108 میگاواٹ کے گولین گول پاور ہاؤس سے صرف سات میگاواٹ بجلی پیدا ہونے کا انکشاف

108 میگاواٹ کے گولین گول پاور ہاؤس سے صرف سات میگاواٹ بجلی پیدا ہونے کا انکشاف
رپورٹ: کریم اللہ
گولین آبی نالے پر تعمیر شدہ 108 میگاواٹ پیداواری صلاحیت کے حامل گولین گول ہائیڈرو پاؤر ہاؤس سے صرف 7 میگاواٹ بجلی پیدا ہورہی ہے ، جس کے باعث اپر چترال کے لئے بجلی کی فراہمی مستقلا تعطل کا شکار ہے ۔ اور علاقے میں بیس بیس گھنٹوں سے بجلی غائب رہتی ہے جس کے باعث معمولات زندگی بری طرح متاثر ہو کر رہ گئی ہے ۔جب گولین گول پاور ہاوس کے حکام سے اس بابت بات کی تو انہوں نے تصدیق کی کہ پانی کی کمی اور شدید سردی کے باعث گولین گول بجلی گھر سے اوسطا صرف 7 میگاواٹ بجلی پیدا ہورہی ہے ، جبکہ حالیہ برف باری کے بعد لواری میں ٹرانزمین لائین کے تین پول گر گئے ہیں جس کی وجہ سے ملاکنڈ سے چترال کے لئے بجلی کی فراہمی منقطع ہوچکی ہے ۔ریذیڈنٹ انجینئر ریشن پاؤر ہاوس نے بھی اس کی تصدیق کی ۔ انہوں نے بتایا کہ جب واپڈا کے صارفین سے کچھ بجلی بچ جاتی ہے تو پیڈو کے صارفین کو دیا جاتا ہے جو کبھی 700 کلوواٹ تو کبھی 1 میگاواٹ تک پہنچ جاتی ہے ۔ آر ای ریشن پاور ہاوس سے جب پیدو اور پیسکو کے درمیان کسی معاہدے کے ہونے یا نہ ہونے کے بابت پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ فروری 2018ء سےواپڈا پیڈو کے ذریعے اپر چترال کو بجلی فراہم کرتے آئے ہیں بغیر معاہدے کے تو اتنے طویل عرصے تک اپر چترال کو وہ کس طرح بجلی دے رہے ہیں؟ اس سلسلے میں ضرور معاہدہ ہوا ہوگا۔ اپر چترال میں جاری بجلی بحران کے حوالے سے جب سابق ممبر تحصیل کونسل اور پی ٹی آئی کے رہنما سردار حکیم سے پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے سیکرٹری پاور سے ملاقات کی تھی اور ہماری کوشش ہے کہ پیڈو اور پیسکو کے اعلی حکام کے ساتھ مل کر میٹنگ کیا جائے تاکہ یہ سنگین مسئلہ جلد از جلد حل ہوجائے ، اس میٹنگ میں ایم این اے چترال مولانا عبدالاکبر چترالی اور ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بھی موجود تھے، اور ہم اس گھمبیر مسئلے کو حل کرنے کےلئے اپنی تئین جدوجہد کررہے ہیں۔
108 میگاواٹ پیداواری صلاحیت کے حامل گولین گول پاور ہاوس پر کام کا آغاز 2011ء میں ہوا تھا اور جنوری 2018ء میں پایہ تکمیل کو پہنچا ۔
اس بجلی گھر پر 16 بلین 34 ارب 85 کروڑ 92 لاکھ 32 ہزار آٹھ سو روپے خرچ ہوئے تھے ۔ مگر اب اطلاع یہ آرہی ہے کہ اس پاور ہاوس سے محض 7 میگاواٹ بجلی پیدا ہورہا ہے ۔
حکومت نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ 108 میگاواٹ پیداواری صلاحیت کے حامل اس بجلی گھر سےسالانہ 3 ارب 70 کروڑ روپے کے آمدنی حاصل ہوگی مگر موسم سرما میں اس پیداوار گٹ کر محض 7 میگاواٹ تک گرنا بہت سارے سوالات کو جنم دیا ہے ۔جو کہ نہ صرف انجینئرنگ کی ناکامی کا منہ بولتاثبوت ہے بلکہ یہ اس خطیر سرمائے کا بھی ضیاع ہے جو اس پراجیکٹ پر خرچ آئی ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں