گلگت بلتستان کے کوہساروں میں بھی ‘سرفروشی کی تمنا’ کی گونج سنائی دینے لگی

اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کی کال پر 29نومبر کو ملک گیر مظاہرے ہونگے، عوامی ورکرز پارٹی، ویمن ڈیموکریٹک فرنٹ سمیت محنت کشوں کی تنظیموں کا بھی شرکت کا اعلان

تحریر: فرمان علی

فیض امن میلہ سے اٹھنے والی انقلابی نعرہ ‘سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے’ کی گونج نہ صرف پورے پاکستان میں سنائی دے رہی ہے بلکہ گلگت بلتستان میں بھی سنائی دینے لگی ہے. شاعر بسمل عزیز آبادی جو بھگت سنگھ کے ساتھیوں میں سے تھے، کایہ لازوال انقلابی نظم آج بھی بر صغیر کے لاکھوں نوجوان انقلابیوں کے خون کو گرماتی ہے اور فیض صاحب کے نظم "ہم دیکھیں گے” کی طرح ہر انقلابی کا ظلم و جبر اور نا انصافی اور سامراج کے خلاف جدوجہد اور مزاحمت کا ترانہ اور علامت بن چکی ہے.
جیسے جیسے طلباء مارچ کا دن قریب آتا جا رہا ہے ان نعروں میں شدت آتی جا رہی ہے اور اس کے نتیجے میں لوگوں میں اپنے حقوق کےحوالے سے آگہی اور جدوجہد کی ضرورت کا شعور بیدا ر ہوتاجا رہا ہے.

گلگت بلتستان میں سرفروشی کی تمنا کی گونج

طلباء یکجہتی مارچ کے سلسلے میں گزشتہ دنوں اسکردو اور گلگت میں مختلیف ترقی پسند اور قوم پرست طلباء تنظیں متحرک ہوئی ہیں. اس سلسلے میں اسکردو میں آل بلتستان موومنٹ اور بلتستان اسٹو ڈینٹس فیڈریشن نے طلباء یکجہتی مارچ کی حمایت اور اس میں شرکت کا اعلان کیا.
گلگت میں مختلیف ترقی پسند اور قوم پرست طلباء تنظیوں کے نمائندوں کا ایک اجلاس ہوا جس میں نہ صرف مارچ کی حمایت بلکہ اس میں بھر پور شرکت کا بھی اعلان کیا گیا. میٹنگ میں ڈیموکریٹک اسٹوڈینٹس فیڈریشن، نینشنل اسٹوڈینٹس فیڈریشن گلگت بلتستان، بالاورستان نیشنل اسٹوڈینٹس فرنٹ و دیگر طلباء تنظیموں کے نمائندوں نے طلباء حقوق کے لئے مشترکہ جدوجہد اور پروگرام پر غور کیا گیا.
نیشنل اسٹوڈینٹس فیڈریشن گلگگت بلتستان نے ایک اعلامیہ میں کہا کے کہ دنیا بھر میں اعلی تعلیمی اداروں میں طلباء یونینوں کو بہت اہمیت دی جاتی ہے. پاکستان میں نصف صدی کے بعد طلباء یونینوں کی بحالی کے لئے آواز بلند کی جا رہی ہے. گلگت بلتستان کے تعلیمی اداروں میں بھی طلباء اپنے حقوق کے لیے منظم ہو رہے ہیں اور آواز بلند کر رہے ہیں-

گلگت بلتستان کے ترقی پسند اور قوم پرست طلابء تنظیموں کے نمائیندوں کا اجلاس۔

. اس سلسلے میں این-ایس -ایف گلگت بلتستان نے اعلان کیا ہے کہ وہ ملک بھر کے ترقی پسند طلباء تنظیموں کے شانہ بشانہ اس تحریک کا بھر پور ساتھ دے گی اور 29 نومبر کو گلگت پریس کلب کے سامنے دیگر طلباء تنظیموں کے ساتھ مل کر مظاہرہ کرے گی.این ایس ایف نے تمام طلباء و طالبات اور اساتذہ اور باشعور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مارچ میں بھر پور شرکت کریں.
این – ایس – ایف گلگت بلتستان نے قراقرم یونیورسٹی میں جاری طلباء کے احتجاج کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ طلباء کے مطالبات جن میں مفت ٹرانسپورٹ اور ہاسٹیل کی فراہمی شامل ہے’ کو منظور کیا جائے؛ گلگت بلتستان کے تعلیمی اداروں میں حلف نامہ کا خاتمہ، یونین سازی اور پر امن سیاسی سرگرمیوں پر پابندی کا خاتمہ کیا، تعلیمی اداروں میں مذہب، فرقہ، رنگ، نسل اور صنف کی بنیاد پر تعصب، امتیازی سلوک اور ہراسانی کے واقعات کا خاتمہ کیا جا ئے ؛ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ تعلیمی اداروں میں جنسی حراسانی کے خلاف کمیٹیاں بنایا جایے اور اس میں طلباء اور طالبات کی نمائیندگی کو یقینی بنایا جایے؛ بلتستان یونیورسٹی کے مسئلے پر بلتستان اسٹوڈینٹس فیڈریشن اور آل بلتستان موومینٹ کے تمام مطالبات پر عملدرآمد کیا جاہے؛ پاکستان کے تمام جامعات میں گلگت بلتستان کے طلباء کے لئے مختص نشستوں میں اضافہ کیا جائے؛ گلگت بلتستان کے طلباء کے لئے پی-ایچ ڈی، ایم فل اور ماسٹرز سطح پر فیسوں کی معافی کے 2011 کے فیصلے کو بحال کا جائے اور گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں ٹیکنکل اور ووکیشنل تعلیمی ادارے قائم کیا جائے.
انھوں نے طبقاتی نظام تعلیم کے خاتمے اور تعلیمی نصاب سے فرسودہ اور نفرت انگیز مواد کو نکال کر اسے جدید سائینسی خطوط پر استوار کرنے کا بھی مطالبہ کیا؛ گلگت بلتستان کے طلباء رہنماوں بشمول ذوالفیقارعلی، عنایت، نوید احمد، اور دیگر نے موجودہ حکومت کے عالمی سامراجی اداروں کے ایما پر تعلیم کے بجٹ میں کٹوتی اور فیسوں میں اضافہ کے فیصلے کو بھی واپس لینے؛ تعلیمی اداروں میں طلباء یونینوں کو بحال کر کے ان کے انتخابات کروانے کا بھی مطالبہ کیا-

عوامی ورکرز پارٹی گلگت بلتستان کے ایک سرگرم کارکن نوید احمد نے اپنے سوشل میڈیا پیج پر لوگوں سے اپیل کیا ہے کہ وہ اس مارچ میں اپنا حصہ ڈالیں- ان کا کہنا ہے: "سماج کےلیے لڑو؛ لڑ نہيں سکتے تو لکھو؛ لکھ نہيں سکتے تو بولو؛ بول نہیں سکتے تو ساتھ دو؛ ساتھ بھی نہیں دے سکتے تو جو لکھ، بول اور لڑ رہےہیں ان کی مدد کرو؛ اگر مدد بھی نہں کرسکتے ہو تو ان کے حوصلوں کو گرنے نہ دو کیوں کہ وہ آپ کے حصے کی لڑائی لڑ رہےہیں”

سیاسی اور محنت کشوں کی تنظیموں کا اظہار یک جہتی

پاکستان میں بایاں بازو کی سب سے بڑی جماعت عوامی ورکرز پارٹی نے بھی 29 نومبر کو پاکستان بھر کے شہروں میں ہونے والے طلباء مارچ کے ساتھ اپنی مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
عوا می ورکرز پارٹی کے مرکزی صدر یوسف مستی خان اور ڈپٹی جنرل سیکریٹری عصمت شاہجہان نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ریاست نے تعلیم جیسے بنیادی شعبے کو مجرمانہ طور پر نظرانداز اور اسے نجی شعبے کے حوالہ کیاہے جس کے نتیجے میں تعلیم کاحصول آبادی کی اکثریت کے لئے ناممکن اور ان کے قوت برداشت سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔
ان کے خیال میں "اس فرسودہ نظام میں جہاں ایک طرف تنقیدی سوچ اور تخلیقی صلاحیتوں کو روکنے اور دائیں بازو کی تنگ نظری کے حامل نظریے کو فروغ دیا جا رہا ہے تو دوسری جانب ان تمام طلباء اور اساتذہ پر بھی دباؤ ڈالا جا رہا ہے جو اس فرسودہ زوال پذیر نظام اور اس کے اندر موجود بدعنوانی کے خلاف مزاحمت کرنے کی جرات کرتے ہیں”۔
ان رہنماوں کے مطابق طلباء یونینوں پر 35 سالوں سے جاری پابندی کے نتیجے میں یونیورسٹیوں اور حکام نے طلباء کا استحصال اور ان کے ساتھ آئے دن تشدد اور ناروا سلوک کو مکلمل چھوٹ دے رکھی ہےجس نے تعلیمی نظام کے اندر مزید بگاڑ پیدا کیاہے؛جس کے نتیجے میں سیاست پر جاگیرداروں ، سرمایہ داروں اور فوجی اشرافیہ کے ایک چھوٹے طبقے کی اجارہ داری قائم ہو گئی ہے اور نوجوانوں، درمیانی طبقہ اور محنت کش طبقوں کی سیاست میں شرکت کو روکا ہوا ہے۔

عصمت شاہجہان کا کہنا ہے کہ "ملک بھر کے یونیورسٹیوں میں سیکوریٹی کے نام پر خوف و حراس کا غیر ضروری ماحول پیدا کرنے بلخصوص سندھ اور بلوچستان کی یونیورسٹیوں میں، جہاں طلباء کے احتجاج کو روکنےکے لئے فوجی اور نیم فوجی دستے تعینات کیے گئے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بلوچستان یونیورسٹی اور دیگر یونیورسٹیوں میں حالیہ جنسی ہراسانی اور بلیک میلنگ کےاسکینڈل سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ اور سیکیورٹی فورسز طلباء خصوصا خواتین کے خلاف گھناؤنے جرائم کا ارتکاب کرنے کے لئے ان کی نگرانی کے اختیارات کو غلط استعمال کر رہے ہیں۔

عوامی ورکرز پارٹی کے نوجوان اور سرگرم رہنماٰعمار رشید نے طلبہ یونینوں پر پابندی کو ختم کرنے کے لئے فوری طور پر قانون سازی ؛ مجموعی قومی پیداوار کا 10فی صد تعلیم پر خرچ کرنے، اور تعلیمی نظام کو چلانے والے اداروں کو شہریوں اور طلباء کے سامنے جوابدہ بنانے؛ تعلیم کے اخراجات میں اضافہ، اور بجٹ مختص کرتے وقت فاٹا کے سابقہ اضلاع ، دیہی بلوچستان ، سندھ ، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان سمیت نظرانداز کیے گئے علاقوں اور صوبوں کو ترجیح دینے؛ یونیورسٹیوں میں جنسی ہراساں کرنے اور تشدد کی سیاست کے خاتمے کے لئے طلباء اور خواتین کی نمائندوں پر مشتمل بااختیار کمیٹیاں تشکیل دینے؛ یونیورسٹیوں سے نیم فوجی دستوں کو فلفور ہٹانے، اور طلباء کے اظہار رائے اور سیاسی سرگرمیوں کے حق کو مکمل تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ سیاسی اجتماع کو منظم کرنے کے الزام میں گرفتار یا اغوا کیئے جانے والے تمام طلباء اور حال ہی میں جامشورو یونیورسٹی سندھ کے طلباء کے خلاف صاف پانی کے مطالبے کے الزام میں بغاوت کے کیس کو بھی واپس کرنے کا مطالبہ کیا.جایے۔

طلباء کے مطالبات کیا ہیں؟

سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کی کال پر 29نومبر کو ملک گیر مظاہرے ہو رہے ہیں۔ لاہور، کراچی، راولپنڈی، حیدرآباد، کوئٹہ، ملتان اور دیگر شہروں کے علاوہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے شہروں مظفرآباد، راولاکوٹ، میرپور، ہجیرہ اور گلگت بلتستان کے شہروں اسکردو اور گلگت میں طلباء اپنے حقوق کیلئے مظاہروں میں شریک ہونگے۔

ان کے بنیادی مطالبات میں طلبہ یونین کی بحالی، تعلیمی فنڈز کی کٹوتیوں کا خاتمہ، تعلیم کی نجکاری اور مہنگی فیسوں کا خاتمہ؛ تعلیمی اداروں میں غنڈہ عناصر کی سرکوبی اور پر امن، صحت مند جمہوری ماحول قائم کرنا شامل ہے-

اس سلسلے میں طلباء اور مزدور تنظیوں کے نمائندوں نے لاہور پریس کلب میں طلبہ یکجہتی مارچ کے سلسلہ میں پریس کانفرنس کا انعقاد کیاگیا، جس میں محنت کش طبقہ کی مختلف تنظیموں نے بھی طلبہ یکجہتی مارچ میں شرکت کا باضابطہ اعلان کیا اور کم از کم تنخواہ پر عملدرآمد سمیت دیگرعبوری مطالبات مارچ کے ذریعے حکمرانوں کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محبہ احمد، عروج اورنگزیب، زاہد بٹ، مزمل خان، محسن ابدالی، رضا گیلانی، حیدر کلیم، ایمن بچہ، عمار علی جان، نادر گوپانگ وغیرہ نے کہا کہ لاہور میں محنت کش طبقہ نے طلبہ یکجہتی مارچ میں بھرپور شرکت کا فیصلہ کیا ہے اورمطالبہ کیا ہے کہ مزدوروں کا بنیادی مطالبہ کم از کم تنخواہ پرعملدرآمد کروانے پر ملک گیر سطح پر حکومت اور لیبر ڈیپارٹمنٹ اپنا کردار اداکرے۔ ملک کے اسی فیصد اداروں میں غیر ہنر مند مزدور کو حکومت کے طے شدہ 17،500روپے ادا نہیں کئے جا رہے ہیں اور بھٹو پر ایک ہزار اینٹ بنانے کیلئے حکومت کا تجویز کردہ ریٹ 1295روپے ادا نہیں کئے جا رہے ہیں۔ لیبر قوانین پر عملدرآمد کروانے میں حکومت کو کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ لیبر ڈیپارٹمنٹ اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام ہو چکا ہے.

ان رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ گلگت بلتستان میں قید بابا جان اور ان کے ساتھیوں کو رہا اور اوکاڑہ میں مزارعین رہنماؤں کے خلاف جھوٹے مقدمات فوری واپس لئے جائیں۔

پروگریسو اسٹوڈنٹس کلیکٹو کی سرگرم کارکن عروج اورنگزیب کے مطابق آج کل تعلیمی اداروں میں بے چینی کی ایک لہر ہے اور طلبہ تحریک سے وابستہ تنظیمیں 29 نومبر کو ملک گیر احتجاج کے لیے اکھٹی ہو رہی ہیں۔ اس احتجاج کو ’طلبہ یکجہتی مارچ‘ کا نام دیا گیا ہے۔

سرفروشی کی تمنا کرنے والی عروج اورنگزیب پنجاب یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد پروگریسو سٹوڈنٹس کلیکٹو، فیمینسٹ کلیکٹو اور حقوقِ خلق تحریک کا حصہ ہیں۔

ایک عام متوسط طبقے والے گھرانے سے اُن کا تعلق ہے۔ انہوں نے اپنی محنت کے بل بوتے پر ایک دو سکالر شپس بھی لی ہیں۔

فیض فیسٹول میں نعرے بازی سے متعلق عروج کا کہنا ہے کہ وہ اور ان کے ساتھی 29 نومبر کو ہونے والے طلبا یکجہتی مارچ میں طالب علموں کو دعوت دینے کے لیے فیض فیسٹیول میں نعرے بازی کر رہے تھے۔انہوں نے بتایا کہ ہمارا اس میں کوئی اور مقصد نہیں ہے۔ لوگوں کو اتنا ابہام ہے کہ پتا نہیں کیا مقصد ہے یا این جی او نے پیسے دیے ہوئے ہیں۔ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ اور ان کے ساتھی صرف عام سے انسان ہیں جو اپنی زندگیوں سے تنگ ہیں، خود کشیاں نہیں کرنا چاہتے بس نظام کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔‘

عروج کہتی ہیں ہم غیر طبقاتی معاشرے اور غیر طبقاتی تعلیمی نظام کا قیام چاہتے ہیں۔ سب کے لیے تعلیم ایک جیسی ہوگی تو ہی ہم ایک جیسے بن سکتے ہیں۔
طلباء مارچ کا فیصلہ 2 نومبر کو لاہور میں ایک درجن سے زائد ترقی پسند اور قوم پرست طلباء اور نوجواوں کی تنظیموں کے ایک نمائندہ اجلاس میں کیا گیا تھا اور تمام تنظیموں پر مشتمل ایک ایکشن کمیٹی تشکیل دیا گیا تھا جس میں پروگریسیو سٹوڈنٹس کولیکٹیو؛ انقلابی طلبہ محاذ؛ پروگریسیو سٹوڈنٹس فیڈریشن؛ بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن؛ آل بلستان موومنٹ؛ بلتستان سٹوڈنٹس فیڈریشن؛ جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن؛ جموں کشمیر سٹوڈنٹس لبریشن فرنٹ؛ پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن؛ پیپلز یوتھ آرگنائزیشن؛ کونیکیٹ دی ڈس کونیکٹڈ؛ پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن آزاد؛ بلوچستان سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی؛ ہزارہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن؛ پنجاب یونیورسٹی سٹوڈنٹس فیڈریشن؛ سندھ سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی؛ اور بیروزگار نوجوانوں تحریک.

اپنا تبصرہ بھیجیں