ہندرپ کے مغوی نوجوان…. آسمان سے گرے اور کھجور میں اٹکے

چاروں نوجوانوں کو خیبر پختونخوا پولیس نے اغوا کاروں سے چھڑا کر کوہستان جیل پہنچا دیا-غذرمیں تینوں مطالبات کی تکمیل تک احتجاج جاری

ّبام دنیا رپورٹ

گوپس: ہندرپ سے اغوا کے گیے چار نوجوانوں کو خیبر پختونخوا پولیس نے اغوا کاروں کے قبضے سے چھڑا کر کوہستان جیل منتقل کردیا ہے. مقامی رپورٹرز اور پولیس ذرائع کے مطابق، پولیس نے چاروں نوجوانون کو ملک افرین کے قبضے سے چھڑا کر داسو میں مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا اورغیر قانونی اسلحہ رکھنے کے الزام میں کوہستان جیل منتقل کیا گیا. جس کی وجہ سے غذر کے عوام میں شدید غم وغصہ پھیل گیا ہے.جو گذشتہ چار دنوں سے ہندرپ کے چراہ گاہ میں آفرین ملک اورآن کے 30 مسلح کارندوں کی درآندازی اور چار نوجوانوں کو اسلحہ کے نوک پر اغوا کرکے کوہستان لے جانے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں. جمعرات کے روز غذر کے عمائدین اور سیاسی رہنماوں نے گلگت بلتستان کی حکومت کواپنے تین مطالبات کی تکمیل کے لیے 24 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا تھا.عوامی کمیٹی نے گلگت بلتستان حکومت کی بے حسی اور تین مطا لبات کو پورا کرنے میں ناکامی کے بعد پھنڈر تک مارچ کیا اور آج گوپس میں دھرنا دیا.
آج کے واقعہ کے بعد عوامی کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ ان کے مطالبات کی عدم تکمیل کی صورت میں مارچ ضلعی ہیڈ کوارٹر گاہکوچ کی طرف نکلے گا-

گوپس کے عمائدین نے متفقہ طور پر فیصلہ دیا ہے کہ دھرنے کو گاہکوچ منتقل کیا جائے گا اور وہاں سے گلگت کی طرف لانگ مارچ کیا جائے اور گلگت بلتستان لیول پہ بڑا احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے.
جب تک گلگت بلتستان کے سرحدوں پہ گلگت بلتستان سکاؤٹ تعینات نہیں کیا جاتا اور چارٹر آف ڈیمانڈ پہ عملدرامد نہیں ہوتا دھرنا جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے.
کل اتوار 21 جولائی بروز اتوار دھرنا گاہکوچ منتقل کیا جائے گامطالبات میں ہندرپ نالے سے بزور بندوق اغوا کئے جانے والے چاروں افراد کی فوری بازیابی اوراغوا کاروں کودہشت گردی کے قانوں کے تحت سزا دینا؛ ایس ایس پی فیصل سلطان کی فوری علاقہ بدری؛ اور خطے کے سرحدی حدود پر جی بی سکاوٹس کی تعیناتی کو یقینی بنانا اورگلگت بلتستان کی سرحدی حدود کا تعین شامل ہے-
آج دھرنا گوپس شہرکے بازار میں 9 بجےشروع ہوگیا جس میں ہزاروں لوگ گوپس،یاسین، پونیال اوراشکومن کے ہزاروں لوگ بلخصوص نوجواں شریک ہوے۔
جلسے سے مختلیف سیاسی و سماجی رہنماوں نے خطاب کیا اور حکومت اور پولیس پرشدید تنقید کیں. جلسے سے خطاب کرتے ہوے ہندراپ کے تاج اکبرجو آفرین ملک کے غنڈوں سے بچ کے واپس آیے تھے، نےاپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے غذر پولیس کا پول کھول دیا. انہوں نے ہندراپ جلسے میں ڈی ایس پی اکبرحسین کے تعصبانہ اوربزدلانہ رویہ بھی تنقید کیا۔
مقرریں نے کہا کہ ہمارے بھاٸیوں کو اغوا کرنے والوں کو سزا دینے کے بجاٸے ان کے اوپر باڈر کراس کرنے اور ہتھیاررکھنے کے جھوٹے الزام لگاکے ان کو جیل بیجھا گیا۔
اس سارے واقعے اورغذر کے ساتھ ہونے والی نا انصافی سے صاف ظاہرہو رہا ہے کہ ریاستی ادارے ضلع غذر کے پرامن نوجوانوں کی سیاسی جدوجہد سے خوف زدہ ہیں اور ان کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کے لیئے جال بجھا یا جا رہا ہے اور آنھیں دیوار کے ساتھ لگایا جا رہا ہے. تا کہ مجبوراً نوجوان ہتھیار اٹھا لیں اورقانون کو اپنے ہاتھ میں لیں پھر انکے خلاف آپریشن شروع کیا جا سکے-
یاد رہے غذر کےعوام نے کیئ بار مطالبہ کیئے تھے کہ ہندرپ نالہ میں پولیس تعینات کیئے جاٸیں – مگر ضلعی انتظامیہ اورحکومت کی تاخیری حربہ کے نتیجے میں یہ سانحہ رونما ہوگیا۔
اس پر پورے گلگت بلتستان اور پاکستان کے دوسرے شہروں میں بسنے والے گلگت بلتستان کے باشندوں میں شدید غم و غصہ کی لہر دوڈ گیئی ہے اوروہ سراپا احتجاج بنے ہوے ہیں.

اس سلسلے میں جمعہ کے روز اسکردو شہر میںسیاسی کارکنوں اور سول سوسسایٹی کے کارکنوں نے یادگار چوک میں ایک مظاہرہ کیا.
مظاہرہن نے مختلیف پلے کارڈز جن پرہندراپ واقعے کی مذمت، مغوی جوانوں کی بازیابی اور گلگت بلتستان کے سرحدوں کی خلاف ورزٰی کو روکنے کے مطالبات درج تھے.
مظاہرین سے آصف ناجی ایڈووکیٹ، نجف علی ایڈووکیٹ، شفا علی اور دیگر رینماوں نے خطاب کیا.اورغذر پولیس کی نااہلی، ایس پی کی تعصبانہ رویہ کا مذمت کیا گیا. اورحکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ مغوی نوجوانوں کو فلفوربازیاب کرا یا جاے اور مجرموں کو قرارواقعی سزا دی جاے.

جی بی بچاو تحریک
گلگت بلتستان کے مختلیف نوجوانوں اورطلبا تنظیموں کا کراچی میں ایک ہنگامی اجلاس بروزہفتہ ہوا جس میں گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع کی ظلبا اور نوجوانوں کی تنظیموں نے بھرپورشرکت کیں. اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ گلگت بلتستان کے سرحدات اوربنیادی حقوق کے لیے تحریک چلانے کے لئے لائحہ عمل طے کیا.
اجلاس میں شریک ایک نوجوان کارکن احتشام خان نے کہا کہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں، اس سے قبل بسری، تھور، خنجراب، بابا غندی کی زیارت گاہ، شگر، طورمک اوردیگرعلاقوں میں اس طرح کے واقعات رونما ہو چکے ہیں. اسلیےگلگت بلتستان کے سرحدی حدود کی خلاف ورزیوں کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا. اس سلسلے میں کراچی میں سلسلہ وار مظاہروں کے انعقاد کیا جائے گا.
اجلاس میں مشترکہ جدوجہد پر زور دیا گیا- نوجوان رہنماوں نے اس موقع پرتمام گلگت بلتستان کے نوجوانوں سے اپیل کیں کہ وہ مسلکی وعلاقائی عداوتوں اور تفرقے سے بالاتراورمتحد ہو کرخطے کے بنیادی انسانی اورجمہوری حقوق کے لئے اپنا کردارادا کریں.
اجلاس میں موجود ایک نوجوان رہنما عنایت بیگ نے بام دنیا سے بات کرتے ہوے کہا کہ گلگت بلتستان کے نوجوانوں کو حالات کی سنگینی کا اندازہ ہونا چاہیے اور اپنی سرحدوں کے تحفظ کے لیئے کر جانا چاہتے ہیں.
آنھوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی گلگت بلتستان کے سرحدی حدود کی پامالی ہوتی رہی ہے. جس کےنتیجے میں پہلے کوہستان کو ہم سے الگ کیا گیا، چترال کاٹا گیا، اقسا ئی چن، لداخ پر قبضہ ہو چکا، اور شندور، پھنڈر، ہندرپ وغیرہ پردعوے موجود ہیں. بَسَری سے شندور تک دیامر, گلگت بلتستان ڈویژن پر اس خطے کے 25 لاکھ محنت کش لوگوں کا ملکیتی حاکمیتی حق و اختیار موجود ہے.اجلاس میں شریک ایک اور نوجوان رہنما قاری فاروق نے کہا کہ اپنی دھرتی ماں گلگت بلتستان کے حق کی خاطر یہاں کے عوام نسل، مسلک، زبان اورعلاقایت سے بالاتر ہو کر متحد ہیں اورانشاء اللہ متحد رہیں گے.

سوشل میڈیا پراس واقعے کے خلاف شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے.
سینیر وکیل اور انقلابی رہنما احسان علی ایڈووکیٹ نے اپنے فیس بک پیج پرلکھا کہ “یوں تو پورے گلگت بلتستان میں عوام دشمن نو آبادیاتی افسرشاہی کا راج ھے مگر ضلع غذر میں ایک مخصوص خفیہ ایجنڈے کے تحت پولیس ضلعی انتظامیہ اوردیگر اداروں میں غذردشمن افسران کو سالہا سال تک مسلط رکھا جاتا ھے. حکومت کی طے شدہ پالیسی اور گورنمنٹ سروس رولز کے تحت کسی بھی انتظامی اور پولیس افسر کو ایک ضلع میں زیادہ سے زیادہ تین سال تک رکھا جاتا ھے اس کے بعد لازمی طور پہ اس کا تبادلہ کیا جاتا ھے. مگر ضلع غذر میں اس حکومتی پالیسی اور قواعد و ضوابط کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی جاتی رہی ھے-
آنھوں نے سوال کیا کہ “کیا شندور میں مسلسل خیبر پختونخوا کے انتظامیہ کی دراندازی کو روکنے میں ناکامی اوراب ہندراپ میں غنڈوں کی کھلم کھلا بدمعاشی اورمقامی نہتے باشندوں کو یرغمال بنانے پہ مجرمانہ خاموشی اختیار کرنے والی غذردشمن انتظامی افسران کے خلاف اپنے فرائض منصبی کو بروئے کار لانے میں مکمل ناکامی اورنااہلی پہ انہیں ملازمت سے فارغ نہیں کرنا چاہیئے؟”

لکھاری اور بلاگر ممتاز گوہر نے اپنے فیس بک پیج پہ لکھا ہے کہ گلگت بلتستان کے تقریباً تمام اضلاع میں سرحدی حدود کی پامالی اور زمینوں, چراگاہوں پر قبضہ کوئی نہیں بات نہیں. یکم نومبر 1947 کو 88 ہزار مربع میل پر مشتمل یہ خطہ آج 28 ہزار مربع میل رہ گیا ہے. گلگت بلتستان کے عوام نہ صرف ہندرپ کے عوام کے ان مطالبات کی مکمل حمایت کرتے ہیں, بلکہ اپنی چھینی ہوئی زمینیں بھی واپس مانگتے ہیں
ریاست اور عوام کے درمیان ایک رشتہ ہوتا ہے… جان و مال کی تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے. لیکن ریاست ہمارے علاقوں میں پیچھلے 50 سالوں میں ناکام ہوئی ہے. اور ہمارے گاوں کے نالے میں ہی تقریباً 44 افراد قتل ہوۓ ہیں. باقی تعداد اس سے بھی زیادہ ہے. اور آج تک غذر کےعوام پر امن رہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں