گلگت سی ایم ایچ سے FCNA کمانڈر کے نام کھلا خط

تحریر: علی احمد جان

مجھ پر اس وقت کیا گزر رہی ہے وہ الفاظ میں بیان نہیں کرسکتا.. میرے پاس بالکل الفاظ نہیں ہیں.. موبائل اسکرین پر گرتے آنسوؤں کو کیسے اور کن الفاظ میں بیان کروں؟؟؟

کمانڈر صاحب آپ کی تصاویر اور اخبارات کی شہہ سرخیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ بالکل ٹھیک اور تندرست ہیں.
میرے دادا حوالدار (ریٹائیرڈ ) سورم خان 1948ء کی جنگ کے غازی ہیں انھوں نے گلگت سکاوٹس میں اپنی زندگی کے 20 سال ایک ماہ اور سترہ دن گزار چکے ہیں. ثبوت کے طور پر تمغہ دفاع 1948ء اور ریپبلک میڈل آج بھی الماری میں سجائے رکھے ہیں.
ہر سال کی طرح اس سال بھی یکم نومبر کو 1948 جنگ کے تمام غازیوں کو آپ نے گلگت مدعو کیا تھا. سخت سردی کے باوجود میرے داد سمیت 1948 جنگ میں حصہ لینے والے افراد اپنی مدد آپ کے تحت آپ کے ایک فون کال پر گلگت پہنچ گئے تھے.
یکم نومبر کی تقریب میں آپ اور دیگر افسران اور منتظمین شاید بھول گئے تھے 48ء کی جنگ میں حصہ لینے والے افراد کی عمریں سو سال سے زائد ہیں اور ان کی ہڈیاں سرد موسم کی سختیوں کو برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتے. ورنہ ان کے لیے ایسی کرسیوں کا بندوبست کیا جاتا جن پر آپ کے اعلی افسران براجمان ہوتے ہیں.
اس تقریب میں شرکت کرنے کےلیے میرے دادا بھی 5 گھنٹے کا طویل سفر طے کر کے یاسین تھوئی سے گلگت شہر آگئے تھے اور سخت موسم کی وجہ سے علیل ہوگئے.
ہمیں بتایا گیا تھا کہ آپ کی خصوصی احکامات پر 1947ء اور 1948ء کے غازیوں کو CMH میں مفت علاج کیا جاتا ہے اور تمام سہولیات مہیا کئے جاتے ہیں. آپ کی ان ہدایات کو فریم بنا کر CMH کی دیوار پر بھی آویزاں کیا گیا ہے. ابتدا میں اس فریم کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی اور میرے گھر والوں نے بھی آپ کو دعائیں دی.
دادا جان کی صحت بہتر نہیں ہوئی تو ہم نے آپ کے نمائندوں سے گزارش کی کہ ہمیں ایمبولینس فراہم کیا جائے تاکہ داد کو ہسپتال پہنچا سکیں. جسے رد کیا گیا اور بتایا گیا کہ ہسپتال پہنچنے کے بعد "بہترین” علاج کیا جائے گا اور بزرگ کا خصوصی خیال رکھا جائے گا.
ہسپتال میں کچھ دیر انھیں ایمرجنسی میں رکھا گیا اور پھر ایک ہال میں منتقل کیا گیا. ہال پہنچنے پر وہاں ڈیوٹی پر معمور سپاہی نے ہمیں ائیر فریشنر لانے کا حکم دیا. بارش ہورہی تھی اور موسم سخت سرد تھا. کمرے میں ہِیٹنگ کا بھی کوئی بندوبست نہیں تھا. یہ تو اچھا ہوا کہ ہم اپنے ساتھ گھر سے دو عدد کمبل اور تکیہ لے کر آئے تھے. اس کے باوجود وارڈ میں پہنچتے ہی دادا پر کپکپی طاری ہوگئی.
ڈیوٹی پر معمور فوجی نرسوں کا رویہ اور لہجہ بیماروں اور تیماداروں سے ایسا تھا جیسے فوجی آفیسر اپنے ماتحت جوانوں کے ساتھ روا رکھتے ہیں.
واش روم میں بلب نہیں تھا اور فلش بالکل خراب اور ٹوائلٹ استعمال کے بعد پانی بھی نہیں ڈالا گیا تھا.
ہم نے ڈیوٹی پر موجود اسٹاف کی توجہ اس طرف دلانے کی کوشش کی اور صاف کرانے کی گزارش کی تو اس کا الزام بھی ہم پر عائد کرنے لگے.
ہاتھ دھونے والا سینک میں پانی بھرا ہوا تھا جہاں رنگ برنگے بلغم تیر رہے تھے.
وارڈ کے اندر ایک اٹینڈینٹ کو بھی بیٹھنے کی اجازت نہیں تھی. ہم نے سوال پوچھا کہ ہمیں وارڈ میں بیٹھنے نہیں دیا جارہا, کیا وارڈ میں بزرگ مریض کو واش روم لے جانے, دوا کھلانے کے لیے کوئی اسٹاف موجود ہے تو جواب نفی میں تھا.

جبکہ اسی عمارت کے اندر موجود آفیسرز وارڈ اس سے مختلف تھا.
ہم نے ایک مرتبہ پھر 1947 اور 1948 کے غازیوں کو دی جانے والی سہولیات کا ذکر کیا تو ہم اس وارڈ انتظامیہ کے بلیک لیسٹ میں شامل ہوگئے اور ہم سے سیدھے منہ بات بھی کرنا چھوڑ دیا.
خیر رات کو آدھی ڈریپ چھوڑ کر ہمیں ایک نجی ہسپتال منتقل ہونا پڑا.
اس پوری کہانی کو بیان کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ ان بزرگوں کو اگر سہولیات نہیں دے سکتے ہیں تو خدارا خدارا ان کی صحت اور جذبات کے ساتھ کھیلنا بند کیجئے.
میرے دادا, 1948ء اور 1970ء کی جنگیں لڑنے والے سپاہی اس وقت آغاخان ہیلتھ سینٹر گلگت میں اپنی زندی کی جنگ لڑ رہا ہے.
جنرل صاحب! کاش دادا جان آپ کی ایک کال پر یکم نومبر کی تقریب کے لیے یاسین تھوئی سے گلگت نہ آتے تو اس حالت میں نہیں ہوتے.
مجھ پر اس وقت کیا گزر رہی ہے وہ الفاظ میں بیان نہیں کرسکتا.. بالکل الفاظ نہیں ہیں.. موبائل اسکرین پر گرتے آنسوؤں کو کیسے اور کن الفاظ میں بیان کروں؟؟؟
جنرل صاحب! گلگت کے لوگ آپ کے حق میں نعرے لگاتے ہیں, آپ کو "محسن انسانیت” کہتے ہیں.
خدارا ان تقاریب کے منتظمین کو بتائیے کہ اسٹیج والے صوفے اگر ان بزرگوں کے لیے نہیں لگا سکتے ہیں تصویری سیشن کے لیے نہ بلائیں.
خدا نے زندگی دی تو اگلے سال میں تصویری سیشن کے لیے اپنے دادا کو کسی صورت میں نہیں جانے دوں گا. انسان کو شوپیس سمجھنا بند کیجئے. مانا کہ ہم "بلڈی سویلین” ہیں لیکن جذبات ہمارے بھی ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں