صنفی مساوات میں پاکستان دنیا کے 3 بدترین ممالک میں شامل

بام جہان رپورٹ

پاکستان کو صنفی مساوات کے انڈیکس میں دنیا کے تین بدترین ممالک میں شمار کیا گیا ہے جہاں پاکستان اس فہرست میں صرف عراق اور یمن سے آگے ہے۔

ورلڈ اکنامک فورم نے صنفی مساوات کی 2020 کی رپورٹ جاری کردی ہے جس میں پاکستان دنیا کے 153 ممالک کی فہرست میں 151ویں نمبر پر موجود ہے۔

اسکور کارڈ کے مطابق پاکستان معیشت میں شرکت اور مواقع کی فراہمی میں اسکور 150، تعلیمی مواقع میں 143، صحت اور بقا کی جنگ میں 149 اور سیاسی اختیارات میں 93 نمبر پر موجود ہے۔

پاکستان کی گزشتہ سالوں میں رینکنگ انتہائی تیزی سے نیچے آئی ہے جہاں 2006 میں پاکستان اس انڈیکس میں 112ویں نمبر پر موجود تھا اور 2020 کے انڈیکس میں 151 پر پہنچ چکا ہے۔


فوٹو بشکریہ ورلڈ اکنامک فورم

اسی طرح ملک کی اسی دورانیے میں معیشت میں شرکت اور مواقع میں رینکنگ گر کر 112 سے 150 ہوگئی، صلح اور بقا کی جنگ میں 112 سے 149، سیاسی اختیارات میں 37 سے 93 نمبر پر پہنچ گیا ہے۔

رپورٹ میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ کام کی جگہوں پر خواتین اور مردوں کے درمیان صنفی مساوات کا خلا صرف 32.7 فیصد تک کم ہو سکا ہے۔

صحت اور بقا کی جنگ کے شعبے میں خلا 94.6 فیصد تک بڑھ گیا ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ خواتین کو مردوں کی طرح یکساں سہولیات میسر نہیں۔

انڈیکس میں شامل دیگر جنوبی ایشیائی ممالک میں بنگلہ دیش 50ویں نمبر کے ساتھ سرفہرست ہے اور اس کے بعد 100ویں نمبر تک کوئی بھی جنوبی ایشیائی ملک فہرست میں موجود نہیں۔

صنفی مساوات میں آئس لینڈ پہلے نمبر پر موجود ہے— فوٹو بشکریہ ورلڈ اکنامک فورم

دیگر ممالک میں نیپال کا 101، سری لنکا کا 102، بھارت 112، مالدیپ 123 اور بھوٹان 131ویں نمبر پر موجود ہیں۔

جنوبی ایشیا میں صنفی مساوات کم ہو کر دو تہائی ہو گیا ہے جہاں اس خطے میں 86کروڑ سے زائد خواتین رہتی ہیں جن میں سے تین چوتھائی بھارت میں رہائش پذیر ہیں۔

مزید پڑھیں: صنفی مساوات کے اعتبار سے پاکستان دنیا کا دوسرا بدترین ملک قرار

دنیا بھر کے دیگر خطوں کے مقابلے میں جنوبی ایشیا میں صنفی مساوات میں بڑھتا ہوا خلا مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے بعد دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ ہے جہاں ان خطوں میں خلاف 61فیصد تک کم ہوا ہے۔

2006 کے بعد جنوبی ایشیا کے خطے نے سب سے زیادہ ترقی کی ہے اور 6فیصد پوائنٹس حاصل کیے ہیں اور اگر گزشتہ 15سال کے دوران ہونے والی ترقی کی یہ شرح برقرار رہی تو خواتین اور مردوں کے درمیان خلا کو پُر ہونے میں 71سال لگیں گے۔

پارلیمنٹ اور کابینہ میں خواتین کی نمائندگی کی بات کی جائے تو جنوبی ایشیائی ممالک کی کارکردگی دیگر ابھرتے ہوئے ممالک کی کارکردگی سے مطابقت رکھتی ہے، مثلاً جن 7 ممالک کا جائزہ لیا گیا ہے ان میں سری لنکا کے علاوہ بقیہ تمام ممالک میں پارلیمنٹ میں خواتین کی شرح 20فیصد سے زیادہ ہے۔

اس انڈیکس کے سرفہرست 10ممالک کی بات کی جائے تو یورپ کا غلبہ واضح طور پر نظر آتا ہے جہاں فہرست میں پہلے نمبر پر آئس لینڈ موجود ہے جبکہ دوسرے نمبر پر ناروے اور تیسرے پر فن لینڈ ہے۔

اس رینکنگ میں سب سے زیادہ نمایاں بہتری اسپین نے دکھائی جو 21 درجے ترقی کر کے آٹھویں نمبر پر پہنچ گیا ہے جبکہ جرمنی بھی 4درجے ترقی کر کے سر فہرست 10 ممالک میں جگہ بنانے میں کامیاب رہا۔
بشکریہ: ڈان اردو نیوز

اپنا تبصرہ بھیجیں