ہنزہ: انتخابات کی بائیکاٹ کے مطالبے نے سیاسی شعبیدہ بازوں کو امتحان میں ڈال دیا

اسیران ہنزہ رہائی کمیٹی ، اور عوامی ورکرز پارٹی گلگت-بلتستان کی جانب سے جی بی ایل اے 6 میں انتخابات کےبائیکاٹ کرنے کی اپیل

ہائی ایشیاء ہیرالڈ رپورٹ

ہنزہ: بابا جان اور 11 دیگرضمیر کے قیدیوں کو فل فور رہا نہیں کیا گیا تو ہنزہ میں گلگت -بلتستان اسمبلی کے آئندہ ماہ ہونے والے انتخابات کا بائیکاٹ کیا جائے ۔

یہ مطالبہ اسیران کے اہل خاندان نے پیر کے روز ضلع ہنزہ کے اہم تجارتی قصبہ علی آباد میں اسیروں کی رہائی کے احتجاجی دھرنا میں کیا گیا۔ اس مطالبہ نے سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کو امتحان میں ڈال دیا۔

عوامی ورکرز پارٹی گلگت بلتستان نے اس مطالبے کی حمایت کی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کے رہنماوں بابا جان، علیم ،افتخار کربلائی اور دیگر کو فورا رہا کریں۔ انہوں نے کہا کہ جو سیاسی جماعتیں آج دھرنا میں اسیران اور ان کےخاندان والوں سے یکجہتی کا اظہار کرنے آئے ہیں ، اگر وہ مخلص ہیں تو ہنزہ میں انتخابات کو اسیران کی رہائی سے مشروط کریں۔
جب تک 12 اسیران رہا نہیں ہوتے تمام پارٹیوں کو متفیقہ طور پر الیکشن کا بائیکاٹ کرنا چاہئے۔ اگر یہ ممکن نہیں تو محض لوگوں کی ہمدردیاں حاصیل کرنے اور اپنی غلطیوں کو چھپانے کے لئے اسیران کو اپنی انتخابی سیاست کے لئے استعمال نہ کریں۔

انہوں نے قیدیوں کی رہائی سمیت دیگرمطالبات پورے ہونے تک دھرنا جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

ایک سیاسی تجزیہ کار نے کہا کہ "اس مطالبے نے تحریک انصاف، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ، اور آزاد امیدواروں کو ایک مشکل امتحان میں ڈال دیا ہے۔ کیونکہ انتخابات ان حکمران طبقوں کی پارٹیوں کے لئے سرمایہ کاری ، ٹھیکوں کے حصول اور مفادات کی تکمیل کا ایک اہم موقع ہے جسے وہ کبھی بھی ضائع نہیں جانے دیں گے۔

"ہنزہ کے عوام کو بھی ان موسمی پنچیوں سے کوئی آس نہیں رکھنا چاہئے کیونکہ یہ کوئی ٹھوس پروگرام اور عوامی منشور اور نظریہ کی بنیاد پر سیاست نہیں کرتے ہیں ۔ ان کے پیش نظر اپنا ذاتی مفادات اور مقتدر قوتوں کی خوشنودی حاصیل کرنا ہے نہ کہ عوام کی ‘خدمیت’۔”

بابا جان، علیم ، افتخار کربلائی اور نو دیگر نوجوان اس وقت گاہکوچ کے دماس جیل میں عمر قید کی سزا بھگت رہے ہیں۔
انہیں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے 11 اگست 2011 کو پولیس کے ہاتھوں افضل بیگ اور ان کے بیٹے شیر افضل کے قتل کے خلاف احتجاج اور بلوہ کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی۔
احتجاجی دھرنا کا اہتمام آسیران ہنزہ رہا ئی کمیٹی اور ال پارٹیز نے کیا ہے۔

اس موقع پر ایڈووکیٹ احسان علی، کرنل (ر) عبید اللہ بیگ (پی ٹی آئی)، سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنوں نے بھی خطاب کیا۔

علیم خان کی صاحبزادی شائستہ نے بھی انگریزی میں اپنے والد اور اس کے ساتھیوں کی طویل قید و بند پر ایک جذباتی تقریر کی اور ان ماؤں، بہنوں، بچوں اور عزیزوں کے دکھوں کی ترجمانی کی جو اپنے پیاروں کی راہ تکتے تکتے تھک چکے ہیں ان میں سے کچھ انصاف ملنے کی آس دل میں لئے زندگی کی بازی ہارگئے۔

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ، عوامی ورکرز پارٹی ہنزہ کے کارکن آصف سخی جو جی بی ایل اے -6 میں بابا جان کے متبادل امیدوار بھی ہیں، نے اپنی پارٹی کی جانب سے قیدیوں کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کیا اور ان کی ہر ممکن حمایت کا اعادہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم اپنے ساتھیوں کی رہائی کے لئے ملک کے اندر اور باہر تمام فورمز پر آواز اٹھاتے رہے ہیں۔
"ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم آپ کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے اور جب تک ہمارے ساتھیوں کو رہا نہیں کیا جاتا ، اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے”۔

آصف سخی نے کہا کہ ان کی پارٹی انتخابات کا بائیکاٹ سمیت آسیران ہنزہ رہائی کمیٹی کے تمام مطالبات کی حمایت کرتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ "ہمارے لئے انتخابات سے زیادہ اہم ہمارے ساتھیوں کی آزادی ہے”۔

اے ڈبلیو پی ہنزہ کے ایک اور کارکن ظہور الہی نے بھی اپنی تقریر میں اس مطالبہ کی حمایت کیں اور کہا ان کی پارٹی نے شروع دن سے اسیران کی رہائی کے لئے ہر محاذ پر آواز بلند کی ہے اور کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ دھرنا کو اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک 12 ضمیر کے قیدی رہا نہیں ہوتے۔

ان رہنماوں نے ہائی ایشیاء ہیرالڈ سے گفتگو کرتے ہوئے دیگر سیاسی جماعتوں، اداروں اور افرادکی منافقت کو حدف تنقید بنایا جنہوں نے مبینہ طور پر بابا جان ، علیم ، افتخار کربلا ئی اور دیگر نوجوان کارکنوں کوعمر قید کی سزا دلوانے میں اسٹبلشمینٹ اور پولیس کی معاونت کی۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ 11 اگست کے واقعے کی جوڈیشل انکوائری رپورٹ منظر عام پر لائا جائے ، ضمیر کے قیدیوں کو رہا کیا جائے اور ان پولیس افسر ان کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے جنہوں نے ظلم و بربریت کی انتہا کی اور مبینہ طور پر افضل بیگ اور ان کے بیٹے شیر افضل کو گولی مار کر ہلاک کیا تھا۔

انہوں نے قیدیوں کی انصاف تک رسائی ، سپریم اپیلٹ کورٹ میں ججوں کی تقرری اور بابا جان اور دیگر کی نظرثانی درخواست کی جلد سماعت کا بھی مطالبہ کیا جو پچھلے تین سالوں سے التوا کا شکار ہے۔

سینئر ایڈوکیٹ احسان علی جو سزا یافتہ قیدیوں کے مقدمات کی پیروی کررہے ہیں، نے بھی مظاہرین سے خطاب کیا۔
انہوں نے ان وجوہات اور پس منظر اور 11 اگست 2011 کے واقعے جس کے رد عمل کے طور پر ہنزہ میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے ،پر روشنی ڈالی اور کہا کہ پولیس جو عوام کی جان و مال کے تحفظ کی ذمہ دار ہے خود عوام پر جبر و تشدد کری ہے، اور ظالموں اور جابروں کی حفاظت کرتی ہے۔ انہوں نے حکومتی استغاثہ کے کیس میں تضادات، جھوٹے گواہوں کے ذریعے اسیروں کے خلاف شہادت دینے اور ناقص عدالتی نظام اور ساسی بنیادوں پر ججوں کی تعنیاتی اور ان کے ذریعے من پسند فیصلے اور انصاف کا خون کرنے پر بھی روشنی ڈالی۔
احسان نے کہا کہ کس طرح پولیس نے بابا جان اور دیگر 12 افراد کو گرفتار کیا ، من گھڑت الزامات کے تحت ان کے خلاف انسداد دہشت گردی کے کالے قانون کے تحت مقدمات درج کیے اور انسداد دہشت گردی کے متنازعہ جج کے ذریعےانتہائی قابل اعتراض انداز میں سزا دلوائی۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ پچھلے 10 سالوں کے دوران ہنزہ کے عوام نے نوجوانوں کے ساتھ ہونے والے غیر انسانی سلوک ، خوف اور جابرانہ پالیسیوں اور ناانصافیوں کے خلاف آواز نہیں اٹھائی۔

انہوں نے کہا کہ بابا جان کےخاندان کے افراد طویل عرصے سے ہی آواز بلند کررہے ہیں اور یہاں تک کہ دو بار صدر عارف علوی کے ساتھ سابق چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار سے بھی ملے۔ لیکن ان بے حس حکمرانوں نے کوئی توجہ نہیں دیں بلکہ الٹا پولیس اور سکیورٹی حکام دھونس اور دھمکی اور ریاستی جبر کے ذریعے لوگوں کی آواز دبانے کی کوشیشیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تمام اسیران صرف اس صورت میں با عزت رہا ہو سکتے ہیں جب حکومت اپنا کیس واپس لے اور اسیران کے خلاف ایف ائی ار واپس لے۔

بابا جان اور اس کے ساتھیوں کا معاملہ 25 ستمبر سے ایک بار پھر میڈیا اور سوشل میڈیا کے دائرے میں ہے جب ان کی پارٹی نے سزا سنانے کی برسی کے موقع پر سوشل میڈیا پر مہم چلائی اور بابا جان کو رہا کرو کا پوسٹ ٹویٹر پر نمبر 1 ٹرنڈنگ کیا۔

پی ٹی آئی کت امیدوار کرنل عبید نے بھی احجاجی دھرنا سے خطاب کیا اور خوشنما الفاظ سے لوگوں کے غم و غصہ کو کم کرنے کی کوشیش کیں اور اسیران کو سزا دلانے اور ججوں کی تعیناتی کو دوسروں پہ ڈالنے کی کوشیش کیں. اس پر ایک وکیل نے تحریک انصاف کے رہنما کے تضادات پر تنقید کیا اور کہا کہ ججوں کی تعیناتی کا اختیار وزیر اعظم کے پاس ہے اور وہ جان بوجھ کر سپریم اپیلٹ کورٹ میں جج تعینات نہیں کر رہا ہے.

گزشتہ دنوں گلمت گوجال میں اپنے آفس کی افتتاح کے موقع پر لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کرنل عبیداللہ بیگ نے اسیروں کے سزاوں کے حوالے سے متنازعہ بیان دیا جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا اور اس کے جواب میں سیاسی و سماجی حلقوں اور سوشل میڈیا کارکنوں میں سخت غم وغصہ پھیل گیا.

کرنل عبید کے متنازعہ بیان کا لب لباب یہ ہے کہ، بابا جان اور دیگر اسیروں کو جو سزا دی گئی ہے وہ درست ہے "مگر قانون سے تھوڑا سا زیادہ سزا سنائی دی گئی ہے”۔
کرنل عبید اور دیگر مذہبی ادارں کے عہدیداروں پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے بابا جان اور دیگر اسیروں کو بغا وت کے جھوٹے مقدمات میں ملوث کرنے اور سزا دلوانے میں اہم کردار ادا کئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں