ہنزہ کے 14سیاسی قیدیوں میں سے ایک نے جیل میں بھوک ہڑتال شروع کی

بام جہاں رپورٹ

ہنزہ کے 14 ضمیر کے قیدیوں میں سے ایک قیدی راشد منہاس نے جیل میں احتجاجّا بھوک ہڑتال شروع کی۔
ذرائع کے مطابق راشد منہاس 11 اگست 2011 کے سانحہ علی آباد کے کیس میں گاہکوچ جیل میں عوامی ورکرز پارٹی گلگت بلتستان کے مرکزی رہنماء بابا جان کے ساتھ عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔وہ پچھلے چار مہنوں سے سینے کی تکلیف میں مبتلا ہیں۔ بارہا درخواست گزارنے کے بعد ۱۲ اکتوبر کو ڈاکٹر سے معاینہ کرایا گیا تو ڈاکٹر نے دوا دیا اور ای ای ٹی(EET) و ایکو گرافی کے لئے 24 اکتوبرکی تاریخ مقرر کیا تھا. مگر جیل عملے کی غفلت کی وجہ سے اسے ایک دن تاخیر سے ہسپیتال پہنچایا گیا- جس کے بعد 31 اکتوبر کو ایکو اور ای ای ٹی ٹسٹ ہوئے۔ان رپورٹس کے آنے کے بعد ڈاکٹر نے اینجیوگرافی کا مشورہ دیا اور یہ سہولت گلگت بلتستان میں میسر نہیں اس لئے راشد کے علاج کے معاملہ سرد خانے کی نذر ہوگیا ۔انتظامیہ انہیں اسلام آباد لے جانے کی اجازت نہیں دے رہی۔
اس سارے صورت حال سے تنگ آکر راشد نے جیل میں بھوک ہڑتال کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔خاندانی ذرائع کے مطابق کل 25 نومبر کی صبح سے راشد نے کچھ کھایا نہیں ہے۔
کیونکہ راشد منہاس نہ تو کسی سرمایہ دار کا بیٹا ہے اور نہ کسی جنرل کا جسے حکومت لندن علاج کے لئے بیجے۔
راشدکے والد محمد متین ایک ریٹائرڈ حولدار ہے جس نے اس ملک کے لئے 1965ء اور 1971ء کی جنگیں لڑیں اِس کے عوض ریاست نے راشد اور اس کے والد کو سانحہ علی آباد کے کیس میں جے آئی ٹی سے گزارا ۔
اسیران کے خاندان اور ہمدردوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں اور سیاسی پارٹیوں اور سپریم کورٹ اف پاکستان کے چیف جسٹس اور اقوام متحدہ سے اپیل کیں ہے کہ وہ راشد منہاس اور دیگر اسیران کی رہائی کے لئے آواز اٹھائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں