گلگت میں صحافیوں کے ساتھ بد سلوکی پر صحافتی وسیاسی حلقوں کی تشویش

کورونا وائرس کے بارے میں بر وقت اور درست معلومات کا حصول ایک بڑا چیلینج. صحافیوں کو بے جا تنگ کرنے کی شکایات

بام جہاں رپورٹ

گلگت بلتستان میں کورونا وائرس کے حوالے سے بروقت معلومات کا حصول مقامی صحافیوں کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے۔ کسی معمولی سی خبر کی تصدیق کےلئے بھی متعلقہ حکام دستیاب نہیں ہوتے ہیں اور صحافیوں کو بے جا ہراساں کرنے کی شکائیتں آرہی ہیں.
صوبائی حکومت کے محکمئہ اطلاعات اور محکمہ صحت کے زمہ داران بر وقت اور درست معلومات صحافیوں کوفراہم کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں.
23 مارچ کے ‘ہوم لاک ڈاوں’ (گھروں میں لوگوں کو محصور) کرنے کے بعد پولیس کی صحافیوں اور نوجوانوں کے ساتھ ناروا سلوک کی خبریں اور تصاویر سوشل میڈیا پہ شائع ہو رہی ہیں.
محکمہ صحت کے حکام کہتے ہیں ہمیں مؤقف دینے اور معلومات فراہم کرنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔
انسانی حقوق کے کارکن اسرار الدین اسرار نے گلگت میں صحافیوں کے ساتھ پولیس کے ناروا سلوک کی خبروں پر افسوس کا اظہار کیا۔ اسرار الدین جو خود بھی ایک لکھاری اور پاکستان کے سب سے معتبر اور مشہور ادارہ کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ. آر.سی.پی) گلگت بلتستان کے سربراہ ہیں، نے مطالبہ کیا کہ ذمہ دار ادارے صورتحال کا فوری نوٹس لیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں عوام کی مشکلات کو اجاگر کرنے میں صحافیوں کا کردار لاٸق تحسین ہے۔
فہم اختر جو میڈیا ورکرز ایسو سی ایشن کے صدر ہیں، نے کہا کہ مقامی صحافیوں کو حقائق پر مبنی رپورٹینگ کرنے پر حراساں کیا جاتا ہے.
انہوں نے الزام عائد کیا کہ گلگت بلتستان میں قرنطینہ سنٹر میں مریضوں کو درپیش مسائل کی رپورٹنگ کرنے پر باد شمال کے رپورٹر مہتاب الرحمان کو انتظامیہ نے زبردستی گرفتار کرکے قرنطینہ میں رکھا ہے جبکہ ان میں اس وائرس کے آثار ہی نہیں تھے۔

لاک ڈاؤن کے دوران بھی صحافیوں کے ساتھ پولیس کا وہی معمول کا رویہ رہاہے جوٹیال میں ایک صحافی کے ساتھ بدتمیزی کی گئی.
خومر میں نجی نیوز چینل کے کیمرہ مین کو بھی ذدوکوب کردیا ہے اور انہیں دھمکیاں دی گئی ہیں۔

جبکہ کشروٹ میں قائم غیر ضروری قسم کے چیک پوسٹ سے بھی صحافیوں کو گزرنے نہیں دیا جاتا. حالانکہ مشیر اطلاعات نے یقین دہانی کرائی تھی کہ صحافی اپنے پیشہ ورانہ ذمی داریوں کو سرانجام دے سکیں گے اور کسی قسم کی رکاوٹ پیش نہیں آئے گی۔

پاکستان ٍفیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی.ایف.یو.جے) کے مرکزی سیکریٹری جنرل ناصر زیدی نے بھئ گلگت بلتستان میں صحافیوں کے ساتھ ناروا سلوک پر تشویش کا اظہار کیا اور گلگت بلستان حکومت سے مطالبہ کیا کی وہ اس کا نوٹس لیں اور صحافیوں کو اپنے پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی انجام دہی کے سلسلے میں رکاوٹیں پیدا نہ کریں.

عوامی ورکرز پارٹی گلگت بلتستان کے رہنماوں احتشام خان،، واجداللہ بیگ، نوید احمد، رحمت جلال، آصف سخی اور شیر افضل نے بھی صحافیوں اور ہنزہ میں نوجوانوں کے ساتھ پولیس زیادتیوں پر سخت تنقیند کیا ہے اور واضح کیا کہ کرفیو کے اڑ مین بنیادی انسانی حقوق اور آزادئی اظہار پر کسی بھی قسم کے حملہ کو برداشت نہیں کی جائیگی. انھوں نے خبردار کیا کہ سیکورٹی اداروں کے افراد اور پولیس اس قسم کے غیر انسانی سلوک سے بعض آجائیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں