ہمارا مقصد انقلاب ہے یا ذات کی تسکین؟

تحری: ڈاکٹرعاصم سجاد اختر

میں اکثر سوچتا ہوں کہ بائیں بازو کے حلقے اتنی زیادہ فرقہ واریت کا شکار کیوں ہیں؟ ایک طرف ہم سب سماج کو بدلنے کا دعوی کرتے ہیں، حکمرانی کے نظام کو پلٹنے کے نعرے لگاتے ہیں، حتیٰ کی عالمی سامراج کو بھی ختم کرنے کی باتیں کرتے ہیں، مگردوسری طرف ہماری بہت سی توانائی آپس میں لڑائیوں اورجھگڑوں میں خرچ ہوتی ہے۔ کون اصلی مارکسسٹ ہے، کون سازشوں میں مصروف ہے، کس کا طریقہ درست اورکس کا غلط؛ یہ وہ تمام بحثیں ہیں جن میں ہم الجھے رہتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے دورمیں یہ آپس کی لڑائیاں ایک لحاظ سے تیز بھی ہو گئی ہیں کیونکہ زمینی کام کی بجائے اکثرایسا لگتا ہے کہ ہم سوشل میڈیا پرہی اپنی نظریاتی وتنظیمی پختگی کوظاہرکرنا چاہتے ہیں۔ یعنی کہ ہم ایک دوسرے کو فتح کرنے پرتوجہ دیتے ہیں، حالانکہ سماج میں اکثرعوام ہمیں جانتے بھی نہیں ہیں، وہ ہم سےاورہمارے پیغام سے واقف تک نہیں ہوتے۔ سنجیدگی کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم اپنی کمزوری تسلیم کرتے ہوئے بہترحکمت عملی ترتیب دیں تاکہ عوام میں کچھ نہ کچھ پزیرائی حاصل ہو۔

چنانچہ میرا پہلا نکتہ یہ ہے کہ بائیں بازو کے حلقے کسی حد تک اس بات کے عادی ہو گئے ہیں کہ سماج میں ہمارے خیالا ت اورجان پہچان نہ ہونے کے برابر ہیں اوراس صورت حال کا کچھ کرنے کے بجائے ہم ایک دوسرے پربرتری حاصل کرنے میں ہی وقت صرف کر تے رہتے ہیں۔ اس عجیب رویہ کے اسباب کی نشاندہی کرنا ضروری ہے، کیونکہ بائیں بازو کے حلقے بہرحال دعوے دارہیں کہ وہ سماج کے سنجیدہ ترین عنصر ہیں، کہ وہ ٹھوس تجزیہ کی بنیاد پرسیاست کرتے ہیں، کہ وہ محض طاقت کے حصول کے لیے نہیں بلکہ سماجی رشتوں میں انقلابی تبدیلیاں لانے کے لیے ہی سب کچھ کرتے ہیں۔ تو پھرخود کو مسلسل اندرونی لڑئیوں میں مصروف رکھنے کی کیا وجہ ہے؟

یہاں میں دوسرا اورمرکزی نکتہ بیان کرتا ہوں: اوروہ یہ کہ بائیں بازو کے بہت سے کارکن شعوری یا لا شعوری طورپرسیاسی وابستگی کا اظہاراورنظریاتی ہونے کا دعوی اس لیے کرتے ہیں کہ ان کی ذات کی تسکین کا یہ واحد طریقہ ہے۔ یعنی کہ ہم اپنے آپ کو ”بائیں بازو“ یا ”ترقی پسند“ کہہ کرہی زندگی کو با معنی بناتے ہیں۔ بے شک ہم سماج کے اندربہت حد تک نظرانداز ہیں۔ بلکہ کسی حد تک بائیں بازو کے کارکان کی پہچان ہی یہی ہے کہ وہ باقی سماج سے مختلف ہے، حتیٰ کہ وہ سماجی رسوم و روایات سے کٹا ہوا ہوتا ہے۔ یعنی کہ ہم چونکہ سماج سے اپنے آپ کو الگ تھلگ تصورکرتے ہیں تو ایک وقت کے بعد ہماری نفسیاتی کیفیت کچھ یوں ہوجاتی ہے کہ سماج سے کٹا ہونا خود ہماری شناخت کا لازمی حصہ بن جاتا ہے۔ یہ بالکل اسی طرح ہے کہ علیحدگی پسند قوم پرست کے لیے اپنے ہی سیاسی حلقے میں حیثیت منوانے کے لیے سخت ترین بات کرنا ضروری ہوتاہے وگرنہ اس کے اپنے ساتھی اس کو دیش کا دشمن کہنے لگ جائیں گے۔

ایسے میں ہماری ذاتی شناخت کی ضرورتیں ہماری سیاست پرشعور ی یا لاشعوری طور پر حاوی ہوجاتی ہیں۔ ہم ایک دوسرے کے ساتھ مقابلے میں رہتے ہیں کہ ہمارا نکتہ نظر ”درست لائن“ تسلیم کیا جائے، بے شک عوام کی اکثریت کو اس سے فائدہ ہو یا نقصان (بلکہ عوام کو اکثر اوقات ہماری آپس کی لڑائیوں کا نہ معلوم ہوتا ہے اور جب معلوم ہو بھی جائے تو ان کو ”نظریاتی“ بحثوں سے زیادہ لینا دینا نہیں ہوتا)۔ یاد رہے کہ بیسویں صدی کے بہت سے انقلابی قائدین جن کا ہم صبح شام حوالا دیتے رہتے ہیں وہ اس خطرے کی بار بارنشاندہی کرتے رہے کہ نظریہ کا عمل سے کٹ جانے کی صورت میں نہ صرف انقلابی قافلہ عوام کے ساتھ تعلق بنا نہیں سکتا بلکہ یہ کہ نظریاتی پختگی کے نام پربائیں بازو کی تحریک مختلف امرا ض کا شکار ہوجاتی ہے۔ کہں کہیں ہم مہم جوئی کی طرف چلے جاتے ہیں حالانکہ ہم اس سطح کی جدوجہد کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے جس کی طرف ہم تنظیم کو دھکیلنے کی کوشش کررہے ہوتے ہیں۔ زیادہ ترہم مہم جوئی کے برعکس بےعملی کا شکار ہوجاتے ہیں اوراپنی سیاسی خاموشی پرپردہ ڈالنے کے لیے یا توکاغذی شیروں سے لڑنے پر زوردیتے ہیں یا پھرحکمرانی کے نظام کے اندرکے تضادات میں ہی الجھ جاتے ہیں- یعنی کہ حکمران طبقہ کے کسی ایک یا دوسرے فریق کا ساتھ دینا ہی ہماری سیاست کا شروع اور آخر ہوجاتا ہے۔

بہرحال ہمارا زیادہ وقت اورتوانائی ایک دوسرے کو ہی فتح کرنے پر لگ جاتا ہے۔ اس ضمن میں بائیں بازو کے کارکن دو حصوں میں تقسیم ہیں۔ پہلے ذکرکروں گا پرانی نسل کا جو کہ 1960-70کی دہائی میں ترقی پسند تحریک کے ساتھ وابستہ ہوئے۔ یہ وہ دور تھا جس میں بائیں بازو آج کی طرح سماج میں ان جانا نہیں بلکہ مین سٹریم کا حصہ تھا- جب مزدورتحریک سیاسی میدان کا بہت اہم فریق تھی اورجب نوجوان نسل بحیثیت مجموعی بائیں بازو کے نظریات سے کافی حد تک واقف تھے۔ اس دور میں ریاستی اوردیگراقسام کا سماجی جبرجتنا بھی تھا ، سماج میں بہرحال بائیں بازو سے منسلک کارکنان کوعزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ 1980ء کی دہائی کے بعد صورت حال تبدیل ہونا شروع ہوئی اوربائیں بازو کے نظریات اورکارکنان دھیرے دھیرے سماج میں نظرانداز ہوتے چلے گئے۔ آج پرانی نسل کے کارکنان کی اکثریت اپنے جوانی کے دورکو صرف یاد کرتی ہے مگرعمومی رویہ پچتانے کا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر: ”آج کے نوجوان اس طرح committed نہیں ہیں جیسا کہ سابقہ دور میں ہوتے تھے”۔ یہ بھی بہت سننے کے ملتا ہے کہ آج کل کام کرنے کے طریقے درست نہیں ہیں، کہ آج کل کے نوجوان مزدور اورکسان تحریک کو تعمیرکرنے پرتوجہ نہیں دے رہےییں، کہ وہ طبقاتی جدوجہد کے اصولوں سے ہی انحراف کر رہے ہیں۔ یہ نسل اندرسے شائد اس بات کوسمجھتی تو ہے کہ معروضی حالات بہت بدل گئے ہیں، مگراس کا سبب اکثرموضوعی بنادیتے ہیں کہ آج کل کے کارکنان ”درست طریقہ کار اورلائن“ نہیں اپنا رہے۔ چنانچہ پرانی نسل کے کارکنان کی بیشتر توانائی اس لڑائی میں ختم ہو جاتی ہے کہ ”غلط لائن“ والوں کو راہِ راست پرلایا جائے۔

دوسری جانب آج کل کے نوجوان ہیں جو کہ بائیں بازو کی سیاست کی طرف ایک ایسے ماحول میں راغب ہوئے ہیں جب بیسوی صدی کے سوشلسٹ تجربات کے بارے عمومی رائے یہ ہے کہ وہ ”ناکام“ جبکہ نظریاتی سیاست بحیثیت مجموعی کافی حد تک پسپاء ہوچکی ہے۔ مزید براں پرانے بائیں بازو کے کیڈر کے لیئے طبقہ سماج کا بنیادی تضاد تصورکیا جاتا تھا اوراسی کے گرد انقلابی سیاست ترتیب دی جاتی تھی، آج کے زمانے میں مختلف شناختوں کے گرد ترقی پسند سیاست کی جاتی ہے- مثال کے طور پرصنف، قوم یا نسل، وغیرہ ایسے میں نوجوان نسل مجموعی طور پراگربائیں بازو کی سیاست کا حصہ بنتی بھی ہے تو وہ ہمیشہ ”اپنے“ مسئلہ کومنوانے کی کوشش کرتی ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مظلوم کی بات تو سارے کرتے ہیں مگر اکثر اوقات مظلوموں کا آپس میں مقابلہ رہتا ہے کہ کون سا تضاد بنیادی اورکون سا ثانوی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی کے ساتھ جڑا ہوا سوال پھرسیاست کے طریقہ کار کا ہوتا ہے۔ چونکہ مختلف طرح کے تضادات کے گرد سیاست ہوتی ہے اورطبقے کو اولیت حاصل نہیں ہے جو کہ پچھلی صدی میں تھی لہذا بائیں بازو کے روایتی تنظیمی طریقہ کار بھی زیربحث آتا ہے کہ اس میں مرکزیت کی کچھ زیادہ ہی گنجائش ہے اوراس کے ساتھ بھی اب ضرورت ایک ایسی تنظیم کی ہے جس میں کھلا پن زیادہ ہو اور کسی فرد یا گروہ کی بالادستی قائم نہ ہو سکے۔ یہ تصور بہر حال سیاست کے تیزی سے بدلتے ہوئے میدان سے بھی ہے کیونکہ سوشل میڈیا پرجس طرح آج کل اظہار ہوتا ہے ایسا یقینا ماضی میں نہیں ہوتا تھا اوراس کی گنجائش بھی نہیں تھی کہ انگنت آوازیں سیاسی لائن کو طے کرنے میں کردارادا کریں بھلے وہ تنظیم میں عہدیدارہوں یا عام ورکر (حتیٰ کہ اب سیاسی رائے ترتیب دینے میں تنظیم کے اندر باہر بہت سے فریق ہوتے ہیں)۔

یقینا پرانے اور نئے کے درمیان ہمیشہ تضاد ہوتا ہے۔ دورِحاضرمیں جو کچھ بائیں بازو کے حلقوں کے اندر چل رہا ہے اس سے پریشان ہونے کی اس لیے ضرورت نہیں ہے کیونکہ ماضی میں بھی بہت سے اندرونی تضادات تھے۔ تاہم یہ بات بھی صحیح ہے کہ آج کے بائیں بازو کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو عوام الناس کے سامنے کم ازکم ایک با معنی کھلاڑی کے طور پرمنوائے۔ یعنی کہ ہمارے اندر جو بھی بحثیں اوراختلافات ہیں، خواء وہ پرانے اور نئے کیڈر کے درمیان ہوں یا کسی اورحوالے سے ظاہر ہوں، یہ بات بھولنی نہیں چاہیے کہ ہم آخرکار سیاست اس لیے کرتے ہیں کہ ہمارا پیغام عام لوگوں تک جائے اورہم بڑے پیمانے پرسماج کے اندرجدو جہد کی روایات کو نہ صرف زندہ رکھ سکیں بلکہ نئے طریقوں سے ان کو اجاگر کرسکیں۔ اگر ہم بیشتر وقت اورتوانائی اپنی ذات کو منوانے پر لگادیں گے تو یہ ہو نہیں سکتا کہ ہم سماج میں وہ کردارادا کرسکیں گے جس کی خواہش کا اظہار ہم سب کرتے ہیں۔ یقینا ہمیں اس بات سے بھی انکار نہیں کرنا چاہیے کہ ہربائیں بازوکا کارکن ایک انسان ہے اوراس کی ذات کی تسکین ایک بنیادی ضرورت ہے۔ مگراس ذاتی ضرورت اور پھراجتماعی مقصد دونوں کے درمیان توازن قائم کرکے چلنا ہم سب کا چیلنج ہے، چاہے پرانا ساتھی ہو یا نیا۔ وگرنہ بائیں بازو کا حوالہ جب آئیگا تو سماج میں عمومی رائے بہت مثبت نہیں ہوگی۔ اوراس کے لیے پھر ہم ایک دوسرے پرجتنا مرضی الزام لگائیں کہ دوسری طرف والے حلقے نے ”غلط لائن“ اپنائی ، سچ یہ ہوگا کہ ہم سب برابر کے ذ مہ دار ہونگے۔

ڈاکٹر عاصم سجاد اختر ایسو سی ایٹ پروفیسراورقائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد شعبئہ پاکستان اسٹڈی میں پڑھاتے ہیں. وہ عوامی ورکرز پارٹی پینجاب کے صدر بھی ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں