آغا خان ہیلتھ چترال کے تحت چلنے والے سرکاری ہسپتالوں میں مبینہ بے قاعدگی کا انکشاف

ابھی تک سرکاری خزانے سے ان ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی خالی آسامیوں کو پر کرنے اور ادویات وغیرہ کی فراہمی کیلئے کروڑوں روپے دئے گئے ہیں مگر ان کا کوئی حساب نہیں۔ تین ہسپتالوں کو ملنے والی مفت سرکاری دوائی غریب مریضوں کو فروخت کرنے کا انکشاف.

رپورٹ: گل حمادفاروقی

آغا خان ہیلتھ سروس کے تحت چلنے والے چترال کے تین سرکاری ہسپتالوں میں سنگین بے قاعدگیاں، سہولتوں کی کمی اور غریب مریضوں کو مفت علاج کے لئے مختص فنڈ میں خرد برد کی الزامات۔ غریب عوام غیر مطمئن اور پریشان- سماجی کارکنوں اور عوامی نمایئندوں نے شکایات کے انبار لگا دیئے.
دستاویزات اور مریضوں اور ہسپتال کے انتظامیہ سے بام دنیا کے نمایندہ کی گفتکو اور تحقیقات سے یہ بات واضح ہو گیا کہ مذکورہ غیر سرکاری تنظیم معاہدہ کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوے ہیں.

AKHSP-run Tehsil HQ Hospital, Garamchashma Chitral

تفصیلات کے مطابق خیبر پختونخواء حکومت نے آغا خان ہیلتھ سروسز کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے تھے جس کے تحت تین سرکاری ہسپتالوں کو پبلک-پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت اس تنظیم کے حوالے کیا گیا تھا.تاکہ وہ چترال کے عوام کو علاج معالجہ کی میعیاری سہولتیںفراہم کر سکیں- سب سے پہلے دیہی مرکز صحت شاہگرام کو 2005ء میں آغا خان ہیلتھ کے حوالہ کیا گیا تھا۔اس ہسپتال میں 11 اسٹاف (ڈاکٹر، نرس، ڈسپنسر، پیرا میڈیک وغیرہ) کام کرتے ہیں جن کو سرکاری خزانے سے تنخواہیں دی جاتی ہیں۔

ضلعی حکومت اور AKHSP کے درمیان باقاعدہ ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے گئے- اس مفاہمتی یادداشت پر ضلعی حکومت کی جانب سے ڈپٹی کمشنر، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر، سیکرٹری ہیلتھ، ڈی جی ہیلتھ وغیرہ نے دستحط کئے جس کے تحت ہسپتال میں آسامیاں پر کرنے، مریضوں کو مفت ادویات کی فراہمی، لیباریٹری ٹیسٹ اور ایکسرے وغیرہ کیلئے حکومتی خزانے سے تقریبا ساڑے تین کروڑ روپے 34.60 ملین روپے پانچ سال (2013- 2018) کے دوران دیا گیا۔اس معاہدہ کے تحت ایک ہیلتھ کمیٹی تشکیل دیا گیا تھا جس کے ذمے ان ہسپتالوں میں فیس کا تعین کرنا تھا. ہسپتال کے ذرائع سے معلوم ہوا کہ اس معاہدے کی سراسر حلاف ورزی ہورہی ہے ۔

ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر چترال کے دفتر سے موصولہ دستاویزات کے مطابق ان ہسپتالوں میں جن ڈاکٹروں، نرسوں وغیرہ کی آسامیاں خالی ہیں ان پر بھرتی کرنے، مر یضوں کو مفت ادویات دینے، لیباریٹری، ایکسرے کے سامان، مرمت وغیرہ کے مد میں سال 2010 سے 2018 تک 30.784 ملین روپے AKHSP کو دئے گئے ہیں۔

اس کے بعد دیہی مرکز صحت مستوج بھی اسی غیر سرکاری تنظیم کے حوالہ کیا گیا ہے جہاں19 سرکاری ملازمین متعین ہیں جن کو قومی خزانے سےتنخواہیں دی جاتی ہیں- ڈاکٹروں کی کمی پورا کرنے، مفت ادویات فراہم کرنے کیلئے محکمہ صحت نے AKHSP کو سال2014 سے 2018 تک 13.181 ملین روپے دئے ہیں۔

اس کے بعد تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال گرم چشمہ بھی AKHSP کے حوالہ کیاگیا جہاں 47 سرکاری عملہ جن میں ڈاکٹرز، نرسز وغیرہ شامل ہیں ڈیوٹی سر انجام دیتے ہیں جبکہ AKHSP کا اپنا صرف 23 عملہ ہیں۔

گرم چشمہ ہسپتال میں تعینات ایک ملازم نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ یہاں نہ تو کسی غریب مریض کے ساتھ رعایت کی جاتی ہے نہ عملہ کے ساتھ۔ملازم نے بام دنیاء کو بتایا کہ "میری بیوی کی سی سیکشن آپریشن کیا گیا جس کیلئے مجھ سے 36000 روپے لئے گئے”۔

سرکاری ہسپتال میں اگر او پی ڈی کی رسید دس روپے کا ملتا ہے تو یہاں 170 روپے لیا جاتا ہے. سپیشلسٹ ڈاکٹر کا پرچی بھی 280 روپے کا ملتا ہے۔سرکار کی طرف سے جو مفت ادویات ملتی ہے AKHSP کے انتظامیہ ان ادویات کو غریب مریضوں کو فروخت کرتا ہے اور کسی کو مفت دوائی نہیں دیتے یہاں تک کہ ایکسرے کیلئے فلم اور سامان بھی سرکار دیتے ہیں مگر ان کی بھی بہت بھاری فیس وصول کی جاتی ہے۔ لیباریٹری ٹیسٹ، ایکسرے، الٹرا ساؤنڈ وغیرہ کی فیس ڈیڑھ سو سے لیکر چھ سو روپے تک وصول کی جاتی ہے۔
اسی ہسپتال کے ایک ڈاکٹر نے انکشاف کیا کہ ان پر ادارے کی جانب سے دباؤ ڈالاجاتا ہے کہ مریضوں کو ضرور لیبارٹری ٹیسٹ، ایکسرے اور الٹرا ساؤنڈ کیلئے ریفر کیا کرے تاکہ انکو زیادہ پیسے مل جائے اور ان ڈاکٹروں کو بھی بیس فی صد کمیشن دی جاتی ہے۔

تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال گرم چشمہ کے ہیلتھ کمیٹی کے چئیرمین اسلام الدین جو سابقہ سنئیر بیوروکریٹ رہ چکے ہیں نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ "جب میں نے دیکھا کہ AKHSP کے انتظا میہ عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیتے ہیں اور سرکاری دوائی بھی فروخت کرتے ہیں تو میں نے احتجاجاً اپنے عہدے سے استعفےٰ دیا۔”
ہسپتال میں کام کرنے والے نرسوں کا کہنا تھا کہ لیباریٹری میں ڈاکٹر نہیں ہیں صرف ٹیکنیشن سے کام لیا جاتا ہے۔

اس علاقے کے ایک سابقہ کونسلر نے کہا کہ ہسپتال میں فیس بہت زیادہ لی جاتی ہے- عوام کو کوئی رعایت نہیں دی جاتی ہے.

ہسپتال کے میڈیکل انچارج نے ‘بام دنیاء’ کو بتایا کہ اسپتال میں زیادہ تر عملہ سرکاری ملازم ہیں- غریب مریضوں کی امداد کیلئے مذکورہ آفیسر اپنے دوستوں سے دوائی لاکر ان کو مفت دیتے ہیں۔

اس علاقے کے سابقہ ناظم عبد القیوم نے کہا کہ AKHSP والے غریب عوام کو لوٹ رہے ہیں- سرکار کی طرف سے عوام کیلئے مفت ادویات آتے ہیں مگر ہسپتال کا عملہ ان کو مریضوں کوفروخت کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ "میں نے آغا خان ہیلتح کے انتظامیہ کے خلاف چیف سیکرٹری خیبر پختنخواہ، وزیر اعظم، سیکرٹری ہیلتھ، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ، ڈپٹی کمشنر، ڈسٹرک ہیلتھ آفیسر وغیرہ کو باقاعدہ تحریری شکایتیں کی ہیں مگرکوئی خاطر خواء نتیجہ نہیں نکلا۔ان لوگوں کے اتنے لمبے ہاتھ ہیں کہ ضلعی انتظامیہ ان کے سامنے بے بس نظر آتا ہے. اور ان کے خلاف کوئی کاروائی نہں کرسکتا۔

چند ناظمین نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ AKHSP والے افسران بالا ، سیکرٹری ہیلتھ، چیف سیکرٹری کو آغا خان فاونڈیشن کے ہیلی کاپٹر میں سیر سپاٹا کرواتے ہیں بڑے بڑے ہوٹلوں میں ان کی دعوت کراکے ان کو خوش کرتے ہیں اور وہ عوام کے پیٹ میں چھرا گھونپ دیتے ہیں ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کرتے۔

ہمارے نمائندے نے سابقہ چار ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز سے رابطہ کرکے ان کا موقف جاننے کی کوشیش کیں تو ان کا کہنا تھا کہ وہ بے بس ہیں جب AKHSP کو دینے والے فنڈ میں تھوڑی سی تاخیر ہوتی ہے تو ان کیلئے اوپر سے فون آتا کہ ان کو یہ فنڈ جلدی ریلیز کریں۔

اس سلسلے میں ہمارے نمائندے نے AKHSP کے منیجر معراج خان سے بھی ان کا موقف جاننے کی کوشش کی مگر انہو ں نے کیمرے کے سامنے انٹرویو دینے اور تحریری موقف دینے معذرت کرلی۔
تاہم اس نے زبانی طور پر بتایا کہ ان کا ادارہ خسار ے میں چل رہا ہے۔ مگر جب ان کو اسی ادارے کا ایک ثبوت دیا گیا جس میں دسمبر 2018 میں گرم چشمہ کے ہسپتال کو تقریباً بارہ لاکھ روپے سے زیادہ منافع ہوا تھا تو اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ اسی طرح اس نے سرکاری سٹاف کی تعداد بتانے سے بھی معزوری ظاہرکی۔
اس ہسپتال کو پاکستان بیت المال اور محکمہ زکواۃ سے ملنے والی فنڈ الگ ہے مگر اس کے بارے میں انہوں نے کچھ نہیں بتایا۔

مستوج میں ڈپٹی کمشنر کے کھلی کچہری میں لوگوں نے ان ہسپتالوں کے خلاف شکایات کے انبھار لگائے مگر ان پر کوئی کاروائی نہیں ہوئی۔دسمبر 2018 میں یہ معاہدہ ختم ہوچکا ہے مگر ابھی تک سرکاری خزانے سے اس NGO کو ان ہسپتالوں کیلئے کروڑوں روپے کا فنڈ دیا جاتا ہے۔
چترال کے سیاسی اور سماجی حلقوں نے چیف جسٹس آف پاکستان، چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ، وزیر اعظم پاکستان، چئیرمین نیب، وزیر اعلی سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سلسلے میں ایک غیر جانبدار کمیٹی تشکیل دی جائیے اور تمام معاملات کی شفاف طریقے سےAKHSP کو دیے گیے کروڑوں روپے کے فنڈ کی تحقیقات کی جائے اور جو ڈاکٹر بھرتی نہیں کئے گئے اور سرکار کی طرف سے مفت ادویات کی فروخت کی بھی تحقیقات ہوں۔ نیز ان ہسپتالوں میں موجود کوارٹرز کا کرایہ بھی ابھی تک نہیں دیا گیا ہے اور نہ ان ہسپتالوں سے لیبارٹری، ایکسرے، الٹرا ساؤنڈ وغیرہ کے مد میں وصول کیے گئے فیس کی رقم بھی سرکاری خزانے میں واپس جمع نہیں کیا گیا۔ اس فنڈ کو ان سے واپس لے کر سرکاری خزانے میں جمع کیا جائے اور ان کو پابند کیا جائے تاکہ وہ اس فنڈ میں خوردبرد نہ کرے اور اسے ایمانداری سے عوام پر خرچ کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں