رپورٹ: عنایت ابدالی
گلگت: بلوچستان میں ہونے والی پولیس گردی پر انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان کو فوری برطرف کیا جائے اور گرفتار ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل سٹاف کو فوراّ رہا کیا جائے ۔
ان خیالات کا اظہار پیرا میڈیکل ایسوسی ایشن ضلع گلگت کے صدر شاہد حسین نے آج کوِئٹہ میں ہونے والی پولیس تشدد کے خلاف بلائے جانے والے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا.

انھوں نے کہا کہ جن حالات سے ملک گزر رہا ہے اور کرونا کےخلاف بے سروسامانی کے عالم میں صف اول میں لڑنے والے انقلابیوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا گیا ہے وہ کسی حال میں بھی قابل برداشت نیں.
انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری مداخلت کریں اور بلوچستان کے ڈاکٹروں کےمطالبات فوری منظور کرے اور پر امن مظاہریں کے خلاف لاٹھی چارچ کرنے والے پولیس افسران کےخلاف قانونی کاروائی کریں.

ڈاکٹر حسین نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات منظور نہیں کئے گئے تو وہ پورے پاکستان میں احتجاجی اور دہرنے دیں گے۔

اس سے قبل حالات کو کنٹرول کیے جائے اور ینگ ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف کے مطالبات منظور کرکے ان کو رہا کیا جائے۔
ہم گلگت بلتستان کے تمام پیرامیڈک سٹاف کے حق میں آواز بلند کرتئ رہیں گے۔
ضلعی سکرٹری اطلاعات گلگت
دریں اثنا ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن گلگت بلتستان کے صدر ڈاکٹر اعجاز ایوب اور جنرل سیکرٹری ڈاکٹر رضا انصاری نے کہا کہ ان کی تنظیم کوئٹہ میں بُنیادی حفاظتی سامان اور طبی آلات کے لیے پُرامن احتجاج کیا جا رہا تھا جس پر بد ترین ریاستی جبر کیا گیا اور لگ بھگ 150 ڈاکٹرز اور دیگر اسٹاف کو گرفتار کیا گیا ہے ۔

ڈاکٹر ایوب نے کہا کہ اس وقت ینگ ڈاکٹرز اور طبی عملہ اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر ہر اوّل دستے کے طور پر کورونا کی وبا کا مُقابلہ کر رہے ہیں اور مریضوں کے علاج پر معمور ہیں ۔

حفاظتی سامان کی قلت اور محدود طبی وسائل کے باوجود بھی ڈاکٹرز اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں ۔
ڈاکٹر ایوب نے افسوس کا اظہار کیا کہ حکومتی نااہلی اور حفاظتی سامان مُہیا نا ھونے کی وجہ سے اب تک بلوچستان میں پندرہ ڈاکٹروں کو کرونا انفیکشن ھو چُکا ہے اور سینکڑوں ڈاکٹروں کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے۔
وائی ڈی اے گلگت بلتستان ، ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے مُطالبات کی حمایت کرتے ہوئے مُطالبہ کرتی ہے کہ گرفتار ڈاکٹروں کو فلفور رہا کیا جائے اور وزیر صحت بلوچستان، ھیلتھ سیکرٹری بلوچستان اور آئی جی بلوچستان کو نا اھل قرار دیتے ہوئے عہدوں سے فوری طور پر ھٹایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم حکومت بلوچستان کو رات 12 بجے تک کا الٹی میٹم دیتے ہیں کہ گرفتار ڈاکٹرز،نرسز ،پیرا میڈکس کو فوری رہا کیا جائے ورنہ تحریک کا دائرہ کار گلگت بلتستان سمیت پورے پاکستان تک پھیلا دیا جائے گا جس کی ذمہ داری بلوچستان کی صوبائی حکومت پر عائد ہوگی اور ہم اپنے ینگ ڈاکٹرز اور ہسپتالوں کے عملے کی حفاظت کی خاطر آخری حد تک جائیں گے ۔
[00:26, 07/04/2020] Inayat Abdali:

اپنا تبصرہ بھیجیں