گلگت بلتستان کے نوجوان ڈاکٹروں کا 6 ستمبرسےاحتجاجی مہم شروع کرنے کا اعلان

26 اگست کومحکمہ صحت کے اعلی افسران کے رویے کے خلاف یوم سیاہ منایا گیا، پانچ نکاتی مطالبات کی منظوری کے لئے حکومت کو10 دن کا الٹی میٹم

رپورٹ: عنائیت ابدالی

گلگت: نوجوان ڈاکٹروں کی انجمن (Young Doctors Association (YDA نے کنٹریکٹ ڈاکٹروں کو مستقل نہ کرنے اوردیگرمسائل کے حل میں تاخیری حربہ استعمال کرنے پرشدید غم وغصےکا اظہارکیا ہے اورخبردارکیا کہ اگران کے مطالبات 6 ستمبر تک پورا نہیں کیا گیا تو وہ احتجاجی مہم شروع کریں گے.
ان خیالات کا اظہار وائی -ڈی-اے اور پاکستان میڈکل ایسوسی ایشن کے نمائیندوں نے پیرکے روز ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کیے.
وائی – ڈی- اے اور پی ایم اے کے ممبران نے کہا کہ کنٹریکٹ ڈاکٹرز ریگولرائزیشن ایکٹ 2018 پرعملدرآمد عرصہ ڈیڑھ سال سے التوا کا شکار ہے جس کی وجہ سے نوجوان ڈاکٹرز میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ مارچ میں نوٹیفکیشن کے بعد یہ امید پیدا ہو گئی تھی کہ بہت جلد تقرری کے احکامات جاری کئے جائیں گے مگر پانچ مہینے گزرنے کے بعد بھی فائل بیوروکریسی کے بیچ فٹ بال بنا دی گئی ہے جو ہر ڈیڑھ مہینے بعد مختلیف محکموں کے سیکریٹریز ایک دوسرے کی طرف اچھالتے رہتے ہیں۔
وائی-ڈی-اے گلگت بلتستان کے صدرڈاکٹرمحبوب الحق اورجنرل سیکریٹری ڈاکٹرابراہم روزی نے پریس کانفرنس میں اپنے پانچ نکاتی چارٹرآف ڈیمانڈ پیش کرتے ہوے کہا کہ اس کا مقصد ڈاکٹروں اور مریضوں کے مسائل حکومت گلگت بلتستان کے گوش گزارکرنا اوراپنے حقوق کے لئے جدوجہد کےعزم کا ایعادہ کرنا ہے.
انھوں نے کہا کہ حالیہ چند مہینوں میں مریضوں کے لواحقین اورڈاکٹروں کے مابین جھگڑوں اورتشدد کے واقعات میں اضافہ پربھی شدید تشویش کا اظہار کیا اوران کی وجوہات گنوائیے جن میں مناسب سیکیورٹی کے فقدان ، افرادی قوت کی کمی، سپیشلسٹ ڈاکٹروں کا ایوننگ اورنائٹ شفٹ میں فوری مسیرنہ ہونا ، داخل مریضوں کی مانٹرینگ کیلئے وارڈ میں ڈاکٹرز کا نہ ہونا ، اور 2 بجے کے بعد پورا ہسپتال بمع نئی آنے والے ایمرجنسیز کے لیئے صرف ایک میڈیکل آفیسر کے ذمے لگا کے چھوڑ دینا شامل ہے۔
وائی ڈی اےنے اپنے مطالبہ کو دہرایا کہ شام اوررات کی شفٹ میں کم ازکم میڈیکل ، سرجیکل،زچہ و بچہ کے سپیشلسٹ کی ہسپتال کے اندرموجوگی کو یقینی بنایا جائے اورکنسلٹنٹ کو گاڑیاں بھیج کے بلانے والا نظام ختم کیا جائے۔ انھوں نے یہ بھی مظالبہ کیا کہ ہروارڈ میں تین شفٹوں میں میڈیکل آفیسرز کو تعینات کیا جائے تاکہ مریضوں کی بہترمانیٹرنگ ہوسکے اورایمرجنسی میں موجود ڈاکٹرز یکسوئی سے مریضوں کی دیکھ بھال کرسکیں-
ماہر ڈاکٹروں کی کمی کی وجوہات بیان کرتے ہوے انھوں نے کہا کہ سپیشلسٹ ڈاکٹرز کم تنخواہوں کی وجہ سے نہیں آتے۔ انھوں نے مظالبہ کیا کی گلگت بلتستان کے ڈاکٹروں کی تنخواہیں ملک کے دوسرے صوبوں کے ڈاکٹروں کے برابرکیا جاٸے-
وائی-ڈی-اے کے نمائیندوں نے کہا کہ وزیراعلی انسنٹیوزجو بجٹ سے پہلے اعلان کیا گیا تھا پرتین ماہ گزرنے کے باوجودعمل درامد نہں ہوا لہذا اس پرفلفورعملدرآمد کیا جائے.
ٹریننگ، ڈیوٹیشن اورEOL کے بارے میں مجوزہ پالیسیاں آٹھ مہینے سے التواء کے شکار ہیں۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ وائی- ڈی -اے کواعتماد میں لیتے ہوئے ان دونوں پالیسوں کو فی الفور حتمی شکل دی جائے۔ انھوں نے مزید کہا کہ متعدد باریاد دہانی کرانےکے باوجود حکومت گلگت بلتستان ڈاکٹروں کو ٹریننگ کی نشستیں دلانے میں ناکام رہی ہے۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ اس کا فی الفورمستقل اورجامع حل نکالا جائے۔
نوجوان ڈاکٹروں کے نمائیندوں نے سیکریٹری ہیلتھ کے حالیہ غیرذمہ درانہ بیان پرشدید تحفظات کا اظہار کیا اورمطالبہ کیا کہ اس کو واپس لیں یا پھراس بات کی وضاحت کریں کہ اگرانہیں عوام کی صحت سے متعلق مشکلات یا ہسپتالوں کے بند ہونے سے فرق نہیں پڑتا تو ان پرکیوں کرصحت جیسے حساس شعبے کے معاملات کو چلانے کے لئیے اعتماد کیا جائے؟
وائی-ڈی-اے کے صدرڈاکٹرمحبوب الحق نے کہا کہ ان کی انجمن اور پی-ایم-اے گزشتہ چارسالوں سے ان دیرینہ مسائل اورمطالبابت کے حق میں جدوجہد کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ تاخیری حربوں سے جہاں ہسپتالوں کا نظام خراب ہو رہا ہے وہاں نوجوان ڈاکٹروں کا مستقبل بھی دائو پرلگا ہوا ہے اوران میں مایوسی پھیلتی جا رہی ہے.
مزید براں ذمہ دارعہدوں پر بیٹھے ارباب اختیار کا ہتک آمیزرویہ، غیرذمہ دارانہ بیانات ڈاکٹروں کے غم وغصے کو مزید ہوا دے رہا ہے ۔
انھوں نےخبردار کیا کہ "اگر ان 5 مطالبات پر10 دن کے اندراندرعملدرآمد نہ کیا گیا تو 6 ستمبرسے پورے گلگت بلتستان میں بھرپوراحتجاج کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔ جو کہ ابتدائی طور پر او-پی-ڈی میں ہڑتال سے شروع ہوگی”۔
انھوں نےچلاس میں سپیشلسٹ ڈاکٹروں کے ہڑتال کی مکمل حمایت کرتے ہوئے حکومت سے ان مطالبات کو فوراً تسلیم کرنے پر زور دیا. ان رہنما وں نے چیلاس کے ڈاکٹروں کو یقین دلایا کہ واٸی- ڈی- اے اورپی-ایم-اے ان کے مطالبات کے منظور ہونے تک ان کے ساتھ کھڑی رہےگی۔۔
وائی-ڈی-اے اور پی- ایم-اے ان تمام عوامل کے پس منظرمیں اوربالخصوص سیکریٹری صحت کے غیرسنجیدہ بیان کے تناظرمیں 26 اگست کو یوم سیاہ کے طور پرمنایا جو ہرسال اس بات کی یاد دلائے گا کہ سرکاری ہسپتال پراشرافیہ کی توجہ اس لئے نہیں ہے کیونکہ ان ہسپتالوں میں غریبوں اورمحنت کشوں کا علاج ہوتا ہے۔
دریں اثنا واٸی- ڈی-اے کےمرکزی اورضلعی کابینہ کے عہدہ داروں نے اپنے حالیہ اجلاس میں گلگت بلتستان کے ہسپتالوں کی صورتحال، مریضوں اورڈاکٹروں کو درپيش مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا اورمتعلقہ محکموں کے رویئے، کنٹریکٹ ڈاکٹروں کی ریگولراٸزیشن میں بے جا تاخیرپرغم وغصہ کا اظہار کیا گیا۔
وائی- ڈی-اے کے ایک ذمہ دار نے بام دنیاء اورہائی ایشیاء ہرالڈ کو اجلاس کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا، "کہ ریگولزیشن بل 10 ماہ پہلے اسمبلی سے پاس ہوا تھا مگرمتعلقہ محکموں نے ابھی تک اس کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کئے ہیں اسلئے بے جا تاخیرسے ڈاکٹروں میں تشویش پائی جاتی ہے”.
انھوں نے مزید کہا کہ اجلاس میں ڈاکٹروں نے سپیشلایزیشن کے لیے ٹریننگ وڈیپوٹیشن کے حوالے سے حکومت کےغیرسنجیدہ رویے پر تشویش کا اظہار کیا- گلگت بلتستان میں ٹیچنگ ہسپتال کا وجود نہیں اورپاکستان کے دوسرے صوبوں میں چند سیٹوں کا کوٹہ مختص ہے جس کے بعد گلگت بلتستان کے ڈاکٹروں کے لیے سپیشلایزیشن کی ٹریننگ کے دروازے بند ہو گٸیے ہیں۔ گلگت بلتستان کی حکومت دوسرے صوبوں میں ٹریننگ کے کوٹہ میں اضافہ کرانے میں ناکام ہوٸی ہے اورمستقل ڈاکٹروں کے لیےچھ ماہ پہلے بناٸی گٸی پالیسی کی منظوری بھی تاحال نہ ہوسکی۔
انھوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے ہسپتالوں میں مریضوں کے لیے ایمرجنسی ادویات کی مفت فراہمی،ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی کمی اوردیگرمسائل زیربحث آٸے.
اجلاس میں اس عزم کا اعادہ بھی کیا گیا کہ واٸی- ڈی-اے گلگت بلتستان کے ڈاکٹروں اورمریضوں کے حقوق کے لئے آواز بلند کرتی رہے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں