ہنزہ کے غیر سیاسی عوام کے سیاسی مسائل


تحریر: اجمل حیسن ہری

سر زمین ہنزہ کے عوام 700 سالہ میری نظام کے غلامی سےتو آزاد ہوٰے پر صدیوں کے پسماندہ ذہنی غلامی سے آزاد نہں ہو پاٰے۔ تعلیمی اور معاشی طور پر بہت ترقی کی۔ بلکہ یوں کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ ہنزہ کے لو گوں نےاگرچہ زندگی کے ہر شعبے میں ترقی کیں لیکن سیاسی میدان میں آج بھی یتیم ہیں. اس کی کٰیی وجوہات ہوسکتی ہیں لیکیں میرے خیال میں ہماری منافقانہ اور بیمار ذہنیت ہے جو اس غلامی سے باہر نکلنے کو تیار ہی نہیں۔ اس کی ایک اور وجہ جو مجھے سمجھ آتی ہے وہ یہ کہ ہنزہ کے عوام اور نوجوانوں کو سیاست سے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت دور رکھا گیا۔
اس کام میں بہت سارے سہولت کار ملوث رہے ہیں ان کو آج کے پڑھے لکھے نوجوان بہترطور پر جانتے ہیں۔ نوجوان نسل اپنے نمائندوں سے ناراض ہیں. بلخصوص ان سے جو اقتدار کے مزے لوٹتے رہے ہیں۔ چاہے وہ کسی بھی پارٹی میں رہے ہوں۔ بالکل سہی اپ کا ہر ایک اختلاف اگر تسلیم بھی کیا جائے تو کیا اقتدار میں آنے والے یہ لوگ آپ کے ووٹوں سے نہیں آئے تھے؟؟؟ کیا ان کو ایوانوں تک آپ نے خود نہیں پہنچایا تھا؟کیا ان کے سروں پر اقتدار کا تاج اپ نے خود نہیں رکھا تھا؟ تو پھر ان کی نااہلی کی زمہ داری بھی قبول کرنے کی جرآت پیدا کیجیے۔

مجھے کسی بھی سیاسی جماعت سے یا ان کے ورکرز سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے۔ میں سب کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔ یہی تو جمہوریت اور سیاست کا حسن ہے کہ آپ کو اختلاف رکھنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔ بس تنقید برائے تنقید نہ ہو بلکہ تنقید برائے اصلاح ہو۔ ایک سال سے اوپر کا عرصہ ہونے کو ہے گلگت بلتستان اسمبلی میں ہنزہ کا کوئی عوامی نمائندہ موجود ہی نہیں۔ جن کو عوام کے بدولت تین تین نثست ملا ہے وہ خواب غفلت میں سوۓ ہوئے ہیں۔ کیونکہ ان کے پاس کوئی سیٹ نہیں رہا۔ حکمراں اشرافیہ کے نزدیک کرسی کے بغیر لوگوں کی خدمت نہیں کہ جا سکتی. یہی حالت ہنزہ کے دوسرے حکمراں طبقوں کے پارٹیوں کا ہے۔ ان کو عوام کی بے بسی، محرومی اور ضرورتیں صرف الیکشن کے دنوں میں نظر آتے ہیں۔ اب اس کو نااہلی کہو یا ذاتی مفادات کی سیاست؟

ستم بالایے ستم یہ کہ ہنزہ سے سپیکر اور گورنر رہنے کے باوجود ضلعی ہیڈکوارٹر کو بجلی فراہم نہ کر سکے۔ لوگ آج کے اس جدید دور میں بھی روشنی سے محروم ہیں۔ یہ وہی ہنزہ ہے جس کو دیکھنے نہ صرف پاکستان بھر سے بلکہ دنیا بھر سے لوگ آتے ہیں۔ ان لوگوں کو سہولت فراہم کرنے میں ہم بری طرح ناکام ہوٰے ہیں۔ مختلف وجوہات ہیں لیکن بنیادی وجہ حکومت کی جانب سے ترقیاتی کاموں پر توجہ نہ ہونا ہے۔ بہت سارے مواقع حکومت کی مدد سے پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے لیے سیاسی نمائندوں اور سیاسی جدوجہد کی ضرورت ہے جو حکومتی دروازوں پر دستک دے۔

ایک طرف سیاحت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے تو دوسری طرف سی پیک میں پیدا ہونے والے مواقعوں میں یہاں کے بےروزگار نوجوانوں کو کاروبار کرنےکے مختلف مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے چاہے وہ حکومت سے یا نجی شعبے کی جانب سے ہو۔ اس کے لئے نڈر اور ایماندار سیاسی رہنماؤں کی ظرورت ہے نہ کہ الیکشن میں موسمی پرندوں کی طرح امیدوار۔

اگلے سال گلگت بلتستان میں پھر الیکشن ہونے والے ہیں۔ جس کے لئے ہنزہ میں مسلم لیگ ن، پی پی پی، پی ٹی آئی اور عوامی ورکرز پارٹی اور کچھ آزاد امیدوار قسمت آزمائی کریں گے۔ نوجوانوں کو ابھی سے اپنے مستقبل کے لیے کچھ فیصلے کرنے ہونگے۔ اس کے لیے لازم ہے کہ ہنزہ کا ہر نوجوان متحرک ہو اور سیاسی پارٹیوں کہ حصہ بنیں۔ جس بھی پارٹی کے نظریات اور سیاست آپ کو پسند آئے اس میں ایک نئے سوچ اور عزم کے ساتھ شامل ہو، اور ان پارٹیوں کے پلیٹ فارم سے آواز بلند کریں اور علاقے کے مسائل کو اربابِ اختیار تک پہنچانے کی کوشش کریں۔

آج یہ عزم کریں کہ آنے والے الیکشن میں ووٹ بینرز کو نہیں بلکہ امیدوار کے قابلیت اور سیاسی بصیرت کو دیا جائے۔ ووٹ زبان، علاقہ، اور قبیلوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ ہنزہ کے مشترکہ مفادات اور طبقاتی بنیاد پر دیا جائے۔ اس کے لئے لازمی ہے کہ نوجوان نسل سب تفریق سے بالاتر ہو کر ہنزہ کے مشترکہ مفادات کے لیےمتحد ہو کر اپنےزور داراور مدلل انداز میں اپنی بات رکھیں اوراپنا سیاسی اور معاشرتی فرض ادا کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں