ہنزہ شناکی یوتھ موومنٹ کی نوجوان سماجی رہنماء شاہد ندیم کے بھائیوں کو حراساں کرنے پر تشویش

ارسلان علی

ہنزہ شناکی یوتھ موومنٹ کے رہنماؤں نے نوجوان سماجی رہنماء شاہد ندیم کے بھائیوں کو حراساں کرنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اوراہلکاروں کے اس غیر قانونی اقدام کی مذ مت کی ہیں۔
شاہد ندیم جو ہنزہ شناکی یوتھ مومینٹ کے سنئر رہنماِ ہیں، سوشل میڈیا پر گلگت بلتستان کے عوام کے بنیادی حقوق، اورسماجی مسائل، ضلعی انتظامیہ بالخصوص ہنزہ کے سابق ڈپٹی کمشنر کی طرف سے کی جانے والی غیرقانونی زمینوں کے الاٹمینٹس، علاقائی رسم و واج کے خلاف کئے جانے والے اقدامات پر آواز بلند کرتے رہتے ہیں۔
ہنزہ شناکی یوتھ موومنٹ کے رہنماوں نوید احمد، احمد شاہ،واجد بیگ، زوہیب،ارسلان علی شاہ، محمد جاوید و دیگر نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ شاہد ندیم کی آواز کو دبانے کے لِئے اس طرح کے اوچھے ہتکنڈے استعمال کئے جا رہے ہیں۔
شاہد ندیم کے گھروالوں کو حراساں کرنا بنیادی انسانی حقوق کی سنگیں خلاف ورزی ہے۔جمعہ کے روز کہا ہے کہ شاہد ندیم ایک سماجی و سیاسی کارکن ہیں، وہ نہ صرف ہنزہ بلکہ پورے گلگت بلتستان کے مسائل پر سوشل میڈیا پر بات کرتے ہیں جو ایک بنیادی حق ہے۔
ان کے خلاف ان پڑھ اور ناسمجھ اہلاکاروں کی جانب سےغلطبے بنیاد الزامات کی وجہ سے غلط فہمیاں پیدا کی جارہی ہیں۔
ان رہنماوں نے کہا کہ اگر شاہد ندیم کے خلاف کویئ شکایت ہے تو ان سے براہ راست رابطہ کرکے ا س حوالے سے بات کرنے بجایے ان کے گھر والوں کو حراساں کرنا ساسر غیر قانونی اور غیر اخلاقی ھرکت ہے جس کی ہم مذمت کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہنزہ ایک انتہائی حساس علاقہ ہے جہاں ناسمجھ اہلاکاروں کی بجائے پڑھے لکھے لوگوں کو تعینات کرنا چاہیے جو عوام کے مسائل اور خطے کے روایات اور تہزیب سے واقف ہوں، تاکہ نوجوانوں کے نفسیات کو سمجھتے ہوں اوروہ لوگں اور حکومت کے درمیاں غلط فہمیاں پیدا نہ کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں