گل سما واقعہ اور زرد صحافت

تحریر: رحمت تونیو

"خبر کے ذرائع کے بارے میں جاننا، اس کے دیگر پہلووں کو سمجھنا، اور خبر دینے والامستند ہونا چاہیے. خبر کے متعلق دلائل اور ثبوت مستند ہے یا نہیں؟ خبر میں اپنی پسند اور ناپسند کے عنصر شامل نہیں ہونا چاہیے، وغیرہ وغیرہ ۔”
مذکورہ باتیں شعبہ صحافت کے ہر طالب علم کو ضرور یاد ہوں گی، کیونکہ یونیورسٹیوں کے شعبہ صحافت میں پڑھایا جاتا ہے کہ کسی بھی ایسی خبر کو شایئع یا نشر نہ کیا جائے، جس کی وجہ سے کسی فریق، سماج اور ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچنے ۔ مگر ہمارے یہاں بڑی تعداد میں ایسے صحافی موجود ہیں، جو کسی بھی خبر کو بنا تحقیق اور تصدیق کے شایئع، یا نشر کردیتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں بے گناہ فریق کو سماجی و معاشی نقصان کے علاہ بدنامی بھی اٹھانی پڑتی ہے، معیار صحافت کا بھی پتہ چلتا ہے، میڈیا ادارہ کی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے۔
جس کی ایک مثال گزشتہ سال نومبر کے مہنے میں صحافتی جیمز بانڈ نے ایک ایسی ہی خبر نشر و شایع کردی، جس کے بارے میں کئی سوالات ابھر رہے ہیں۔
خبر بریک کردی گئی کہ صوبہ سندھ کے ضلع دادو کے حدود واہی پاندھی میں ایک لڑکی گل سما کو غیرت کے نام پر سنگسار کر کے قتل کیا گیاہے۔ چند ہی لمحوں کے اندر سوشل و مین اسٹریم میڈیا میں خبر وائرل ہوگئی۔ پورے معاشرے میں سنسنی پھیل گئی۔ جب وہ خبر عالمی سطح کے اداروں میں بھی رپورٹ ہوئی تو سندھ حکومت، ضلعی انتظامیہ، پولیس پر بھی دباؤ بڑھ گیا۔ پھر فوری طور پر بچی کے ورثا، نماز جنازہ پڑھانے والے مولوی صاحب، کفن دفن کا سامان دینے والے دوکاندار کو حراست میں لیا گیا۔ معصوم بچی کے والدین نے دوران حراست بیان دیا کہ بچی پہاڑی تودا گرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئی ہے، انہیں سنگسار نہیں کیا گیا۔ ایک دو دن گزرے، میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا؛ قبر کشائی کر کے لڑکی کا پوسٹ مارٹم کیا گیا تو بچی کو سنگسارکرنے کے شواہد نہ مل سکے۔
بعد میں گرفتار لوگوں کو رہا کیا گیا۔ رہائی کے بعد گل سما کی ماں نے میڈیا سے دوراں گفتگو روتے ہوے کہا کہ "میری بچی ہلاک ہوئی اور اس کے قتل کا الزام لگا کر ہمیں ذلیل کیا گیا، میری بچی کی قبر کی بے حرمتی کی گئی، جس نے ہمارے ساتھ یہ کروایا اسے سزا دی جائے”
کمیشن برائے انسانی حقوق پاکستان کی ایک وفد نے گل سما کے گاؤں کا دورہ کیا، اور تحقیقات کرنے کے بعد اپنی رپورٹ میں بتایا کہ سنگسار کرنے کا ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔
صحافی امداد سومرو لکھتے ہیں کہ "اہل دانش و عقل” کہتے ہیں کہ سوال مت اٹھائیں عقل کے اندھے بن جائیں۔ جھوٹی خبر پر یقین کریں۔ تحقیقات کے بنا مان جائیں کہ گل سما سنگسار ہوئی ۔ اپنی ہی بچی کے قتل کے الزام می باپ کو لگی ہتھکڑی پر بھی سوال نہ اٹھائیں ۔۔. مت پوچھیں صحافیوں سے کی ان کے پاس کیا ثبوت ہیں-”
جب پوسٹ مارٹم رپورٹ جاری ہوئی تو سندھ سے تعلق رکھنے والے بڑے بڑے صحافیوں نے سوشل میڈیا پر معیار صحافت پر سوالات اٹھائے، اور جھوٹی خبر بریک کرنے والے صحافی پر سوالات اٹھائے۔
افیئر میگزین کے ایڈیٹر علی رند نے لکھا کہ ” اگر کسی حادثے میں کسی کی بچی جاں بحق ہوجائے، اور ان کے والدین کو حراست میں لیا جائے، جب اس جھوٹی خبر کا سچ سامنے آجائے تو اس گٹر صحافت کا حساب کس سے لیا جائے؟”
جھوٹی خبر کا معاملا محض اس ایشو پر محدود نہیں۔ بڑی تعداد میں ایسے جید صحافی حضرات ہیں، جو اپنی شہرت و دولت کیلیے معاشرے کو ہی بدنام کردیتے ہیں۔
ہمارے یہاں عالم یہ ہے کہ میڈیا اداروں (ٹی وی چینلز، اخبارات) میں ایسے لوگ بیٹھے ہیں، جنہوں نے بڑی مشکل سے میٹرک پاس کیا ہے۔ ان لوگوں کو صحافت کی الف بے کا بھی علم نہیں، نہ ان لوگوں کی کوئی مخصوص تعلیم ہے، نہ قابلیت، مگر پھر بھی وہ صحافت کے بڑے نام گنے جاتے ہیں اور صحافتی تنظیموں کے ممبران بھی ہیں۔ کیونکہ ان کے تعلقات اشرافیہ طبقہ، ارکان اسمبلی، وزراء اور بیوروکریسی سے ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شعبئہ ابلا غ عامہ سے فاریغ التحصیل پڑھے لکھے نوجوانوں کو کیا موقع دیا جاتاہے؟ مان لیا کہ انہیں عملی صحافت کا تجربہ نہیں، مگر یہ ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے کہ ملک کے جامعات میں شعبہ ابلا غ عامہ میں کیوں عملی کام نہیں سکھایا جاتا؟ یہ حقیقت ہے کہ سرکاری یونیورسٹیوں کے اس شعبے میں بہت کم سیکھنے کو ملتا ہے، مگر اتنا سیکھنے کو ضرور ملتا ہے کہ جھوٹ اور سچ پر مبنی خبر کے درمیاں فرق کو سمجھ سکے۔کیونکہ صحافت کے ایک طالب علم کی حیثیت سے میں نے بزات خود اس کا مشاہدہ کیا ہے۔آخر کب تک یہ سلسلا یوں چلتا رہے گا؟ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ صحافت کے ان بہروپیوں کی جگہ حقیقی صحافت کے طالب علموں کو موقع دیا جائے۔

رحمت تونیو صحافی اور بلاگر ہیں
@RehmatTunio

اپنا تبصرہ بھیجیں