رپورٹ: فرمان بلتستانی

اسکردو: آئس لینڈ کے نوجوان کوہ پیماء جان اسنوری سمیت گلگت-بلتستان کے نامور کوہ پیماء محمد علی سدپارہ اور ان کے بیٹے ساجد علی اس وقت دنیا کی توجہ کو مرکز بنے ہیں.

وہ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کو موسم سرما میں کم سے کم وقت میں بغیر آکسیجن سر کر کے نئی عالمی ریکارڈ قائم کرنا چاہتے ہیں.
سوشل میڈیا پر دنیا بھر سے نیک خواہشات کے پیغامات موصول ہو رہے ہیں.
سوشل میڈیا پہ کے ٹو سرمائی مہم جوئی ٹاپ ٹرینڈ بن گئی ہے۔

دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی پر ان دنوں سرمائی مہم جوئی عروج پر ہے. دنیا بھر کے کوہ پیماؤں کی بڑی تعداد اس چوٹی کو سر کرنے کے لئے بیس کیمپ پہنچے ہوئے ہیں.

مہم جوئی کے سلسلے میں پاکستانی کوہ پیماؤں محمد علی سدپارہ اور ان کے بیٹے ساجد علی اور آئس لینڈ کے جان اسنوری پر مشتمل ٹیم نے ہفتے کی شب 9 بجے کے ٹو بیس کیمپ سے مہم جوئی کا آغاز کیا تھا.
کوہ پیماؤں کی ٹیم آج کے ٹو پر کیمپ 3 پہنچنے میں کامیاب ہوگئے.

سوشل میڈیا پر کوہ پیماؤں کی جانب سے جاری پیغام میں کہاہے کہ وہ کیمپ 3 پر مختصر قیام کے بعد مہم جوئی جاری رکھیں گے.

ذرائع کے مطابق پاکستانی کوہ پیماؤں پر مشتمل ٹیم بغیر وقفے کے آج رات بھی مہم جوئی جاری رکھیں گے کوہ پیماؤں کی جانب سے طے شدہ منصوبہ بندی کے مطابق 25 جنوری کی صبح 9 بجے تک کے ٹو سر کرکے اس کی چوٹی پر سبز ہلالی پرچم لہرائیں گے

اپنا تبصرہ بھیجیں