گلگت: کے. آئی. یو کےگرفتار طلباء کی رہائی کا مطالبہ

ترقی پسند اور حق پرست طلباء تنظیموں اور سیاسی کارکنوں کا قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی جنسی حراسانی کیس کےرپورٹ میں تاخیر پر سوست تا گلگت لانگ مارچ کی دھمکی

رپورٹ: نوید احمد

گلگت: ترقی پسند اور حق پرست طلباء تنظیموں کا ایک اہم اجلاس بروز منگل گلگت میں ہوا جس میں قراقرم یونیورسٹی میں حال ہی میں پیش آنے والے جنسی حراسانی کے واقعات میں اضافہ اور اس کے خلاف آواز کرنے پر دو طالب علموں کی گرفتاری پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔اجلاس کے شرکاء نے فیصل اور توقیر کی گرفتاری اور یونیورسٹی انتظامیہ کے رویے کی سخت الفاظ میں مذمت کیا اور مطالبہ کیا کہ دونوں کو فلفور رہا کیا جائے ۔

اجلاس میں بلتستان اسٹوڈنٹس فیڈریشن، نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن گلگت بلتستان اور بالاورستان نیشنل اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے رہنماوں آصف ناجی، قمر نجمی، عنایت ابدالی، نوید احمد، عرفان حیدر، پیار علی، علی شیر، عیان علی، غالب اور جون نگری شامل تھے۔
ان رہنماؤں نے جنسی حراسانی کے کیس میں نامزد اہلکار کے خلاف فیصلہ میں تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار کیا ۔

انہوں نے کہا کہ دو مہنے گزرنے کو ہے ابھی تک جنسی حراسانی کیس کاکوئی فیصلہ نہیں آیا بلکہ الٹا کے آئی یو تھانہ کے ایس ایچ او نے اس جرم کے خلاف آواز بلند کرنے والے دو طالب علموں کو گرفتار کیا۔ انہوں نے ایس ایچ او کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کی جانبداری اور تعصب کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو سکتاہےکہ جن غنڈہ عناصر نے یونیورسٹی کےباہر سے آ کے احتجاجی طالب علموں پر حملہ کیا اور انہیں زخمی کیا ان کو اب تک گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔

ہم سمجھتے ہے کہ یونیورسٹی کی انتظامیہ اس وقت ایک مخصوص طاقت کے سامنے گھٹنے ٹیک چکی ہے۔
ان رہنماوں نے خبر دار کیا کہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات کی روک تھام نہیں کی گئی تو ہم اس کے خلاف بھر پور مزاحمت کریں گے ۔

یاد رہے گزشتہ ماہ عوامی رابطوں کی ویب سائٹس کے ذریعے قراقرم یونیورسٹی میں طا لبات کو ہراساں کرنے کی خبریں سامنے آئی جس کے ردعمل میں گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں احتجاج کئے گئے۔ قراقرم یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے لوگوں کے غم و غصہ کو روکنے کے لئے واقعہ کی تحقیقات کی یقین دہانی کیں ۔
مگر ایسا لگتا ہے کہ انکوائری کمیٹی کی رپورٹ بھی سرد خانے کی نذر ہو گیا ۔ حالیہ چند مہہنوں سے حراسانی کے کئی واقعات سامنے آ ئے ہیں مگر ان کی روک تھام کے لئے آج تک کوئی عملی اقدامات نہیں اٹھائے گئے اور ملزموں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوئی۔

ان رہنماؤں نے مزید کہا کہ وائس چانسلر سمیت حکومت کی خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ انتہائی سنگین نوعیت کے معاملات کو دبایا جارہا ہے یا ملزمان کی پشت پناہی کی جا رہی ہے ۔
رپورٹ پر تاخیر اور جنسی حراسانی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر جب بام جہان اور ہائی ایشاء ہیرالڈ نے کے ائی یو انتظامیہ سے ای میل کے ذریعے ان کی موقوف جاننے کیے لئے چند سوالات بھیجا تو دو دن گزرنے کے بعد کوئی جواب نہیں آیا.
دریں اثنا عوامی ورکرز پارٹی گلگت-بلتستان کے نوجوان رہنماآصف سخی نے ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے چند روز قبل قراقرم یونیورسٹی کا دورہ کیا تھاجہاں طلبا ا ور طالبات سے خصوصی ملاقات کی اور ان کو درپیش مسائل سنے اور انہیں یقین دہانی کرادی کہ وہ طلباء کے حقوق کے لئے جدوجہد میں ان کے ساتھ ہیں اور کھڑے رہنگے۔ انہوں نے کہا کی وائس چانسلر نے یقین دہانی کی ہے کہ وہ اسلام اباد سے واپسی کے فوراً بعد ہراسانی کیسیز کے تحقیقاتی رپورٹ منظرعام پر لائیں گے۔

آصف سخی جنہوں نے حالیہ گلگت-بلتستان اسمبلی کے لئے ہونے والے انتخابات میں حلقہ 6 ہنزہ سے عوامی ورکرز پارٹی کے امیدوار کی حیثیت سےحصہ لیا تھا ، نے خبردار کیا کہ اگر کے آئی یو کےانتظامیہ نےتحقیقاتی رپور ٹ سامنے نہیں لایا تو عوامی ورکرز پارٹی سوست تا گلگت لانگ مارچ کرے گی اور قراقرم یونیورسٹی کے گیٹ کے سا منے وی سی اور ملزمان کی برطرفی تک بھوک ہڑتال کرےگی۔

جنسی حراسانی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور یونیورسٹی انتظامیہ کی خاموشی کے خلاف سوشل میڈیا پہ سیاسی و سماجی کارکنوں، اور دیگر شعبئہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شدید تنقید کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ داران کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لایا جائے۔

محمد علی مسافر نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوں تو قراقرم یونیورسٹی میں جنسی ہراسگی کی خبریں پہلے بھی آرہی تھی لیکن جب اس قسم کے واقعات میں پریشان کن حد تک اضافہ ہوا تو کئی طالبات نے تحریری طور پر یونیورسٹی کے وی سی کو شکایا کیں ۔ کئی مہینے گزرنے کے باوجود اب تک کوئی کاروائی ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔ بلکہ اس کے برعکس یونیورسٹی انتظامیہ نے ان طلبا کے خلاف کاروائی شروع کی ہے جنھوں نے یونیورسٹی میں جنسی حراسانی کے خلاف احتجاج میں حصہ لیا تھا۔

پچھلے سال جب ایک ویڈیو سامنے آیا جس میں اس یونیورسٹی کے چند طالبات نے ایک ٹی وی پروگرام کے دوران ایک رقص میں حصہ لیا تھا تو گلگت بلتستان میں ہنگامہ برپا ہوا تھا۔ مذہبی علما ءسے لیکر عوامی ایکشن کمیٹی تک اور حکومتی انتظامیہ سے لے کر یونیورسٹی کے انتظامیہ تک سب ان طا لبات کے خلاف بیان بازی میں یکجا ہوئے۔

وہ علما کرام، عوامی ایکشن کمیٹی کے ممبران، حکومتی اور یونیورسٹی انتظامیہ جو پچھلے سال میڈیا میں بیانات دینے سے نہیں تھکتے تھے اب چھپ کا روزہ رکھے ہیں۔ یہ بات واضح ہے کہ کمزور طلبہ کے خلاف بولنا اور کاروائی کرنا آسان ہے لیکن ہراسگی جیسے مذموم عمل میں ملوث طاقتور افراد کے خلاف بولنا یا کاروائی کرنا آسان نہیں ہے اس لیے سب خاموش ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ گلگت بلتستان کے نوجوا ن، سیاسی کارکن، طلبا ، سول سوسائٹی اور میڈیا اس قسم کے گھناونے واقعات کے خلاف آواز اٹھائے اور تعلیمی اداروں کو ایسی جگہ بنانے میں اپنا کردار ادا کرے جہاں ہمارے بچے اور بچیاں اپنے آپ کو ہر لحاظ سے محفوظ محسوس کریں اور ذہنی یک سوئی اور سکون کے ساتھ تعلیم حاصیل کریں۔

انہوں نے کہا کہ سفارشی بھرتیوں کے ساتھ مختلف غیر قانونی کاروائی کے خلاف مل کر جدوجہد کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں