں کی طرح تحریک انصاف سرکار بھی صرف بڑے سرمایہ داروں، اشرافیہ اور عالمی سرمائے کی بالادستی کی بنیاد پہ بننے والی عوام دشمن پالیسیوں پہ چل رہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس سرمایہ دارانہ نظام کے تحت جو بھی پارٹی سرکار بنائے گی وہ بظاہر عوامی ووٹوں سے منتخب ہونے والی حکومت نظر آئے گی مگر وہ صرف سرمایہ داروں، بڑے ٹھیکیداروں،اشرافیہ اور عالمی سرمائے کے مفادات کے مطابق چلنے کی پابند ہو گی۔ ان عوام دشمن حکمرانوں سے نجات صرف سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔

احسان علی گلگت بلتستان کے سینئر وکیل اور سوشلست سیاسی رہنماٰ ہیں. وہ سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے سابق صدر اور بار کونسل کے وائس چئیرمین رہ چکے ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں