گلگت ائرپورٹ کے متاثرین 60 سالوں سے معاوضہ سے محروم

تحریر: احتشام خان

پچھلے مہنےگلگت شہر میں چند لوگ ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈ لئیے احتجاج کرتےنظر آئے . جب معلوم کیا تو پتہ چلا کہ یہ لوگ گذشتہ ساٹھ سالوں سے اپنے زمینوں کےمعاوضے کی ادائیگی کا مطالبہ کر رہے ہیں.
یہ تقریبا 200 متاثرہ خاندانوں کے نمائیندے تھے جن میں ہر مکتبہ فکر کے لوگ جوگلگت شہر میں عرصئہ 70 سالوں سے مقیم ہیں، شامل تھے. اور جن کی430 کنال زمین 1949ء میں سول ایویشن اتھارٹی نے ائیر پورٹ کی تعمیر کے لئےخرید لیا تھا .مگر 60 سال سے زیادہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود معاوضہ کی ادائیگی نہیں ہوئی ہے- اپنا حق مانگتے مانگتے عمر گزر چکی ہے- اور بیشتر لوگ اس جہان فانی سے رخصت بھی ہوچکے ہیں . اب انکے اولاد بھی حق مانگتے ہوئے سڑکوں پر نظر آرہے ہیں۔.
جب 1949ء میں یہ ائرپورٹ بن رہا تھا اس وقت متاثرین کو وقتی آباد کاری کے لیے کچھ رقم دے کر ان کے فائلوں کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا. اس وقت 13 خاندان اس زمین کے مالک تھے. متاثرین نے 1974ء میں پولیٹکل ایجنٹ کو درخواست دی جس میں متبادل زمین دینے کا مطالبہ کیا گیا- انھوں نے یہ درخواست منظور کیں اور ان کو پڑی میں 1744 کنال زمین الاٹ کیا گیا لیکن قبضہ نہیں دیا گیا.


اس کے بعد جب متاثرین نے اس پر آواز بلند کیں تو اس وقت کی حکومت نے چھلمش داس میں اتنا ہی زمین انھیں الاٹ کیا. لیکن قبضہ وہاں بھی نہیں دیا گیا. 1987ء میں متاثرین ائر پورٹ نے وفاقی معتصب کی عدالت میں یہ کیس دائر کیا اور اس کا فیصلہ متاثرین کے حق میں آیا. لیکن اس فیصلے پر بھی عمل درآمد نہیں کیا گیا.
1990 میں زمین کے مالکان پھر اسی عدالت میں جس نے پھر متاثرین کے حق میں فیصلہ سنایا گیا اور حکم دیا گیا کہ 90 دن کے اندر اس پر "عملدرآمدگی روپورٹ ” جمع کیا جاۓ.- لیکن اس پر بھی کسی نے عمل نہیں کیا.
2009ء میں اسی عدالت سے پھر ان متاثرین کے حق میں فیصلہ آ گیا لیکن کسی نے ان کی بات نہیں سنی. اب پھر یہی متاثرین اپنے کیس اور ان کے حق میں سناۓ گئے فیصلے کے کاغذات کو لیکر اقتدار کے ایوانوں میں دستک دے رہے ہیں، لیکن اب تک انکے ذاتی زمین کے اوپر انکے حق میں فیصلے کوحکمرانوں نے جوتی کے نوک پر رکھا ہیں.

ان متاثرین کے دو مطالبات ہیں.
1-وفاقی معتصب کے فیصلے کے مطابق انکو متبادل زمین یا اسکامعاوضہ دیا جاۓ.
2-اگر گلگت بلتستان میں زمین نہیں ہے تو پاکستان کے کسی بھی شہر میں زمین دی جائے.
متاثرین کا یہ بھی کہنا ہیں کہ گلگت بلتستان حکومت انکا حق تسلیم تو کرتی ہیں لیکن اس فیصلے پر عملدرآمد نہیں کرتی.
تقریباً 70 سالوں سے انکے ذاتی زمین پر سرکار نے قبضہ کیا ہیں اور معاوضہ تک نہیں دے رہی ہے.
میں اس خطے کا بطور ایک باشندہ ایوانوں سے برملا مطالبہ کرتا ہوں کہ ان کو انکا حق دیا جاۓ. اور پورے جی بی کے عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ اپنے بھائوں کے ساتھ کھڑے ہوکر خطے کے حقیقی باسی ہونے کا ثبوت دے.

اپنا تبصرہ بھیجیں